Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

آل بیت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کون ہیں؟

  حامد محمد خلیفہ عمان

آلِ بیت نبوی وہ لوگ ہیں، جن پر صدقہ اور زکوٰۃ کا مال لینا حرام ہے۔ یہ نبی کریمﷺ کی ازواج، آپﷺ کی ذریت اور بنی ہاشم بن عبد مناف کا ہر مسلمان مرد اور عورت ہے۔ چنانچہ جب حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریمﷺ کی خدمت میں اس بات کا مطالبہ لے کر گئے کہ انہیں بھی صدقات پر عامل بنا دیا جائے تو آپﷺ نے انہیں یہ ارشاد فرمایا: ’’بے شک آلِ محمد کے لیے صدقہ جائز نہیں، یہ تو لوگوں (کے مالوں ) کی میل کچیل ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: 1072)

امام شافعی اور امام احمد وغیرہ نے صدقہ کی تحریم میں بنی مطلب کو بھی بنی ہاشم کے ساتھ ملحق کیا ہے کیونکہ مالِ غنیمت کے حُمسِ خمس کے دئیے جانے میں بنی مطلب بھی بنی ہاشم کے شریک ہیں۔ اس کی دلیل یہ روایت ہے:

بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت جبیر بن مطعم اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما غزوۂ حنین کے خمس کے بارے میں بات کرنے کے لیے خدمت نبویﷺ میں حاضر ہوئے جس کو بنی مطلب اور بنی ہاشم کے درمیان تقسیم کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ ان دونوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ہمارے بھائیوں بنی مطلب بن عبد مناف کو خمس میں سے حصہ دیا جبکہ ہمیں کچھ بھی نہ دیا حالانکہ ہماری قرابت بھی ان کی قرابت کی طرح ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ارشاد فرمایا: ’’میں ہاشم اور مطلب کو ایک سمجھتا ہوں۔‘‘

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’اس خمس میں سے نبی کریمﷺ نے بنی عبد شمس اور بنی نوفل کو کچھ بھی نہ دیا، جس طرح کہ اس میں سے بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا تھا۔‘‘ (سنن النسائی: 4136 علامہ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے۔ (صحیح البخاری: 3140))

رہ گئیں حضرت رسالت مآبﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن تو ان کے آل بیت میں داخل ہونے کے بارے میں خود قرآن کریمﷺ کی نص آ گئی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًاo وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الْحِکْمَۃِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا

(الاحزاب: 33-34)

’’اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو! اور تمھیں پاک کر دے، خوب پاک کرنا اور تمھارے گھروں میں اللہ کی جن آیات اور دانائی کی باتوں کی تلاوت کی جاتی ہے، انھیں یاد کرو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے نہایت باریک بین، پوری خبر رکھنے والا ہے۔‘‘

اس کی دوسری دلیل وہ روایت ہے جس کو ملیکہ نے روایت کیا ہے کہ خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ایک گائے بھیجی۔ سیّدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہہ کر وہ گائے واپس کر دی: ’’ہم آلِ محمد صدقہ (کا مال) نہیں کھاتے۔‘‘ (المصنف لابن ابی شیبۃ: 36528 اسنادہ صحیح)

نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: ’’اے اللہ! آلِ محمد کی روزی قابل گزران ہی بنانا۔‘‘ (ایضاً)

علامہ ابن قیم رحمتہ اللہ لکھتے ہیں:

’’یہ بات معلوم ہے کہ یہ دعا ’’مستجاب‘‘ تھی اور یہ بھی معلوم ہے کہ اس دعا سے بنی ہاشم اور بنی مطلب کے ہر شخص کو حصہ نصیب نہیں ہوا،کیونکہ ان میں اصحاب ثروت و دولت بھی تھے اور آج تک ہیں۔ البتہ آپﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن اور ذریت طیبہ کی روزی بلاشبہ ’’قُوت‘‘ (بقدر سدِّّ رمق یعنی قابل گزران) تھی۔ چنانچہ آپﷺ کے بعد ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو جو اموال بھی حاصل ہوتے تھے، وہ ان کو صدقہ کردیا کرتی تھیں اور صرف سد رمق کے بقدر مال اپنے پاس رکھ چھوڑتی تھیں۔ ایک مرتبہ سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس ڈھیر سارا مال آیا، تو آپ نے وہ سارے کا سارا مال ایک ہی نشست میں تقسیم کر دیا۔ جب سارا مال تقسیم ہو چکا تو باندی نے شکوہ کے انداز میں عرض کیا کہ ایک درہم ہی رکھ لیتیں کہ جس سے ہم گوشت خرید لیتے۔ سیّدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تم یاد دلا دیتیں، تو (شاید) میں ایسا کر (بھی) لیتی۔‘‘

