اہل سنت و الجماعت کے نزدیک حضرات اہل بیت اطہار رضی اللہ…

اہل سنت و الجماعت کے نزدیک حضرات اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی قدر و منزلت

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 2

محمد بن سعدؒ کہتے ہیں: ’’علی بن حسین رحمتہ اللہ ثقہ، مامون، کثیر الحدیث، بلند مرتبہ اور متقی و پرہیز گار تھے۔‘‘ (الطبقات الکبری لابن سعد: جلد، 5 صفحہ 222)

 5۔ محمد بن علی (الباقر) رحمۃ اللہ

ابن سعدؒ کہتے ہیں: ’’بے پناہ علم اور حدیث کے مالک تھے۔‘‘ (الطبقات الکبری: جلد، 5 صفحہ 324) صفدی بیان کرتے ہیں: ’’علم، فقہ اور عبادت کو جمع کرنے والوں میں سے ایک تھے۔‘‘ (الوافی بالوفیات: جلد، 4 صفحہ 102)

علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان سے حجت پکڑنا صحیح ہے جیسا کہ ذہبیؒ نے اس پر نص ذکر کی ہے۔ (سیراعلام النبلاء: جلد، 4 صفحہ 413)

 6۔ جعفر بن محمد (الصادق) رحمۃ اللہ

امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ ان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’میں نے جعفر بن محمدؒ سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا۔‘‘ (تذکرۃ الحفاظ: جلد، 1 صفحہ 166)

ابو حاتم بیان کرتے ہیں: ’’ثقہ ہیں، ان جیسے کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا (کہ وہ ثقہ ہی ہوتے ہیں)۔‘‘ (کتاب الجرح و التعدیل: جلد، 2 صفحہ 487)

ذہبیؒ کہتے ہیں:’’جعفر بن محمد الصادقؒ اپنے زمانہ میں علویوں کے سردار اور حجاز کے امام تھے۔ ان کی صحابہ رضی اللہ عنہم سے ملاقات ثابت نہیں۔‘‘ (مختصر العلو: صفحہ 148)

 7۔ موسی بن جعفر (الکاظم) رحمۃ اللہ

ابو حاتم رازیؒ ان کے بارے میں کہتے ہیں: ’’ثقہ، صدوق اور ائمہ مسلمین میں سے ہیں۔‘‘ (کتاب الجرح و التعدیل: جلد، 4 صفحہ 139)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ فرماتے ہیں: ’’موسی بن جعفر کاظم کی عبادت و ریاضت مشہور تھی۔‘‘ (منہاج السنۃ: جلد، 4 صفحہ 57) ذہبیؒ کہتے ہیں: موسیٰ نہایت بلند مرتبہ حکیم اور متقی و پرہیزگار تھے۔ (میزان الاعتدال: جلد، 4 صفحہ 202)

 8۔ علی بن موسیٰ(الرضا) رحمۃ اللہ

ذہبیؒ کہتے ہیں: ’’علم و عبادت اور قیادت و سیادت میں ایک مرتبہ رکھتے تھے۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء: جلد، 9 صفحہ 387)

9۔ محمد بن علی (الجواد) رحمۃ اللہ

انہیں بنی ہاشم کے سربرآوردہ لوگوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کی سخاوت اور سیادت مشہور تھی۔ (منہاج السنۃ: جلد،1 صفحہ 68)

بغدادیؒ (یہ عبدالقاہر بن طاہر بن محمد بن عبداللہ البغدادی التمیمی الاسفرائینی ہیں۔ شافعی فقیہ، اصولی اور ادیب تھے۔ ولادت و پرورش بغداد میں پائی 429 ہجری میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ دیکھیں: وفیات الاعیان: جلد، 3 صفحہ 203 سیر اعلام النبلاء: جلد، 4 صفحہ 84) کہتے ہیں: 

’’اہل سنت و الجماعت نبی کریمﷺ کی جملہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے موالات کے قائل ہیں اور جو انہیں یا ان میں سے بعض کو کافر کہے، اسے کافر ٹھہراتے ہیں۔ اہل سنت و الجماعت حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما اور نبی کریمﷺ کے مشہور نواسوں سے موالات کے بھی قائل ہیں جیسے حسن بن حسن، عبداللہ بن حسن، علی بن حسین زین العابدین، محمد بن علی بن حسین المعروف بہ ’’الباقر‘‘، جعفر بن محمد المعروف بہ ’’الصادق‘‘، موسیٰ بن جعفر اور علی بن موسیٰ الرضا وغیرہ۔ اہل سنت کا یہی قول سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی دوسری صلبی اولاد کے بارے میں ہے، جیسے عباس، عمر اور محمد بن حنفیہ، اور اسی موالات کے وہ سب بھی مستحق ہیں جو اپنے آباء و اجداد اطہار کی سنتوں پر چلے۔‘‘ (الفَرْقُ بین الفِرَق: صفحہ 360)

اسفرائینی (یہ طاہر اسفرائینی ہیں جو شافعی اور ابو المظفر کے لقب سے مشہور تھے۔ یہ امام، اصولی، فقیہ اور مفسر تھے۔ 471 ہجری میں ’’طوس‘‘ میں وفات پائی۔ (طبقات الشافعیۃ: جلد، 3 صفحہ 175))اہل سنت و الجماعت کا منہج بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’رب تعالیٰ نے اہل سنت و الجماعت کو اس بات سے محفوظ رکھا ہے کہ وہ اس امت کے اسلاف کی بابت کوئی دریدہ دہنی کریں یا ان پر زبانِ طعن دراز کریں، چنانچہ یہ لوگ حضرات مہاجرین و انصار، اعلامِ دین اہل بدر و احد، اہل بیعت رضوان رضی اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں سوائے اچھی بات کے اور کوئی لفظ زبانوں سے نہیں نکالتے اور نہ حضرات عشرۂ مبشرہ رضی اللہ عنہم کی بابت کسی قسم کی لغوگوئی کرتے ہیں۔ اہل سنت و الجماعت ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ، نبی کریمﷺ کے اصحاب رضی اللہ عنہم آپﷺ کی اولاد و احفاد رضی اللہ عنہم جیسے حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما اور ان کی ذریت کے مشاہیر جیسے عبداللہ بن حسن، علی بن حسین، محمد بن علی، جعفر بن محمد، موسیٰ بن جعفر، علی بن موسیٰ الرضا کے بارے میں بھی اپنی زبانوں کو سلامت رکھتے ہیں۔ اسی طرح جو کسی تبدیل و تغییر کے بغیر ان کی سنتوں پر چلا، اسی طرح حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے بارے میں بھی سوائے خیر کے اور کچھ نہیں کہتے حضرات اہلِ سنت و الجماعت ان سب اکابر کے بارے میں طعنہ زنی کو جائز نہیں سمجھتے۔ اہل سنت و الجماعت کا یہی مذہب اعلام تابعین اور ان تبع تابعین کے بارے میں ہے جن کو رب تعالیٰ نے بدعات کے ارتکاب اور منکرات کے اظہار سے بچائے رکھا۔‘‘(التبصیر فی الدین: صفحہ 196)

یہ ہے اہل سنت و الجماعت کا آل بیت رسولﷺ کے بارے میں عقیدہ۔ الحمد للہ اہل سنت و الجماعت کی کتابوں کے ہزاروں ورق پڑھ جائیے، آپ کو ان میں اللہ کے حکم سے صرف یہی بات ملے گی کہ اہل سنت و الجماعت ہی آل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے انصار و مددگار ہیں۔ (العقیدۃ فی اہل البیت للسحیمی)


صفحہ 2 از 2