سیدنا حسن ؓ کی بیعت کرنا اور پھر ساری کی ساری خلافت سیدنا معاویہ ؓ کی جھولی میں ڈال دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ سیدنا حسن ؓ سیدنا معاویہ ؓ کو خلافت کا اہل سمجھتے تھے۔
مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبندیہ کلپ ہر اس شخص کو سوچنے پہ مجبور کر دے گا جو ذرا سا بھی شعور رکھتا ہے اللہ سے ڈرنے والا ہے۔
سیدنا حسنؓ کی بیعت کرنا اور پھر ساری کی ساری خلافت سیدنا معاویہؓ کی جھولی میں ڈال دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ سیدنا حسنؓ سیدنا معاویہؓ کو خلافت کا اہل سمجھتے تھے۔
ورنہ نواسہ رسولﷺ ہو سیدنا علیؓ کا بیٹا ہو جنت کے نوجوانوں کا سردار ہو جس کے متعلق رسول اللہﷺ کا فرمان عالی شان ہو کہ یہ میرا بیٹا سردار ہے۔
تو کیسے ممکن ہے انہوں نے بغیر کچھ سوچے سمجھے ساری کی ساری خلافت سیدنا معاویہؓ کے سپرد کر کے خود بھی انکی بیعت کر لی ہو۔
رب کعبہ کی قسم! یہ بات ہر اس شخص کو سوچنے پہ مجبور کر دے گی جو ذرا سا بھی شعور رکھتا یے اللہ سے ڈرنے والا ہے۔