تحریف قرآن اور تقابل ادیان
مولانا اللہ یار خاںتحریف قرآن اور تقابل ادیان
شیعہ مفسرین قرآن نے قرآن ہی سے شیعہ مذہب کی عظمت اور برتری ثابت کرنے کی خوب کوشش کی جس کے نمونے گذشتہ ابواب میں پیش کئے جا چکے ہیں ۔ قاعدہ ہے کہ چیزیں اپنی سند سے پہچانی جاتی ہیں۔ رات کی ظلمت نہ ہو تو دن کی روشنی کا احساس اور اس کی قدر کون کرے ۔ معلوم ہوتا ہے اسی اصول کے تحت شیعہ مفسرین نے شیعہ کے مقابل دوسرے مذاہب کے لوگوں کے حالات بیان کر کے شیعہ کی عظمت کو چار چاند لگانے کی کوشش کی ہے اس کے چند نمونے ملاحظہ ہوں ۔
1)- تفسیر مراة الانوار ص204
وقال بعض العلماء في وجه التسمية الثاني (عمر فاروق) بالشيطان ان ولد الزنايل غير الشيعة مطلقا يخلق من ماء الرجل وماء الشيطان وولد الشيطان شيطان اقول ولهذا اور دايضا يطلق على هؤلاء اخوان الشياطين كما ورد في الاخر وقال فعلى هذا ايصر تاويل الشياطين باعداء النبي والأئمة ويخلفاء الجوار والشياطين باكبر هم ورئيس الكل اى الاول او الثاني .
بعض علمائے شیعہ نے عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ کو شیطان کہنے کی وجہ یہ بتائی کہ ولد الزنا اور غیر شیعہ کی پیدائش یوں ہوتی ہے کہ مرد یعنی اس کے باپ کا پانی اور شیطان کا پانی ملتا ہے تو وہ پیدا ہوتا ہے اور شیطان کا بیٹا شیطان ہوتا ہے میں کہتا ہوں کہ حدثیوں میں وارد ہوا ہے کہ یہ شیطان کے بھائی ہیں جیسا کہ وارد ہوا لفظ اخ میں پس اس بنا پر یہ تاویل صحیح ہو گی کہ شیطان وہ ہے جو دشمن رسول اور دشمن آل رسول ہو اور یہ تاویل بھی صحیح ہوگی کہ خلفائے جور شیاطین ان میں بڑا شیطان عمر فاروق یا ابوبکر ہے۔
اسی بیان سے مفسر صاحب کا اصل مقصد ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ اور عمر رضی اللّٰہ عنہ کو شیطان ثابت کرنے کے لیے تحریف قرآن سے کام لیتے ہوئے خوان الشیطان بنانا تھا۔ مگر اس میں ایک اصول بیان کیا گیا کہ شیعہ کے بغیر تمام بنی نوح انسان شیطان کی اولاد ہیں۔ اور شیطان کا بیٹا شیطان ہوتا ہے لہذا شیعہ کے بغیر تمام بنی نوح انسان شیطان ہیں ظاہر ہے کہ شیعہ کو یہ مرتبہ بلند شیعہ ہونے کی وجہ سے ملا اور غیر شیعہ پر یہ عنایت صرف شیعہ نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی۔
2)_تفسیر مراۃ الانوار ص 106
ان نبي ادم محب التأويل انما هو من لم يوال فلانا وفلانا نا قان من والاهما نائما هو شرك الشيطان فهو ابوه فانهم.
