تحریف قرآن اور تقابل ادیان - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تحریف قرآن اور تقابل ادیان

  مولانا اللہ یار خاں

صفحہ 3 از 4

اور جب اطاعت نہیں تو عتاب کیوں نہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کچھ کرنے کرانے کا جھملیہ سرے سے موجود نہیں بس صرف کہہ دو ہم محب اہل بیت ہیں پھر جو چاہو کرو برائی میں شیطان کو بھی نیچا دکھا دو تو کچھ نہیں بگڑتا ہے.

~جفائیں بھی ہیں فریب بھی ہیں نمود بھی ہے سنگار بھی ہے

اور اس پر یہ دعوائے حق پرستی اور اس پریاں اعتبار بھی ہے۔

دوسری طرف حالت یہ ہے کہ دنیا کی ہر خوبی اختیار کرو عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاق میں تمہاری شخصیت میں کہیں انگلی اٹھانے کی جگہ نہ ملے مگر تم نے ابو بکر و عمر سے محبت کی تو تمہاری ساری خوبیوں پر پانی پھر گیا۔ تمہاری دیانت، امانت ،صداقت، نماز ،روزه صلہ رحمی ، حج عمره ، ایثار قربانی سب بے کار۔

نتیجہ یہ نکلا کہ دین نام ہے صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہم سے عملاً دشمنی رکھنے کا اور محبت اہل بیت کا زبانی دعویٰ کرنے کا۔ اس دین میں ہر برائی ملال اور ہر نیکی حرام یہ ہے فرق شیعہ اور غیر شیعہ میں ۔

4)_تفسیر مراة الانوار 130

وسياتي في السيئة مايدل على ان عدد على أن شرب من الفرات ولو قال بسم الله الرحمن الرحيم في اوله و الحمد الله في اخره ما كان ذلك الامينه او دما مسفرها فیمکن تاويل الدم بما كول الناصبی رما في قلبه من نجاسة۔

"مردار" کی بحث میں آئے گا جو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ علی ؓ کا دشمن اگر دریا افراد سے پانی پیے اول بسم اللّٰہ پڑھے آخر میں الحمدللہ پڑھے پھر بھی یہ پانی ناپاک ہے اور بہتا ہوا خون ہے جو قطعی حرام ہے بس ممکن ہے کہ خون سے مراد سنی کی کھائی ہوئی غذا ہے اور اس کے دل میں جو نجاست بھری ہوئی ہے۔

یعنی سنی کا کھانا ،پینا ،حقیقتاً سب حرام اور نجاست ہے خواہ وہ بظاہر کیسا ہی حلال اور طیب ہو۔

5)_تفسیر البرہان 453:4

عن ابى عبد الله قال لا يبالى الناصب صلي امرتاني وهذا الآية نزلت فيهم عامله ناصية تصل نارا حامیۃ۔

امام جعفر نے فرمایا کہ سنی نماز پڑھے یا زنا کرے ان میں کوئی فرق نہ سمجھ یہ آیت ان کے حق میں نازل ہوئی عمل کرنے والے تکلیف اٹھانے والے دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔

امام نے قطعی فیصلہ کر دیا کہ سنی کی نماز اور اس کا زنا کرنا ایک جیسا ہے ایک جیسا ہونے کی دو صورتیں ہیں اول یہ کہ سنی کا زنا کرنا بھی نماز کی طرح عبادت ہے یہ صورت سنی کے حق میں ممکن نہیں کیونکہ یہ خصوصیت صرف شیعہ کو حاصل ہے جیسا کہ تفسیر منہج الصادقین کے حوالے سے گزر چکا ہے کہ جو شیعہ عمر بھر میں ایک دفعہ متعہ کرے اس کا درجہ حسین رضی اللّٰہ عنہ کے برابر جو دو دفعہ متعہ کرے حسن رضی اللّٰہ عنہ کے برابر تین دفعہ کرے تو علی رضی اللّٰہ عنہ کے برابر چار دفعہ کرے تو رسولﷺ کے برابر ہے ۔ اور متعہ دراصل زنا کا بدلا ہوا لیبل سے تفصیل کے لیے دیکھئے ہماری کتاب تحذیر المسلمین دوسری صورت یہ ہے کہ سنی کی نماز بھی ایسا ہی گناہ ہے جیسا زنا ۔ اس صورت میں یہ امر یقینی ہو جاتا ہے کہ سنی کی عبادت اور نیکی دراصل گناہ اور وبال ہی ہے مگر ایک الجھن پیدا ہو جاتی ہے کہ گذشتہ کسی باب میں بیان ہوا ہے کہ سنیوں کی نیکیاں شیعوں کو دی جائیں گی۔ حتیٰ کہ ایک لاکھ سنیوں کی نیکیاں دیکر ایک شیعہ کو جنم سے بچایا جائے گا سوال یہ ہے کہ جب سنی کی عبادت بھی ایک نہیں تو سنیوں سے کیا لیا جائے گا اگر سنی کی نماز بھی زنا ہے تو یہ حنس شیعوں کے پاس پہلے ہی کیا کم ہو گی۔با ایں ہمہ اگر شیعوں کی نجات سنیوں کی نیکیوں کی وجہ سے ہو گی، اور