علماء نے اس بات پر کہ یہ دعا ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن اور ذریت طیبہ رضی اللہ عنہم کے حق میں قبول ہوئی، صحیحین میں مروی سیّدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے: سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’آل محمدﷺ نے تین دن لگاتار گندم کی روٹی سے پیٹ نہیں بھرا یہاں تک کہ آپﷺ رب تعالیٰ سے جا ملے۔‘‘

(صحیح البخاری: 5107)

علماء کہتے ہیں:

’’یہ بات معلوم ہے کہ سیّدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ان کلمات میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ، ان کی اولاد اور بنی مطلب داخل نہیں اور نہ وہ ان کلمات سے مراد ہیں، یہاں لفظ آل میں صرف ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن داخل ہیں، کیونکہ ان کا نبی کریمﷺ کے ساتھ تعلق آپﷺ کے وفات پا جانے کے بعد بھی ختم نہیں ہوا چنانچہ وہ دوسروں پر جس طرح نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ میں حرام تھیں، اسی طرح نبی کریمﷺ کے وفات پا جانے کے بعد بھی حرام تھیں۔ بے شک یہ عظیم خواتین دنیا و آخرت میں نبی کریمﷺ کی ازواج ہیں۔ ازواجِ مطہرات کا نبی کریمﷺ کے ساتھ نکاح کا تعلق نسبی تعلق کے قائم مقام ہے۔ نبی کریمﷺ سے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن پر صلوٰۃ پڑھنے کی بابت نص آئی ہے۔‘‘

علامہ ابن قیمؒ فرماتے ہیں:

’’اس سے بڑھ کر حیرت کی بات اور کیا ہو گی کہ جب ازواجِ مطہرات نبی کریمﷺ کی اس دعا: ’’اے اللہ! آل محمد کا رزق ’قوت‘ بنا‘‘ کے مصداق میں داخل ہیں اور قربانیاں کرتے، وقت نبی کریمﷺ نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ ’’یہ محمد اور آل محمد کی طرف سے ہیں، ‘‘ کہ یہاں بھی آل محمدﷺ سے مراد ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن ہیں اور سیّدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی گزشتہ روایت کہ ’’آل محمدﷺ نے کبھی لگاتار تین دن تک گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی‘‘ میں آلِ محمدﷺ سے ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن مراد ہیں اور نمازی جب نماز میں یہ دعا پڑھتا ہے: ’’أَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ‘‘ تو یہاں بھی آل محمدﷺ سے مراد ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ہیں، جن پر صلوٰۃ پڑھنے کی بابت یہ نص آئی ہے کہ جب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ان سب روایات میں آل محمدﷺ کے مصداق میں داخل ہیں، تو بھلا یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ اس ارشاد نبوی میں آلِ محمدﷺ کے مصداق میں داخل نہ ہوں، ارشاد نبوی ہے: ’’یہ صدقہ محمد اور آل محمد کے لیے حلال نہیں کیونکہ یہ لوگوں (کے مالوں ) کی میل کچیل ہے۔‘‘ (0صحیح البخاری: 6095)

بلاشبہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن صدقات سے بچنے اور ان سے دُور رہنے کے زیادہ لائق ہیں۔‘‘

ابو محمد قحطانیؒ اپنے قصیدۂ نونیہ میں لکھتے ہیں:

’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت و قرابت سنت ہے، رب تعالیٰ نے یہ محبت و قرابت مجھے پیدا کرتے وقت میری رگ رگ میں پیوست کر دی تھی۔ گویا نبی کریمﷺ کی آل اور آپﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی محبت جسموں کے لیے روح کے بمنزلہ ہے، نبی کریمﷺ کے سب سے بزرگ، افضل اور جلیل القدر صحابہ حضرات شیخین (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ) ہیں، جو پیدا ہی نبی کریمﷺ کی نصرت و حمایت کے لیے ہوئے تھے۔ ان دونوں صحابہ پر میری جان قربان۔ انہی دونوں صحابہ رضی اللہ عنہما کی بیٹیاں نبی کریمﷺ کی افضل ترین ازواج ہیں۔ انہی دونوں کے ہوتے ہوئے بھی آپﷺ پر وحی نازل ہو جاتی تھی۔ اہلِ بیت کے حق واجب کی حفاظت کر اور سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ کو پہچان اور ان کی شان میں کمی زیادتی نہ کر، بے شک سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان کو گھٹانے اور بڑھانے والے دونوں طبقے نذر آتش جہنم ہوں گے۔ قاتلانِ حضرت حسینؓ کے لیے ہلاک و بربادی ہو بے شک وہ دنیا و آخرت کی ناکامیوں اور نامرادیوں کو لے کر لوٹا۔ اگر کوئی انہیں بے گناہ ثابت کرنا چاہے، تو اس کی بات کو ہرگز بھی قبول نہ کرنا۔‘‘