یقیناً انسان محبت کرنے والا ہے اس کی تاویل اس کے بغیر کچھ نہیں کہ جو شخص ابوبکر و عمر کو دوست رکھے اور جس نے ان کے ساتھ دوستی رکھی وہ شیطان کی اولاد ہے۔
پہلی روایت ہمیں بتایا گیا شیعہ کے بغیر ہر انسان شیطان کی اولاد ہے۔ اس روایت میں خصوصیت سے اہل السنت والجماعت پر عنایت کی گئی۔ کیونکہ ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ اور عمر رضی اللّٰہ عنہ کو دوست رکھنے کا حکم نبی کریمﷺ نے دیا ہے اس لیے ان کی محبت اہل سنت کے عقائد میں داخل ہے۔
3)_ ایضاً ص203
عن الرضا الناصب مشرك وفي بعض الزيارات الشرك من الفضكم لان حب على لا تجتمع مع حب اعدائه فكل محب لا عداء مبغض له ناصب مشرك بالمغینیں۔
امام رضا کہتے ہیں کہ ناصبی (سنی) مشرک ہے بعض کتب زیارات میں آیا ہے کہ جس نے اماموں سے بغض رکھا اس نے شرک کیا کیونکہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی محبت اور ان کے دشمن کی محبت جمع نہیں ہو سکتی پس صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم کا دوست حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کا دشمن ہے ناصبی ہے مشرک ہے۔
غیر شیعہ میں سے ناصبی کو مشرک قرار دیا گیا مگر ناصبی کسے کہتے ہیں ۔
اسی تفسیر مراۃ الانوار کے ص 208 پر علی بن عیسیٰ سے روایت ہے کہ اس نے امام ابوالحسن سے پوچھا کہ کیا نامی اسے کہتے ہیں۔ جو ابو بکر عمر کی قدیم اور ان کی امامت کا اعتقاد رکھے تو امام نے جواب دیا کہ من کان على هذا قصد ناصب یعنی ہاں جو اس عقیدے پر ہو وہ ناصب ہے۔ اہل السنت والجماعت اسی عقیدے پر ہیں ۔ لہٰذا شیعہ لٹریچر میں جہاں ناصب کا لفظ استعمال ہوا ہے اس سے مراد اہل سنت والجماعت ہیں۔ ۔
4)_ ایضاً ص88
ان كل من والى قوما فهو منهروان لم يكن من جنسهم ونشاركتهم جميعا في كونهم من نطفة الشيطان كما قال الله تعالى شار کم فی الأموال والا ولاد۔
جس نے کسی قوم سے محبت کی وہ انہی میں سے ہے خواہ اس کی جنس مختلف ہو کیونکہ اس کی پیدائش میں شیطان کا نقطہ شریک ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ان کے مال اور اولاد میں شریک ہو جا۔
ان چار ہدایات اور ایسی دیگر شیعہ روایات کا ماحصل یہ ہے کہ غیر شیعہ بالعموم اور سنی بالخصوص شیطان ہیں شیطان کی اولاد ہیں ولد الذنا ہیں ۔ مشرک ہیں اور شیعہ مفسرین کیا یہ تمام گوہر افشانی، تفسیر قرآن بھی ہے ۔
عقائد کے اعتبار سے شیعہ کی عظمت ثابت ہو گئی رہا اعمال کا سوال تو اس میں کچھ پچیدگی ہے جس کا احساس خود شیعوں کو ہوتا رہا ۔ چنانچہ -
1)_ تفسیر البرہان 243:1
عن ابن یعفور قال قلت لابی عبد الله اني اخالط الناس فیکٹر عجبی من اقوام لا يتولونکم و يتولون فلان وفلان ألهم أمانة و صدق و زناء د قوم يتولونكم وليس لهم الأمانة والوفاء ولا الصدق ۔
عبداللہ بن یعفور نے امام جعفر سے کہا کہ میں لوگوں سے ملتا ہوں اور میرے تعجب کی انتہا نہیں رہتی جب میں ایسے لوگوں کو دیکھتا ہوں جو آپ کو دوست نہیں رکھتے اور ابوبکر اور عمر کو دوست رکھتے ہیں مگر وہ لوگ بڑے امین ہیں سچے ہیں اور ایفائے عہد کرتے ہیں اور وہ لوگ جو آپ کو دوست رکھتے ہیں یعنی شیعہ ان میں نہ امانت ہے نہ وفا ہے۔ صدق ہے یعنی بد دیانت بھی ہیں بے وفا بھی ہیں اور جھوٹے بھی ہیں۔
