تحریف قرآن اور تقابل ادیان - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تحریف قرآن اور تقابل ادیان

  مولانا اللہ یار خاں

صفحہ 1 از 4

تحریف قرآن اور تقابل ادیان

شیعہ مفسرین قرآن نے قرآن ہی سے شیعہ مذہب کی عظمت اور برتری ثابت کرنے کی خوب کوشش کی جس کے نمونے گذشتہ ابواب میں پیش کئے جا چکے ہیں ۔ قاعدہ ہے کہ چیزیں اپنی سند سے پہچانی جاتی ہیں۔ رات کی ظلمت نہ ہو تو دن کی روشنی کا احساس اور اس کی قدر کون کرے ۔ معلوم ہوتا ہے اسی اصول کے تحت شیعہ مفسرین نے شیعہ کے مقابل دوسرے مذاہب کے لوگوں کے حالات بیان کر کے شیعہ کی عظمت کو چار چاند لگانے کی کوشش کی ہے اس کے چند نمونے ملاحظہ ہوں ۔

1)- تفسیر مراة الانوار ص204

وقال بعض العلماء في وجه التسمية الثاني (عمر فاروق) بالشيطان ان ولد الزنايل غير الشيعة مطلقا يخلق من ماء الرجل وماء الشيطان وولد الشيطان شيطان اقول ولهذا اور دايضا يطلق على هؤلاء اخوان الشياطين كما ورد في الاخر وقال فعلى هذا ايصر تاويل الشياطين باعداء النبي والأئمة ويخلفاء الجوار والشياطين باكبر هم ورئيس الكل اى الاول او الثاني .

بعض علمائے شیعہ نے عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ کو شیطان کہنے کی وجہ یہ بتائی کہ ولد الزنا اور غیر شیعہ کی پیدائش یوں ہوتی ہے کہ مرد یعنی اس کے باپ کا پانی اور شیطان کا پانی ملتا ہے تو وہ پیدا ہوتا ہے اور شیطان کا بیٹا شیطان ہوتا ہے میں کہتا ہوں کہ حدثیوں میں وارد ہوا ہے کہ یہ شیطان کے بھائی ہیں جیسا کہ وارد ہوا لفظ اخ میں پس اس بنا پر یہ تاویل صحیح ہو گی کہ شیطان وہ ہے جو دشمن رسول اور دشمن آل رسول ہو اور یہ تاویل بھی صحیح ہوگی کہ خلفائے جور شیاطین ان میں بڑا شیطان عمر فاروق یا ابوبکر ہے۔

اسی بیان سے مفسر صاحب کا اصل مقصد ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ اور عمر رضی اللّٰہ عنہ کو شیطان ثابت کرنے کے لیے تحریف قرآن سے کام لیتے ہوئے خوان الشیطان بنانا تھا۔ مگر اس میں ایک اصول بیان کیا گیا کہ شیعہ کے بغیر تمام بنی نوح انسان شیطان کی اولاد ہیں۔ اور شیطان کا بیٹا شیطان ہوتا ہے لہذا شیعہ کے بغیر تمام بنی نوح انسان شیطان ہیں ظاہر ہے کہ شیعہ کو یہ مرتبہ بلند شیعہ ہونے کی وجہ سے ملا اور غیر شیعہ پر یہ عنایت صرف شیعہ نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی۔

2)_تفسیر مراۃ الانوار ص 106

ان نبي ادم محب التأويل انما هو من لم يوال فلانا وفلانا نا قان من والاهما نائما هو شرك الشيطان فهو ابوه فانهم.

یقیناً انسان محبت کرنے والا ہے اس کی تاویل اس کے بغیر کچھ نہیں کہ جو شخص ابوبکر و عمر کو دوست رکھے اور جس نے ان کے ساتھ دوستی رکھی وہ شیطان کی اولاد ہے۔

پہلی روایت ہمیں بتایا گیا شیعہ کے بغیر ہر انسان شیطان کی اولاد ہے۔ اس روایت میں خصوصیت سے اہل السنت والجماعت پر عنایت کی گئی۔ کیونکہ ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ اور عمر رضی اللّٰہ عنہ کو دوست رکھنے کا حکم نبی کریمﷺ نے دیا ہے اس لیے ان کی محبت اہل سنت کے عقائد میں داخل ہے۔

3)_ ایضاً ص203

عن الرضا الناصب مشرك وفي بعض الزيارات الشرك من الفضكم لان حب على لا تجتمع مع حب اعدائه فكل محب لا عداء مبغض له ناصب مشرك بالمغینیں۔

