شہادت عمر فاروقؓ (تحقیق)
زینب بخاری
*تحقیق تاریخ شہادت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ*
کسی کی تاریخ ولادت یا شہادت میں اختلاف کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن کچھ لوگ اسے بغض اہلبیت بتا کر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں کہ اہلسنت والجماعت نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اصل شہادت تاریخ بدل دی اور وہ اس لئے کہ انہیں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقابلہ کرنا ہے۔ اور اصل تاریخ یکم محرم نہیں بلکہ 26 ذی الحج ہے۔ اور اس پر ایک پوسٹر بنا کر جگہ جگہ پوسٹ کرتے پھر رہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شھادت محرم میں نہیں بلکہ ذی الحج کے مہینے میں ہے۔ سب سے پہلے تو ان روایت کا حال دیکھ لیں۔
♦️ حوالہ جات کی حقیقت♦️
♦️1۔پہلا حوالہ طبقات ابن سعد (ج 3 ص 123 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی) کا ہے۔ اول تو امام ابن سعد نے اس معاملے میں از خود کوئی واضح تاریخ معین نہیں فرمائی۔ دوسرا کہ انہوں نے اس باب کا عنوان ہی یہ بنایا ہے کہ حضرت عمر کی مدت خلافت اور حضرت عمر کی عمر کے متعلق مختلف اقوال۔ پھر ان میں پہلے ترجمۃ الباب کی روایت کمزور ہے۔ ابوبکر بن محمد بن سعد نامی راوی کا تذکرہ کیا تو اس میں اختلاف نہیں کہ وہ مہجول الحال ہے۔ اس طرح سے 26 ذی الحجہ والی روایت نہایت کمزور ہے۔
♦️ 2۔دوسرا حوالہ تاریخ طبری (ج 3 ص 217 تا 218 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی) کا ہے۔ امام طبری نے بھی ابن سعد کی طرح ان کی تاریخ وفات کے اختلاف کا تذکرہ کیا ہے۔ چنانچہ پہلا قول تو 27 ذی الحجہ کا بتایا ہے جو کہ آپ کی بت کے بھی خلاف ہے۔ اور یہ روایت بھی نہایت کمزور ہے کیونکہ اس کے دو راوی سلیمان بن عبد العزیز اور جعفر بن عبد الرحمن تو مجہول الحال ہیں اور ایک راوی عبد العزیز بن عمران متروک ہے۔ دوسرا قول عبد العزیز بن عمران کا ہی ہے جو کہ بغیر کسی جرح کے 1 محرم کا بتایا ہے۔ تیسرا قول وہی ابن سعد کا ہی ذکر کیا ہے کہ 26 ذی الحجہ کو ہوئی لیکن جیسا پہلے واضح ہو چکا کہ وہ روایت انتہائی کمزور ہے۔ چوتھا قول ابو معشر کا 26 ذی الحجہ کا ہے جو احمد بن ثابت الرازی کے طریق سے ہے جو کہ کذاب تھا۔ پانچواں قول ہشام بن محمد کا 27 ذی الحجہ کا ہے جو کہ بلا سند اور منقطع ہے جو نہایت ہی کمزور ہے۔
♦️ 3۔تیسرا حوالہ تاریخ ابن خلدون (ج 3 ص 236 اردو ایڈیشن دار الاشاعت کراچی) کا ہے۔ ابن خلدون نے اگرچہ 27 ذی الحجہ کا بتایا ہے مگر بلا سند ہے اور اس کا مضمون تقریبا وہی ہے جو تاریخ طبری کا پہلا قول ہے جس کی سند نہایت کمزور ہے۔ اگرچہ یہ بھی نہایت ہی کمزور قول ہے لیکن بہرحال آپکی بتائی ہوئی تاریخ کے سے تو مختلف ہے.