عبد اللّٰہ بن یعفور امام جعفر کا مصاحب خاص ہے اور دیدہ ور کہ ماحول کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اور اسی صورت حال کا مشاہدہ کرتا ہے کہ جہاں تک باہمی معاملات کا تعلق ہے
شیعہ میں دنیا کی سر برائی پائی جاتی ہے حالانکہ عقائد میں شیعہ کی برتری کا تصور دیا جاتا ہے اور غیر شیعہ بالخصوص سنی ہر خوبی اور شرافت کی زندہ مثالیں ہیں ۔ تو اس کو اس تضاد پر تعجب ہوتا
ہے اور اپنے امام سے اس کی وجہ پوچھتا ہے۔
2_ تغییر البرہان 364:2 ابراہیم اپنے شیعہ امام محمد باقر سے سوال کرتا ہے
قلت یا ابن رسول الله انى اجد من شيعت كم من يشرب الخمر و يقطع الطريق ويخيف السبيل ويزنی و يلوط و يا كل الربوا ويرتكب الفواحش ديتها ون بالصلاة والصبار والزکوة و يقطع الرحم وياتي الكبائر فکیف هذا ولم ذاك الى ان قال فقلت یا ابن رسول الله انى احد من اعدائكم و ناصبيكم من يكثر الصلوة والصيام زكوة ديتا بعربين العمرة ويخرج الزكوة وين والحجم ويحرص على الجهاد ويأمي على البر و على صلة الارحام ويقضى حقوق اخرانه ويواليهم من ماله و تجذب من شرب الخمر الزنا و اللواط وسائر الفواحش فهم ذاك ولم ذلك۔
میں نے کہا اے ابن رسول میں آپ کے شیعوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ شراب پیتے ہیں رہزنی کرتے ہیں مسافروں کو لوٹتے ہیں، زنا اور لواطت کے مرتکب ہوتے ہیں سود کھاتے ہیں اور بے حیائی کے کام کرتے ہیں نماز ، روزہ، زکوۃ وغیرہ عبادات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے قطع رحمی کرتے ہیں اور کبائر کے مرتکب ہوتے ہیں ایسا کیوں ہے؟ پھر میں نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ کے دشمن سنی لوگ نماز، روزہ کی کثرت کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں حج اور عمرہ پے در پے کرتے ہیں۔ جہاد کے بڑے حریص ہیں ۔ نیکی اور صلح رحمی کی تبلیغ کرتے ہیں اپنے بھائیوں کے حقوق ادا کرتے ہیں ان کی مالی اعانت کرتے ہیں شراب سے دور بھاگتے ہیں زنا اور لواطت بے حیائی کے کاموں سے دور رہتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے۔
یہ ابراہیم امام محمد باقر کا مصائب اور شاگرد ہے عبداللّٰہ بن یعفور اور ابراہیم دونوں راوی ائمہ کے صاحب خاص ہیں پھر شیعوں کے متعلق ائمہ سے جو سوال کرتے ہیں اس میں ان کے تعجب کا اظہار تو صاف طور پر ہو رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ انہیں یہ تعجب کیوں ہے اس کی وجہ انہوں نے خود کچھ نہیں بتائی البتہ حالات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ
1)-ائمہ نے اپنے شیعوں کے متعلق بقول شیعہ عام تاثر یہ دیا کہ شیعہ کوئی ما فوق الفطرت مخلوق ہے جیسا کہ گزشتہ باب میں تفصیل سے بیان ہو چکا ہے-
