سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نام و نسب خاندان اور…

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نام و نسب خاندان اور فضائل و مناقب

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 3 از 4

نبی کریمﷺ کے ’’حسنین‘‘ نام رکھنے میں کئی اہم اسباق ہیں، جن سے گھر، خاندان اور قبیلہ کے ذمہ دار حضرات اکثر غافل رہتے ہیں۔ چنانچہ وہ بچوں کا نام رکھنے میں کوئی پروا نہیں کرتے یا پھر اپنے باپ دادا کی رسموں کی پیروی کرتے ہیں چاہے، وہ نام جنابِ رسول اللہﷺ کی سیرت سے کتنے ہی دُور کیوں نہ ہوں۔ بعض لوگ بچوں کا نام رکھنے میں سنتِ نبویہ اور عربی تشخص کا کوئی خیال نہیں رکھتے اور اہل مشرق یا اہل مغرب جیسے نام رکھ دیتے ہیں، چاہے ان کا اسلامی مفاہیم اور صفاتِ حمیدہ سے دُور کا بھی واسطہ نہ ہو۔

اس لیے ہمیں بچوں کا نام رکھنے میں نبی کریمﷺ کی ان نصیحتوں کو سامنے رکھنا چاہیے، نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

’’پیغمبروں کے ناموں پر نام رکھو اور اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں اور سب سے سچے نام حارث اور ہمام ہیں اور سب سے برے نام حرب اور مرہ ہیں۔‘‘(سنن ابی داود: 4950 علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے سوائے اس جملہ کے ’’پیغمبروں کے ناموں پر نام رکھو۔‘‘ (الادب المفرد للبخاری: 816))

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک آدمی کا بیٹا پیدا ہوا، اس نے اس کا نام قاسم رکھ دیا تو ہم نے کہا: ہم تمہیں ابو القاسم کہہ کر نہ پکاریں گے اور کوئی کراہت نہیں۔ نبی کریمﷺ کو جب اس بات کی خبر دی گئی، تو فرمایا: ’’اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمٰن رکھو۔‘‘ (الادب المفرد للبخاری: 815 علامہ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے)

نبی کریمﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آپﷺ کی کنیت پر کوئی اپنی کنیت رکھے۔ چنانچہ فرمایا: ’’میرے نام پر اپنے نام رکھو، البتہ میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو اور جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا اور جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘ (صحیح البخاری: 110)

اس ممانعت کی وجہ یہ ہوئی کہ بقیع میں ایک شخص نے کسی کو ابو القاسم کہہ کر پکارا تو آپﷺ نے مڑ کر اسے دیکھا، اس آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے آپ کو نہیں بلایا تھا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’میرے نام پر نام رکھو البتہ میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو۔‘‘ (صحیح البخاری:2014-2015) اور فرمایا: ’’میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت مت رکھو، بے شک میں قاسم (تقسیم کرنے والا) ہوں اور میں تم لوگوں میں تقسیم کرتا ہوں۔‘‘ (صحیح مسلم: 2131)

نبی کریمﷺ نے اچھے نام رکھنے کا حکم دیا۔ اسی لیے آپﷺ نے سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کا نام حرب سے بدل کر ’’حسین‘‘ رکھا۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت منذر بن اسید رضی اللہ عنہ جب پیدا ہوئے، تو انہیں نبی کریمﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ آپﷺ نے انہیں اپنی ران پر رکھا اور اپنے سامنے رکھی کسی چیز کی طرف متوجہ ہو گئے (اور ذرا دیر کو سو گئے) اس پر ابو اسید رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو نبی کریمﷺ کی ران سے اٹھا لیا۔ جب نبی کریمﷺ متوجہ ہوئے تو دریافت فرمایا: ’’بچہ کہاں ہے؟‘‘ ابو اسید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے اسے واپس کر دیا ہے۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا: ’’اس کا نام کیا ہے؟‘‘ ابو اسید رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ ’’فلاں ‘‘۔ تو آپﷺ نے فرمایا: ’’نہیں بلکہ اس کا نام منذر ہے۔‘‘ پس ابو اسید رضی اللہ عنہ نے اس دن سے اپنے بچے کا نام منذر رکھ دیا۔ (الادب الفرد للبخاری: 816 علامہ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے)

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عاصیہ کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا تھا۔ (الادب المفرد: 820 علامہ البانی رحمتہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے)

نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: ’’اللہ کے نزدیک سب سے برا نام اس شخص کا ہے جس نے اپنا نام ’’ملک الاملاک‘‘ (شاہِ شاہ ہاں ) رکھا ہو۔‘‘ (الادب المفرد: 817 علامہ البانی رحمتہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے)

محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں: میں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے ساتھ میری بہن تھیں، انہوں نے مجھ سے میری بہن کا نام پوچھا، میں نے بتلایا کہ اس کا نام برہ ہے، تو انہوں نے کہا: یہ نام بدل دو کہ کیونکہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا، جب نبی کریمﷺ نے ان سے نکاح فرمایا، تو ان کا نام بدل کر زینب رکھ دیا۔ (الادب المفرد للبخاری: 821 علامہ البانی رحمتہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے)

یہ نصوص بتاتی ہیں کہ ایک نام کی جگہ اس سے زیادہ اچھا نام بھی رکھ سکتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہیں سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ جس نے برا نام رکھا ہو یا وہ نام مسلمانوں کے مناسب نہ ہو اس کے پاس اس برے نام سے چھٹکارا پانے اور سنت نبویہ کی پیروی کرنے کے لیے اس نام کے نہ بدلنے کا کوئی عذر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریمﷺ کو پیدا ہونے والے بچے کی طرف سے دی جانے والی قربانی کا نام ’’عقیقہ‘‘ رکھنا بھی پسند نہ تھا۔ کیونکہ اس میں عقوق (نافرمانی) کا معنی پایا جاتا ہے۔ چنانچہ جب نبی کریمﷺ سے عقیقہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپﷺ نے فرمایا: ’’مجھے ’’عقوق‘‘ پسند نہیں۔‘‘ گویا آپﷺ نے عقیقہ نام کو ناپسند فرمایا اور ارشاد فرمایا: ’’جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو کر لے۔‘‘ (الموطأ : 1066 عَقِیْقَۃ: یہ عَقٌّ سے مشتق ہے، جس کے معنی پھاڑنے اور کاٹنے کے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ عقیقہ اصل میں نومولود بچے کے سر کی چوٹی کے ان بالوں کو کہتے ہیں، جن کے منڈوانے پر جانور کی قربانی دی جاتی ہے، یا ان بالوں کو عقیقہ اس لیے کہتے ہیں کہ ان کو نومولود بچے کے سر پر سے کاٹ دیا جاتا ہے۔ عقیقہ کرنا سنت ہے اور سنت یہ ہے کہ جانور ذبح کرنا، سر کے بال مونڈنا اور نام رکھنا یہ سب ساتویں روز کیا جائے۔ کیونکہ ولادت والے دن ہی یہ سب کام کرنے کی بابت کوئی روایت مروی نہیں۔ (صحیح البخاری، باب العقیقۃ: جلد، 5 صفحہ 2080))

صفحہ 3 از 4