♦️ 4۔چوتھا حوالہ تاریخ مسعودی کا ہے۔ علی بن حسین المسعودی شیعہ رافضی ہے جس کا قول ہمارے لئے حجت نہیں۔
♦️ 5۔پانچواں حوالہ تاریخ ابن کثیر (البدایہ والنہایہ ج 7 ص 184 اردو ایڈیشن نفیس اکیڈمی کراچی) کا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے کئی اقوال نقل کر کے پہلے قول ہی کو ترجیح دی ہے جو کہ 1 محرم الحرام کا ہے۔
اس کے علاوہ یہ بات نہایت اہم ہے کہ کم و بیش تقریبا ہر مورخ نے ہی ان پر ابو لولو فیروز کے حملہ کرنے سے شہادت کے دن تک کا درمیانی حصہ تین یا چار دن ذکر کیا ہے۔ ہمارا بھی یہی موقف ہے کہ حضرت عمر پر حملہ 26 یا 27 ذی الحجہ کو ہوا اور ان کی شہادت اس واقعہ کے تیسرے یا چوتھے دن بعد 1 محرم الحرام کو ہوئی اور حجرہ عائشہ میں اسی روز دفن ہوئے۔ اس بارے میں حافظ ابن کثیر کی صراحت اصح ہے۔اگر کوئی قول 26 ذی الحج کا مل بھی جائے تو بھی اس بات سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ دونوں اقوال ملتے ہیں پر مشھور قول جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ امام ابن کثیر اور دیگر آئمہ اہلسنت کے نزدیک یکم محرم ہی ہے۔
*اعتراض
ایک دوست نے ان بکس میں سوال کیا ہے کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ بات غلط مشہور ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی الله عنه کی شہادت یکم محرم الحرام کو ہوئی ... یہ در اصل دشمنان اہل بیت کی طرف سے پھیلایا گیا ہے جھوٹ ہے ..
جواب :
سر دست تین حوالے پیش خدمت ہیں .. جنکے اندر صاف طور پر ذکر ہے کہ حضرت عمر فاروق رضي الله عنه کی وفات محرم کی پہلی تاریخ کو ہوئی تھی ... اور یہی بات مشہور ہے ...
♦️حوالہ نمبر 1:
ابن اثير جزرى اپنی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ "حضرت عمر رضي الله عنه کو جب زخمی کیا گیا تو وہ دن بدھ کا دن تھا، اور ماه ذو الحج ختم ہونے میں تین دن باقی تھے ، اور آپ کی تدفین اتوار کی صبح ہوئی اور اس دن محرم کا پہلا دن تھا " ۔(اسد الغابة في معرفة الصحابة ، ج 4 ص 166)
نوٹ: ابن اثیر نے آگے ایک اور روایت ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ "والاول اصح ما قيل في عمر" کہ پہلی بات جو حضرت عمر رض کے بارے میں کہی گئی ہے وہ زیاہ صحیح ہے (یعنی آپ کی تدفین یکم محرم کو ہوئی تھی)
♦️ حوالہ نمبر 2:
ابو حفص الفلاس کی روایت ہے کہ "ذو الحجة کی چند راتیں باقی تھیں کہ حضرت عمر رضي الله عنه حملے میں زخمی کیے گئے ، اسکے بعد آپ تین راتیں زندہ رہے اور سنہ 24 ہجری کے محرم کی پہلی تاریخ کو آپ کی وفات ہوئی" (تاريخ مدينة دمشق يعني تاريخ ابن عساكر ،ج 44 ص 478)
♦️ *حوالہ نمبر 3:*
"حضرت عبدالله بن زبير رضي الله عنه سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : حضرت عمر رضي الله عنه کو بروز بدھ جب ذو الحج کے تین دن باقی تھے زخمی کیا گیا پھر آپ تین دن تک زندہ رہے پھر اسکے بعد آپ کی وفات ہوئی" (كتاب المحن ، صفحه 66)
*ایک_عجوبہ* :
میں اسی موضوع پر تحقیق کرتے کہ حضرت عمر رضي الله عنه کی وفات کس تاریخ کو ہوئی تو ایک كتاب میں یہ الفاظ ملے ..کتاب کا مصنف "رافضی" ہے اور متشدد قسم کا رافضی ہے ... نام ہے "نعمت الله جزائرى" لکھتا ہے کہ :
"دوسرے کا قتل 9 ربيع الاول کو ہوا" (دوسرے مراد خلیفہ دوم ہیں) (الانوار النعمانية ، جلد 1 صفحه 84)
اور اس پر مزید مزے کی بات یہ ملی کہ اس کتاب پر حاشیہ میں یہ لکھا گیا کہ "قتل عمر في اليوم التاسع منه كان مشهوراً بين الشيعة" یہ بات شيعه میں مشھور تھی کہ حضرت عمر (رض) کا قتل 9 ربيع الاول کو ہوا تھا۔۔
♦️ *ادارہ دارالتحقیق ودفاع الصحابہؓ*♦️