2)_ غیر شیعہ شیطان کی اولاد ہیں۔ کیونکہ غیر شیعہ کی پیدائش میں ان کے باپ کے پانی کے ساتھ شیطان کا پانی شامل ہو جاتا ہے اور شیطان کا بیٹا شیطان ہوتا ہے۔
آئمہ نے شیعہ کی پیدائش اور عقیدے کی برتری کا جو تاثر دیا اس کا تقاضہ یہ تھا کہ شیعہ کی عملی زندگی فرشتوں سے کم نہ ہوتی مگر حال یہ ہے کہ دنیا کی کوئی برائی بے حیائی فحاشی اور ظلم ایسا نہیں جو شیعہ کی خصوصیات میں شمار نہ ہو دوسری طرف عبادت عقائد اور معاملات اخلاق میں کوئی خوبی ایسی نہیں جو سنیوں میں نہ پائی جاتی ہو تو ان شیعہ راویوں کو تعجب ہوا کہ ان کے بیچ سے آگ اور
تھوہر کیوں پھوٹ رہی ہے اور نیم کے بیچ سے آم کے پھل کیوں مل رہے ہیں ان کے تعجب کی دوسری وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان راویوں جیسے حوامی شیعہ جب اس تضاد کو محسوس کر رہے ہیں تو ائمہ کو اس کا احساس کیوں نہیں ہوتا کہ ڈاکوؤں ،چوروں، شرابیوں زانیوں اور بے ایمانوں کی فوج کیوں بھرتی کرتے چلے جا رہے ہیں یہ تعجب قدرتی امر ہے آئمہ کو بھی لازماً یہ احساس تو ہوتا ہو گا، مگر ان کے اطمینان کی کوئی وجہ ضرور ہوگی چنانچہ صاحب تفسیر عیاشی نے اس راز سے پردہ اٹھایا ہے۔
3)_ تفسیر عیاشی 128:1
عن عبد الله بن يعفور قال قلت لابي عبد الله الى الخالط الناس في كثر محبي من اقوام ولا يتولونكم ويتولون فلانا وفلانا لهم امانة وصد و وفاء و اقوام يتولونكم ليس هو تلك الأمانة ولا الوفاء ولا الصدق قال فاستوى ابو عبد الله جالسا را قبل على كالغضبان ثم قال لا دین لعن و ان بولاية امام جائر ليس من الله ولا عتب على من دان بولاية امام عمال من الله قال قلت لا دين لاولئك ولا عتب علی ھئولاء۔
عبد اللّٰہ بن یعفور کہتا ہے میں نے امام جعفر سے کہا کہ میں لوگوں سے ملتا جلتا ہوں تو میرے تعجب کی کوئی حد نہیں رہتی جب میں دیکھتا ہوں کہ جو لوگ آپ کو دوست نہیں رکھتے اور ابو بکر و عمر کو دوست رکھتے ہیں ان میں امانت ہے صداقت ہے اور ایفائے عہد ہے اور آپ کے مجنوں میں نہ ایمانداری ہے نہ سچائی ہے نہ ایفائے عہد ہے راوی کہتا ہے یہ سن کر امام جعفر اُٹھ کے سیدھے بیٹھ گئے اور نہایت غصہ سے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا ہے کہ ظالم خلیفے کی اطاعت کرنے والے کا کوئی دین نہیں اور جو عادل امامت کی اطاعت کرتا ہے جو خدا کی طرف سے امام ہے اسے کوئی حرج نہیں راوی کہتا ہے میں نے پھر کہا ان کا کوئی دین نہیں اور ان کے لیے کوئی حرج نہیں۔
یہی روایت اصول کافی طبع تجدید ص 262 پر موجود ہے۔
اس روایت سے کئی عقدے حل ہو گئے ۔
1)_ ابن یعفور جیسے لوگوں کے تعجب کا خاتمہ ہوا کہ شیعہ ہونا ہی بڑا کمال ہے۔ جو تمام عیبوں کو مٹا دیتا ہے۔
2)_معلوم ہوا کہ ابو بکر وعمر کی محبت کا خاصہ یہ ہے کہ ان کے چاہنے والوں میں امانت صداقت اور ایفائے عہد کے وصف پیدا ہو جاتے ہیں اور ائمہ کی محبت کی خاصیت یہ ہے کہ آدمی بد دیانت جھوٹا اور بد عہد بن جاتا ہے۔ ۔
