تحریف قرآن اور تقابل ادیان - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تحریف قرآن اور تقابل ادیان

  مولانا اللہ یار خاں

صفحہ 2 از 4

قلت یا ابن رسول الله انى اجد من شيعت كم من يشرب الخمر و يقطع الطريق ويخيف السبيل ويزنی و يلوط و يا كل الربوا ويرتكب الفواحش ديتها ون بالصلاة والصبار والزکوة و يقطع الرحم وياتي الكبائر فکیف هذا ولم ذاك الى ان قال فقلت یا ابن رسول الله انى احد من اعدائكم و ناصبيكم من يكثر الصلوة والصيام زكوة ديتا بعربين العمرة ويخرج الزكوة وين والحجم ويحرص على الجهاد ويأمي على البر و على صلة الارحام ويقضى حقوق اخرانه ويواليهم من ماله و تجذب من شرب الخمر الزنا و اللواط وسائر الفواحش فهم ذاك ولم ذلك۔

میں نے کہا اے ابن رسول میں آپ کے شیعوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ شراب پیتے ہیں رہزنی کرتے ہیں مسافروں کو لوٹتے ہیں، زنا اور لواطت کے مرتکب ہوتے ہیں سود کھاتے ہیں اور بے حیائی کے کام کرتے ہیں نماز ، روزہ، زکوۃ وغیرہ عبادات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے قطع رحمی کرتے ہیں اور کبائر کے مرتکب ہوتے ہیں ایسا کیوں ہے؟ پھر میں نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ کے دشمن سنی لوگ نماز، روزہ کی کثرت کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں حج اور عمرہ پے در پے کرتے ہیں۔ جہاد کے بڑے حریص ہیں ۔ نیکی اور صلح رحمی کی تبلیغ کرتے ہیں اپنے بھائیوں کے حقوق ادا کرتے ہیں ان کی مالی اعانت کرتے ہیں شراب سے دور بھاگتے ہیں زنا اور لواطت بے حیائی کے کاموں سے دور رہتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے۔

یہ ابراہیم امام محمد باقر کا مصائب اور شاگرد ہے عبداللّٰہ بن یعفور اور ابراہیم دونوں راوی ائمہ کے صاحب خاص ہیں پھر شیعوں کے متعلق ائمہ سے جو سوال کرتے ہیں اس میں ان کے تعجب کا اظہار تو صاف طور پر ہو رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ انہیں یہ تعجب کیوں ہے اس کی وجہ انہوں نے خود کچھ نہیں بتائی البتہ حالات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ

1)-ائمہ نے اپنے شیعوں کے متعلق بقول شیعہ عام تاثر یہ دیا کہ شیعہ کوئی ما فوق الفطرت مخلوق ہے جیسا کہ گزشتہ باب میں تفصیل سے بیان ہو چکا ہے-

2)_ غیر شیعہ شیطان کی اولاد ہیں۔ کیونکہ غیر شیعہ کی پیدائش میں ان کے باپ کے پانی کے ساتھ شیطان کا پانی شامل ہو جاتا ہے اور شیطان کا بیٹا شیطان ہوتا ہے۔

آئمہ نے شیعہ کی پیدائش اور عقیدے کی برتری کا جو تاثر دیا اس کا تقاضہ یہ تھا کہ شیعہ کی عملی زندگی فرشتوں سے کم نہ ہوتی مگر حال یہ ہے کہ دنیا کی کوئی برائی بے حیائی فحاشی اور ظلم ایسا نہیں جو شیعہ کی خصوصیات میں شمار نہ ہو دوسری طرف عبادت عقائد اور معاملات اخلاق میں کوئی خوبی ایسی نہیں جو سنیوں میں نہ پائی جاتی ہو تو ان شیعہ راویوں کو تعجب ہوا کہ ان کے بیچ سے آگ اور

تھوہر کیوں پھوٹ رہی ہے اور نیم کے بیچ سے آم کے پھل کیوں مل رہے ہیں ان کے تعجب کی دوسری وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان راویوں جیسے حوامی شیعہ جب اس تضاد کو محسوس کر رہے ہیں تو ائمہ کو اس کا احساس کیوں نہیں ہوتا کہ ڈاکوؤں ،چوروں، شرابیوں زانیوں اور بے ایمانوں کی فوج کیوں بھرتی کرتے چلے جا رہے ہیں یہ تعجب قدرتی امر ہے آئمہ کو بھی لازماً یہ احساس تو ہوتا ہو گا، مگر ان کے اطمینان کی کوئی وجہ ضرور ہوگی چنانچہ صاحب تفسیر عیاشی نے اس راز سے پردہ اٹھایا ہے۔