3)_شیعوں کے ہاں نجات ہی زنا پر موقوف ہے تو اس نجات کا تصور خود کر لیجئے کیسی ہوگی۔

سنی کی عبادت بھی زنا کے برابر ہے تو ثابت ہوا کہ یا پہلا مفروضہ غلط ہے یا دوسرا دونوں کا صحیح ہونا ممکن نہیں۔

امام نے شیعوں کی برائیوں اور سنیوں کی نیکیوں کا عقدہ بھی حل کر دیا ہے۔

4)تفسیر البرہان 364:2

فما رایتہ من شیعتنا من زنا اولولط اوترک صلوۃ او صیام اوحج لہ جہاد او جنایۃ اوکبیرۃ من ھذۃ الکبائر فھو من طینۃ الناصب وعنصرہ الذی مسجد فیه الی ان قال ومارایت من الناصب والمواظبتہ علی السلوۃ والصیام والحج والجھاد اولزکوۃ ابواب ابرفھومن طینج المؤمن الذی قد مرج فیه۔

ابرہیم کو امام جعفر ایک اصولی مسئلہ سمجھاتے ہیں۔ اے ابرہیم شیعہ سے جو زنا لواطت، ترک، نماز، روزہ ،حج ،جہاد اور کبیرہ گناہ دیکھتا ہے وہ اس مٹی کی وجہ سے جو ناصبی یعنی سنی کی مٹی شیعہ کی مٹی میں مل گئی اور سنی سے جو نیکیاں نماز ،روزہ، حج ،جہاد ،ذکوۃ وغیرہ دیکھتا ہے وہ اس وجہ سے کہ شیعہ کی مٹی سنی کی مٹی میں مل گئی۔

اس مسئلہ کو اسی کتاب 454:4 پر تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

اصول یہ ہے کہ شیعہ اصلاً پاک طینت ہے اس سے گناہ ہو ہی نہیں سکتا اور سنی اصلًا پاک طینت مٹی سے بنایا گیا ہے اس سے کوئی نیکی ہو نہیں سکتی اب جو شیعہ میں برائیاں اور سنیوں میں نیکیاں نظر آتی ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کی مٹی ادھر اُدھر ملی گئی اور یہ گڑ بڑ پیدا ہوئی۔ لہذا سنی کی نیکیاں دراصل شیعہ کی مٹی کی وجہ سے ہیں.

لہٰذا شیعہ کی نیکیاں ہیں اور شیعہ کی برائیاں دراصل سنی کی مٹی کی وجہ سے ہیں اس لیے یہ برائیاں سنی ہی کی ہوئیں، لہٰذا شیعہ اور سنی میں وہی نسبت ہوئی جو فرشتہ اور شیطان میں ہے کہ پہلے سے برائی ہو نہیں سکتی اور دوسرا نیکی کر ہی نہیں سکتا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب شیعہ اور سنی کی مٹی میں ہی جدا جدا خاصیت رکھی گئی تو یہ گڑ بڑ کیسے ہو گئی اگر اللّٰه تعالیٰ نے ہی ادھر ادھر امیزش کردی تو یہ مٹیاں علیحدہ کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ اور اگر فرشتوں سے یہ سہو ہو گیا تو یفعلون مایو مردن یو نبی پرانے وذن بیت کیا گیا ہے (معاذ اللّٰه)

دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بنی نوع انسان میں کیا صرف شیعہ اور سنی ہی شامل ہیں باقی مذاہب کے لوگ سب بھی آخر مٹی ہی سے پیدا ہوتے ہیں ان کی مٹی کا کوئی ذکر نہیں کہ وہ کیسی تھی اور ان کی بھی گڑ بڑ کہیں ہوئی یا نہیں۔ بھول چوک بھی ہو تو سنیوں کے معاملے میں اور شیعہ کا کفارہ نہیں ، تب بھی سنی اور دنیا میں شیعوں کے بدن سلامت بھی سنی ہی بنیں۔

صفحہ 3 از 4