3)_ یہ کوئی نری علمی بات نہیں بلکہ عمل دنیا میں شیعہ کی یہ خاصیت اس طرح ابھر کر سامنے آتی ہے کہ ابن یعفور اور ابراہیم جیسے شیعوں نے بھی نوٹ کر لیا حالانکہ جو شخص ہر وقت کسی متعفن ماحول میں رہے اسے بدبو کا احساس نہیں ہوتا اور خوشبو میں دلچسپی نہیں ہوتی مگر کمال یہ ہے کہ ان سربر آوردہ شیعوں نے بھی اپنے شیعوں کے یہ رذائل محسوس کر لیے امام کی ایک بات سمجھ میں نہیں آسکی کہ آپ نے فرمایا کہ
لا عتب على من دان بولايته امام عدال
وان کے معنی اگر اطاعت اور تابعدار ہوں۔
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیعہ لوگ یہ سب کچھ امام کی اطاعت میں کرتے ہیں۔ کیا امام انہیں حکم دیتے ہیں کہ ڈاکے مارو۔ شراب پیو بے ایمانی کرو زنا کرو لواطت کرو سود کھاؤ بے حیائی کرو۔ اگر بات نہیں ہے تو شیعہ واقعی فرض منصبی ادا کرتے ہیں مگر اسی طرح اماموں کا جو امیج بنتا ہے۔ وہ کوئی شریفانہ نہیں اور اگر امام انہیں اس سب بد معاشی کا حکم نہیں دیتے مگر شیعہ سینہ زوری سے کرتے ہیں تو اماموں کی اطاعت کہاں سے قرار دی جا سکتی ہے۔
اور جب اطاعت نہیں تو عتاب کیوں نہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کچھ کرنے کرانے کا جھملیہ سرے سے موجود نہیں بس صرف کہہ دو ہم محب اہل بیت ہیں پھر جو چاہو کرو برائی میں شیطان کو بھی نیچا دکھا دو تو کچھ نہیں بگڑتا ہے.
~جفائیں بھی ہیں فریب بھی ہیں نمود بھی ہے سنگار بھی ہے
اور اس پر یہ دعوائے حق پرستی اور اس پریاں اعتبار بھی ہے۔
دوسری طرف حالت یہ ہے کہ دنیا کی ہر خوبی اختیار کرو عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاق میں تمہاری شخصیت میں کہیں انگلی اٹھانے کی جگہ نہ ملے مگر تم نے ابو بکر و عمر سے محبت کی تو تمہاری ساری خوبیوں پر پانی پھر گیا۔ تمہاری دیانت، امانت ،صداقت، نماز ،روزه صلہ رحمی ، حج عمره ، ایثار قربانی سب بے کار۔
نتیجہ یہ نکلا کہ دین نام ہے صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم سے عملاً دشمنی رکھنے کا اور محبت اہل بیت کا زبانی دعویٰ کرنے کا۔ اس دین میں ہر برائی ملال اور ہر نیکی حرام یہ ہے فرق شیعہ اور غیر شیعہ میں ۔
4)_تفسیر مراة الانوار 130
وسياتي في السيئة مايدل على ان عدد على أن شرب من الفرات ولو قال بسم الله الرحمن الرحيم في اوله و الحمد الله في اخره ما كان ذلك الامينه او دما مسفرها فیمکن تاويل الدم بما كول الناصبی رما في قلبه من نجاسة۔
"مردار" کی بحث میں آئے گا جو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ علی ؓ کا دشمن اگر دریا افراد سے پانی پیے اول بسم اللّٰہ پڑھے آخر میں الحمدللہ پڑھے پھر بھی یہ پانی ناپاک ہے اور بہتا ہوا خون ہے جو قطعی حرام ہے بس ممکن ہے کہ خون سے مراد سنی کی کھائی ہوئی غذا ہے اور اس کے دل میں جو نجاست بھری ہوئی ہے۔
یعنی سنی کا کھانا ،پینا ،حقیقتاً سب حرام اور نجاست ہے خواہ وہ بظاہر کیسا ہی حلال اور طیب ہو۔
5)_تفسیر البرہان 453:4
عن ابى عبد الله قال لا يبالى الناصب صلي امرتاني وهذا الآية نزلت فيهم عامله ناصية تصل نارا حامیۃ۔
