اہل سنت و الجماعت کے نزدیک حضرات اہل بیت اطہار رضی اللہ…

اہل سنت و الجماعت کے نزدیک حضرات اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی قدر و منزلت

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 1 از 2

اہل سنت حضرات اہل بیت رضی اللہ عنہم کا بے حد احترام کرتے ہیں، کیونکہ حضرت رسالت مآبﷺ نے ان بزرگ ہستیوں کا بے پناہ مقام و مرتبہ بیان فرمایا ہے اور خود رب تعالیٰ نے آلِ بیت کے حقوق کی رعایت کو مشروع کیا ہے۔ اہل سنت و الجماعت حضرات اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم سے محبت و ولایت کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی بابت نبی کریمﷺ کی اس وصیت کی حفاظت و رعایت کرتے ہیں، چنانچہ نبی کریمﷺ نے غدیر خم کے دن ارشاد فرمایا:

’’میں تمہیں اپنے آل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں۔‘‘ (صحیح مسلم بشرح النووی: 2408)

اہل سنت و الجماعت نبی کریمﷺ کی اس وصیت کو حرزجان بنا کر اور اس وصیت کو اپنی زندگیوں کا اوڑھنا بچھونا اور ماحصل بنا کر خوش بخت ترین انسان کہلائے۔

اہلِ سنت و الجماعت جہاں ایک طرف اہل تشیع کے بعض اہل بیت کی بات بے پناہ غالیانہ رویے سے اپنی براءت کا اظہار کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف ناصبیوں کے بغض و ایذا پر مبنی رویے سے بھی اپنی لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم سے محبت کرنا واجب ہے اور اپنے کسی بھی قول و فعل یا اشارہ یا کنایہ سے ان مقدس ہستیوں کو ایذا پہنچانا اور ان کے ساتھ برا سلوک کرنا حرام ہے۔ رب منان کا احسان ہے کہ اہل سنت و الجماعت کی کتابیں کتب حدیث و تراجم کی طرح اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے ذکر خیر اور فضائل و مناقب کے بیان سے معمور ہیں۔

اہل تشیع حضرات یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اہل سنت و الجماعت کو سیّدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد و احفاد سے نفرت ہے۔ مناسب ہے کہ اس غلط فہمی اور خلاف حقیقت بات کی وضاحت کر دی جائے۔

چنانچہ ذیل میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کی ذریت کے کچھ فضائل و مناقب درج کیے جاتے ہیں، جس سے اہل سنت والجماعت کی سیّدنا علی و آل علی رضی اللہ عنہم سے محبت عیاں ہے:

 1۔ سیّدنا علی بن ابی طالب

صحیحین میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے خیبر کے دن فرمایا:

’’یہ پرچم کل میں ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر رب تعالیٰ (خیبر کو) فتح کر دیں گے، اسے اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ وہ رات لوگوں نے اسی بارے میں باتیں کرتے گزار دی کہ دیکھیں یہ پرچم کل کسے ملتا ہے؟ جب صبح ہوئی تو سارے کے سارے لوگ اس پرچم کے ملنے کی امید پر نبی کریمﷺ کی طرف چل دئیے۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:’’علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’انہیں میرے پاس بھیجو۔‘‘ پس انہیں نبی کریمﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ آپﷺ نے ان کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن لگایا اور ان کے لیے دعا (خیر) فرمائی، جس سے ان کی آنکھیں ایسے ٹھیک ہو گئیں، جیسے کبھی خراب ہوئی ہی نہ تھیں۔ آپﷺ نے انہیں پرچم عطا فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! (کیا) میں ان سے لڑتا رہوں، یہاں تک کہ وہ ہماری طرح (مسلمان) ہو جائیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’سیدھے چلتے جاؤ یہاں تک کہ ان کے آنگن میں جا اترو، پھر انہیں اسلام (قبول کرنے) کی دعوت دو، اور انہیں بتلاؤ کہ ان پر اللہ کا کیا حق واجب ہے۔ اللہ کی قسم! تیرے ذریعے سے اللہ کا ایک آدمی کو ہدایت دے دینا یہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔‘‘ (صحیح البخاری: جلد، 7 صفحہ 70 صحیح مسلم: 3406 و اللفظ لہ)

یہ حدیث سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی عظیم فضیلت و منقبت کو ظاہر کرتی ہے کیونکہ اس حدیث میں خود جناب رسول اللہﷺ اس بات کی خبر اور شہادت دے رہے ہیں کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ اللہ اور اس کے رسول کے محب بھی ہیں اور محبوب بھی ہیں۔

 2۔ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا

صحیح بخاری ’’باب مناقب فاطمۃ رضی اللہ عنہا ‘‘ میں نبی کریمﷺ کا یہ ارشاد ہے: فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔‘‘ (صحیح البخاری فی فتح الباری: جلد، 7 صفحہ 105)

 3۔ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما

امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ نے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو ارشاد فرمایا:

’’اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں ، تو بھی ان سے محبت فرما۔‘‘ (جامع الترمذی: 3782 و قال: حدیث حسن صحیح۔ علامہ البانی رحمتہ اللہ نے ’’صحیح سنن الترمذی: جلد، 3 صفحہ 226 ‘‘ میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے)

یہ حدیث حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی فضیلت میں بالکل ظاہر ہے، جو امت مسلمہ کو اس بات کی زبردست ترغیب دیتی ہے کہ نبی کریمﷺ کے ان نواسوں سے محبت کی جائے، کیونکہ ان دونوں ہستیوں سے محبت کرنا نبی کریمﷺ سے محبت کرنا ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔‘‘ (مسند احمد: جلد، 3 صفحہ 3 جامع الترمذی: جلد، 5 صفحہ 656 رقم الحدیث: 3768 و قال حدیث حسن صحیح۔ المستدرک للحاکم: جلد، 3 صفحہ 166-167 حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے اور ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں: وَ اَبُوْہُمَا خَیْرٌ مِّنْہُمَا ’’اور ان دونوں کا باپ ان سے بہتر ہے۔‘‘ اور علامہ ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے۔ علامہ البانی رحمتہ اللہ نے ’’السلسلۃ الصحیحۃ: جلد، 2 صفحہ 448 ‘‘ میں اس روایت کو صحیح کہا ہے)

اس حدیث میں حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی دو عظیم منقبتیں مذکور ہیں، ایک یہ کہ خود نبی کریمﷺ نے ان کے جنتی ہونے کی بشارت دی ہے اور دوسرے اس بات کی شہادت دی ہے کہ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما جنت کے نوجوانوں کے سردار بھی ہیں۔

4۔ علی بن حسین بن علی بن ابی طالب رحمتہ اللہ

یحییٰ بن سعدؒ ان کے بارے میں کہتے ہیں:

’’علیؒ سب سے افضل ہاشمی ہیں، جن کو میں نے مدینہ میں دیکھا ہے۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء: جلد، 3 صفحہ 138)

زہریؒ کہتے ہیں: ’’میں نے علی بن حسین رحمتہ اللہ سے زیادہ افضل ہاشمی نہیں دیکھا۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء: جلد، 3 صفحہ 141 تہذیب التہذیب: جلد، 7 صفحہ 305)

صفحہ 1 از 2