3)_ تفسیر عیاشی 128:1

عن عبد الله بن يعفور قال قلت لابي عبد الله الى الخالط الناس في كثر محبي من اقوام ولا يتولونكم ويتولون فلانا وفلانا لهم امانة وصد و وفاء و اقوام يتولونكم ليس هو تلك الأمانة ولا الوفاء ولا الصدق قال فاستوى ابو عبد الله جالسا را قبل على كالغضبان ثم قال لا دین لعن و ان بولاية امام جائر ليس من الله ولا عتب على من دان بولاية امام عمال من الله قال قلت لا دين لاولئك ولا عتب علی ھئولاء۔

عبد اللّٰہ بن یعفور کہتا ہے میں نے امام جعفر سے کہا کہ میں لوگوں سے ملتا جلتا ہوں تو میرے تعجب کی کوئی حد نہیں رہتی جب میں دیکھتا ہوں کہ جو لوگ آپ کو دوست نہیں رکھتے اور ابو بکر و عمر کو دوست رکھتے ہیں ان میں امانت ہے صداقت ہے اور ایفائے عہد ہے اور آپ کے مجنوں میں نہ ایمانداری ہے نہ سچائی ہے نہ ایفائے عہد ہے راوی کہتا ہے یہ سن کر امام جعفر اُٹھ کے سیدھے بیٹھ گئے اور نہایت غصہ سے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا ہے کہ ظالم خلیفے کی اطاعت کرنے والے کا کوئی دین نہیں اور جو عادل امامت کی اطاعت کرتا ہے جو خدا کی طرف سے امام ہے اسے کوئی حرج نہیں راوی کہتا ہے میں نے پھر کہا ان کا کوئی دین نہیں اور ان کے لیے کوئی حرج نہیں۔

یہی روایت اصول کافی طبع تجدید ص 262 پر موجود ہے۔

اس روایت سے کئی عقدے حل ہو گئے ۔

1)_ ابن یعفور جیسے لوگوں کے تعجب کا خاتمہ ہوا کہ شیعہ ہونا ہی بڑا کمال ہے۔ جو تمام عیبوں کو مٹا دیتا ہے۔

2)_معلوم ہوا کہ ابو بکر وعمر کی محبت کا خاصہ یہ ہے کہ ان کے چاہنے والوں میں امانت صداقت اور ایفائے عہد کے وصف پیدا ہو جاتے ہیں اور ائمہ کی محبت کی خاصیت یہ ہے کہ آدمی بد دیانت جھوٹا اور بد عہد بن جاتا ہے۔ ۔

3)_ یہ کوئی نری علمی بات نہیں بلکہ عمل دنیا میں شیعہ کی یہ خاصیت اس طرح ابھر کر سامنے آتی ہے کہ ابن یعفور اور ابراہیم جیسے شیعوں نے بھی نوٹ کر لیا حالانکہ جو شخص ہر وقت کسی متعفن ماحول میں رہے اسے بدبو کا احساس نہیں ہوتا اور خوشبو میں دلچسپی نہیں ہوتی مگر کمال یہ ہے کہ ان سربر آوردہ شیعوں نے بھی اپنے شیعوں کے یہ رذائل محسوس کر لیے امام کی ایک بات سمجھ میں نہیں آسکی کہ آپ نے فرمایا کہ

لا عتب على من دان بولايته امام عدال

وان کے معنی اگر اطاعت اور تابعدار ہوں۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیعہ لوگ یہ سب کچھ امام کی اطاعت میں کرتے ہیں۔ کیا امام انہیں حکم دیتے ہیں کہ ڈاکے مارو۔ شراب پیو بے ایمانی کرو زنا کرو لواطت کرو سود کھاؤ بے حیائی کرو۔ اگر بات نہیں ہے تو شیعہ واقعی فرض منصبی ادا کرتے ہیں مگر اسی طرح اماموں کا جو امیج بنتا ہے۔ وہ کوئی شریفانہ نہیں اور اگر امام انہیں اس سب بد معاشی کا حکم نہیں دیتے مگر شیعہ سینہ زوری سے کرتے ہیں تو اماموں کی اطاعت کہاں سے قرار دی جا سکتی ہے۔

صفحہ 2 از 4