امام جعفر نے فرمایا کہ سنی نماز پڑھے یا زنا کرے ان میں کوئی فرق نہ سمجھ یہ آیت ان کے حق میں نازل ہوئی عمل کرنے والے تکلیف اٹھانے والے دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔
امام نے قطعی فیصلہ کر دیا کہ سنی کی نماز اور اس کا زنا کرنا ایک جیسا ہے ایک جیسا ہونے کی دو صورتیں ہیں اول یہ کہ سنی کا زنا کرنا بھی نماز کی طرح عبادت ہے یہ صورت سنی کے حق میں ممکن نہیں کیونکہ یہ خصوصیت صرف شیعہ کو حاصل ہے جیسا کہ تفسیر منہج الصادقین کے حوالے سے گزر چکا ہے کہ جو شیعہ عمر بھر میں ایک دفعہ متعہ کرے اس کا درجہ حسین رضی اللّٰہ عنہ کے برابر جو دو دفعہ متعہ کرے حسن رضی اللّٰہ عنہ کے برابر تین دفعہ کرے تو علی رضی اللّٰہ عنہ کے برابر چار دفعہ کرے تو رسولﷺ کے برابر ہے ۔ اور متعہ دراصل زنا کا بدلا ہوا لیبل سے تفصیل کے لیے دیکھئے ہماری کتاب تحذیر المسلمین دوسری صورت یہ ہے کہ سنی کی نماز بھی ایسا ہی گناہ ہے جیسا زنا ۔ اس صورت میں یہ امر یقینی ہو جاتا ہے کہ سنی کی عبادت اور نیکی دراصل گناہ اور وبال ہی ہے مگر ایک الجھن پیدا ہو جاتی ہے کہ گذشتہ کسی باب میں بیان ہوا ہے کہ سنیوں کی نیکیاں شیعوں کو دی جائیں گی۔ حتیٰ کہ ایک لاکھ سنیوں کی نیکیاں دیکر ایک شیعہ کو جنم سے بچایا جائے گا سوال یہ ہے کہ جب سنی کی عبادت بھی ایک نہیں تو سنیوں سے کیا لیا جائے گا اگر سنی کی نماز بھی زنا ہے تو یہ حنس شیعوں کے پاس پہلے ہی کیا کم ہو گی۔با ایں ہمہ اگر شیعوں کی نجات سنیوں کی نیکیوں کی وجہ سے ہو گی، اور
3)_شیعوں کے ہاں نجات ہی زنا پر موقوف ہے تو اس نجات کا تصور خود کر لیجئے کیسی ہوگی۔
سنی کی عبادت بھی زنا کے برابر ہے تو ثابت ہوا کہ یا پہلا مفروضہ غلط ہے یا دوسرا دونوں کا صحیح ہونا ممکن نہیں۔
امام نے شیعوں کی برائیوں اور سنیوں کی نیکیوں کا عقدہ بھی حل کر دیا ہے۔
4)تفسیر البرہان 364:2
فما رایتہ من شیعتنا من زنا اولولط اوترک صلوۃ او صیام اوحج لہ جہاد او جنایۃ اوکبیرۃ من ھذۃ الکبائر فھو من طینۃ الناصب وعنصرہ الذی مسجد فیه الی ان قال ومارایت من الناصب والمواظبتہ علی السلوۃ والصیام والحج والجھاد اولزکوۃ ابواب ابرفھومن طینج المؤمن الذی قد مرج فیه۔
ابرہیم کو امام جعفر ایک اصولی مسئلہ سمجھاتے ہیں۔ اے ابرہیم شیعہ سے جو زنا لواطت، ترک، نماز، روزہ ،حج ،جہاد اور کبیرہ گناہ دیکھتا ہے وہ اس مٹی کی وجہ سے جو ناصبی یعنی سنی کی مٹی شیعہ کی مٹی میں مل گئی اور سنی سے جو نیکیاں نماز ،روزہ، حج ،جہاد ،ذکوۃ وغیرہ دیکھتا ہے وہ اس وجہ سے کہ شیعہ کی مٹی سنی کی مٹی میں مل گئی۔
اس مسئلہ کو اسی کتاب 454:4 پر تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
اصول یہ ہے کہ شیعہ اصلاً پاک طینت ہے اس سے گناہ ہو ہی نہیں سکتا اور سنی اصلًا پاک طینت مٹی سے بنایا گیا ہے اس سے کوئی نیکی ہو نہیں سکتی اب جو شیعہ میں برائیاں اور سنیوں میں نیکیاں نظر آتی ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کی مٹی ادھر اُدھر ملی گئی اور یہ گڑ بڑ پیدا ہوئی۔ لہذا سنی کی نیکیاں دراصل شیعہ کی مٹی کی وجہ سے ہیں.