امام رضا کہتے ہیں کہ ناصبی (سنی) مشرک ہے بعض کتب زیارات میں آیا ہے کہ جس نے اماموں سے بغض رکھا اس نے شرک کیا کیونکہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی محبت اور ان کے دشمن کی محبت جمع نہیں ہو سکتی پس صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم کا دوست حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کا دشمن ہے ناصبی ہے مشرک ہے۔

غیر شیعہ میں سے ناصبی کو مشرک قرار دیا گیا مگر ناصبی کسے کہتے ہیں ۔

اسی تفسیر مراۃ الانوار کے ص 208 پر علی بن عیسیٰ سے روایت ہے کہ اس نے امام ابوالحسن سے پوچھا کہ کیا نامی اسے کہتے ہیں۔ جو ابو بکر عمر کی قدیم اور ان کی امامت کا اعتقاد رکھے تو امام نے جواب دیا کہ من کان على هذا قصد ناصب یعنی ہاں جو اس عقیدے پر ہو وہ ناصب ہے۔ اہل السنت والجماعت اسی عقیدے پر ہیں ۔ لہٰذا شیعہ لٹریچر میں جہاں ناصب کا لفظ استعمال ہوا ہے اس سے مراد اہل سنت والجماعت ہیں۔ ۔

4)_ ایضاً ص88

ان كل من والى قوما فهو منهروان لم يكن من جنسهم ونشاركتهم جميعا في كونهم من نطفة الشيطان كما قال الله تعالى شار کم فی الأموال والا ولاد۔

جس نے کسی قوم سے محبت کی وہ انہی میں سے ہے خواہ اس کی جنس مختلف ہو کیونکہ اس کی پیدائش میں شیطان کا نقطہ شریک ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ان کے مال اور اولاد میں شریک ہو جا۔

ان چار ہدایات اور ایسی دیگر شیعہ روایات کا ماحصل یہ ہے کہ غیر شیعہ بالعموم اور سنی بالخصوص شیطان ہیں شیطان کی اولاد ہیں ولد الذنا ہیں ۔ مشرک ہیں اور شیعہ مفسرین کیا یہ تمام گوہر افشانی، تفسیر قرآن بھی ہے ۔

عقائد کے اعتبار سے شیعہ کی عظمت ثابت ہو گئی رہا اعمال کا سوال تو اس میں کچھ پچیدگی ہے جس کا احساس خود شیعوں کو ہوتا رہا ۔ چنانچہ -

1)_ تفسیر البرہان 243:1

عن ابن یعفور قال قلت لابی عبد الله اني اخالط الناس فیکٹر عجبی من اقوام لا يتولونکم و يتولون فلان وفلان ألهم أمانة و صدق و زناء د قوم يتولونكم وليس لهم الأمانة والوفاء ولا الصدق ۔

عبداللہ بن یعفور نے امام جعفر سے کہا کہ میں لوگوں سے ملتا ہوں اور میرے تعجب کی انتہا نہیں رہتی جب میں ایسے لوگوں کو دیکھتا ہوں جو آپ کو دوست نہیں رکھتے اور ابوبکر اور عمر کو دوست رکھتے ہیں مگر وہ لوگ بڑے امین ہیں سچے ہیں اور ایفائے عہد کرتے ہیں اور وہ لوگ جو آپ کو دوست رکھتے ہیں یعنی شیعہ ان میں نہ امانت ہے نہ وفا ہے۔ صدق ہے یعنی بد دیانت بھی ہیں بے وفا بھی ہیں اور جھوٹے بھی ہیں۔

عبد اللّٰہ بن یعفور امام جعفر کا مصاحب خاص ہے اور دیدہ ور کہ ماحول کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اور اسی صورت حال کا مشاہدہ کرتا ہے کہ جہاں تک باہمی معاملات کا تعلق ہے

شیعہ میں دنیا کی سر برائی پائی جاتی ہے حالانکہ عقائد میں شیعہ کی برتری کا تصور دیا جاتا ہے اور غیر شیعہ بالخصوص سنی ہر خوبی اور شرافت کی زندہ مثالیں ہیں ۔ تو اس کو اس تضاد پر تعجب ہوتا

ہے اور اپنے امام سے اس کی وجہ پوچھتا ہے۔

2_ تغییر البرہان 364:2 ابراہیم اپنے شیعہ امام محمد باقر سے سوال کرتا ہے

صفحہ 1 از 4