لہٰذا شیعہ کی نیکیاں ہیں اور شیعہ کی برائیاں دراصل سنی کی مٹی کی وجہ سے ہیں اس لیے یہ برائیاں سنی ہی کی ہوئیں، لہٰذا شیعہ اور سنی میں وہی نسبت ہوئی جو فرشتہ اور شیطان میں ہے کہ پہلے سے برائی ہو نہیں سکتی اور دوسرا نیکی کر ہی نہیں سکتا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب شیعہ اور سنی کی مٹی میں ہی جدا جدا خاصیت رکھی گئی تو یہ گڑ بڑ کیسے ہو گئی اگر اللّٰه تعالیٰ نے ہی ادھر ادھر امیزش کردی تو یہ مٹیاں علیحدہ کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ اور اگر فرشتوں سے یہ سہو ہو گیا تو یفعلون مایو مردن یو نبی پرانے وذن بیت کیا گیا ہے (معاذ اللّٰه)
دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بنی نوع انسان میں کیا صرف شیعہ اور سنی ہی شامل ہیں باقی مذاہب کے لوگ سب بھی آخر مٹی ہی سے پیدا ہوتے ہیں ان کی مٹی کا کوئی ذکر نہیں کہ وہ کیسی تھی اور ان کی بھی گڑ بڑ کہیں ہوئی یا نہیں۔ بھول چوک بھی ہو تو سنیوں کے معاملے میں اور شیعہ کا کفارہ نہیں ، تب بھی سنی اور دنیا میں شیعوں کے بدن سلامت بھی سنی ہی بنیں۔
تیسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں جگہ اصل مغلوب ہو گیا اور قبضہ مخالفانہ کرنے والا غالب رہا ۔ یعنی شیعوں کی مٹی سنی کی مٹی میں ملی تو وہ نیکی کرنے لگا اس کی اصل جو برائی تھی وہ دب گئی اسی طرح سنی کی مٹی جو شیعہ کی مٹی میں ملی تو شیعہ برائی کرنے لگا۔ اور اس کی اصل جو نیکی تھی وہ دب گئی۔ دونوں طرف اصل مغلوب مجبور اور کمزور ہے اور حملہ آور مٹی دونوں جگہ غالب ہے نہ جانے کیوں۔
7_تغییر البرہان 89:4 اور تفسیر قمی سورۃ زمر کی آیت کے تحت۔
فقال لهم خزنتها سلام عليكم طبتم ای طابت مواليد کم پیدائش پاک لانه لا يدخل الجنة الاطيب المواد فادخلوها خالدين قال امیر المومنین ۔ ان فلانا وفلان وفلانا غصبوناً حقنا واشتروا بها الاماء و تزوجوا بها النساء الا وقتل جعلنا الشيء تنا من ذلك في حل لتطيب مواليدهم.
اور اہل جنت کو فرشتے کہیں گے تم پر سلام ہو پاک تھے تم یعنی تمہاری پیدائش پاک ہے
کیونکہ جنت میں وہی داخل ہوگا جو پاک پیدائش والا ہے یعنی حلالی ہے پس داخل ہو جاؤ جنت میں ہمیشہ کے لیے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ عمر رضی اللّٰہ عنہ اور عثمان رضی اللّٰہ عنہ نے ناحق غصب کیا اس مال سے لونڈیاں خریدیں اس مال سے عورتوں سے نکاح کیا لہٰذا سب اولاد حرام کی ہوئی محقق بات یہ ہے کہ ہم نے یہ مال شیعہ کے لیے حلال کر دیے کیونکہ شیعہ کی پیدائش پاک اور حلال ہے۔
جنت میں داخلہ کا معیار تو شیعہ نے مقرر کر دیا مگر اس سے کئی اُلجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔
1_شیعہ کو اقرار ہے کہ نبی کریمﷺ کے زمانے میں شیعہ کا وجود نہیں تھا کیونکہ خلافت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا تھا۔
۲2_نبی کریم ﷺ کے بعد خلافت کا سوال پیدا ہوا بقول شیعہ جو لوگ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کو خلیفہ تسلیم کرنے لگے ۔ وہ ہوئے شیعہ اور جن لوگوں نے بقول شیعہ غاصبین کو خلیفہ تسلیم کیا وہ مرتد ہو گئے۔
3_مرتد نہ ہونے والوں میں چار کا نام آیا ہے ان میں سے ایک تو حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ ہوئے یعنی بقول شیعہ بلا فصل اور تین جو باقی رہ گئے انہوں نے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کو خلیفہ بلا فصل تسلیم کیا ہو۔ لہٰذا بقول شیعہ وہی شیعہ ہوئے ۔
4__حرامی اور حلالی کا مدار نسب و نسل پر ہے مذہب پر نہیں ۔
5_ اگر صرف شیعہ ہی حلالی ہیں تو ان تین حضرات کی اولاد میں سےہی ہوتے ضروری ہیں ورنہ وہ حلالی نہیں بن سکتے ۔
6_اگر کوئی غیر شیعہ مذہب تبدیل کر کے شیعہ ہو جائے تو مذہب تبدیل ہو گا حلالی پھر بھی نہیں بن سکے گا لہٰذا شیعہ کا ملال ثابت ہونا بھی محالات میں سے ہے۔ چونکہ ہر شیعہ ان تین (مقداد ،سلمان، ابوزر) کی نسل سے نہیں ثابت ہو سکتا لہٰذا شیعہ ہونے کے باوجود حلالی بھی ثابت نہیں ہو سکتا اور ولد الزنا کے متعلق شیعہ روایت یہ ہے کہ
تفسیر عیاشی 148:2
من ابي عبد الله ان نوحا حمل الكلب في السفينة ولم يحمل ولد الزناد عنه قال ینبغی لولی الزنا ان لا تجوز شهادته ولا یوم الناس. لم يحمل نوح في السفينة وقد حمل فيها الكلب والخنزیر۔
امام جعفر نے فرمایا حضرت نوح علیہ السلام نے کتنے لوگ کشتی میں سوار کیے مگر جراحی کو سوار نہ کیا اور آپ فرماتے ہیں کہ مناسب یہ ہے کہ حرامی کی شہادت قبول نہ کی جائے اور اسے امام نہ بنایا جائے حضرت نون علیہ السلام نے حرامی کو کشتی میں سوار نہ کیا تھا حالانکہ کتے اور سور کو کشتی میں سوار کیا تھا۔
ان تفسیری رموز سے صورت سے پیدا ہوئی ہے کہ۔
1_غیر شیعہ کی طینت پاک نہیں لہٰذا اس کی اولاد کی طینت بھی پاک نہیں۔
2_ شیعہ کے آباو اجداد غیر شیعہ تھے لہٰذا اختلاف کے مذہب تبدیل کر لینے کے باوجود طینت وہی ناپاک ہی رہی ۔
3_ناپاک طینت والا انسان کتے اور خنزیر سے بدتر ہے ۔
4_غیر شیعہ کی طینت بقول شیعہ ناپاک ہوئی اور شیعہ کی طینت ان ناپاک کی اولاد سے ہونے کی وجہ سے ناپاک ہوئی ۔ لہٰذا کوئی انسان خواہ شیعہ ہو یا غیر شیعہ وہ کتے اور سور سے بھی برا ہے۔ شیعہ مفسرین کی نکتہ آفرینی ملاحظہ ہو اور شرف انسانیت کا تصور کیجئے ۔