تحریف قرآن اور تقابل ادیان - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تحریف قرآن اور تقابل ادیان

  مولانا اللہ یار خاں

صفحہ 4 از 4

تیسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں جگہ اصل مغلوب ہو گیا اور قبضہ مخالفانہ کرنے والا غالب رہا ۔ یعنی شیعوں کی مٹی سنی کی مٹی میں ملی تو وہ نیکی کرنے لگا اس کی اصل جو برائی تھی وہ دب گئی اسی طرح سنی کی مٹی جو شیعہ کی مٹی میں ملی تو شیعہ برائی کرنے لگا۔ اور اس کی اصل جو نیکی تھی وہ دب گئی۔ دونوں طرف اصل مغلوب مجبور اور کمزور ہے اور حملہ آور مٹی دونوں جگہ غالب ہے نہ جانے کیوں۔

7_تغییر البرہان 89:4 اور تفسیر قمی سورۃ زمر کی آیت کے تحت۔

فقال لهم خزنتها سلام عليكم طبتم ای طابت مواليد کم پیدائش پاک لانه لا يدخل الجنة الاطيب المواد فادخلوها خالدين قال امیر المومنین ۔ ان فلانا وفلان وفلانا غصبوناً حقنا واشتروا بها الاماء و تزوجوا بها النساء الا وقتل جعلنا الشيء تنا من ذلك في حل لتطيب مواليدهم.

اور اہل جنت کو فرشتے کہیں گے تم پر سلام ہو پاک تھے تم یعنی تمہاری پیدائش پاک ہے

کیونکہ جنت میں وہی داخل ہوگا جو پاک پیدائش والا ہے یعنی حلالی ہے پس داخل ہو جاؤ جنت میں ہمیشہ کے لیے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ عمر رضی اللّٰہ عنہ اور عثمان رضی اللّٰہ عنہ نے ناحق غصب کیا اس مال سے لونڈیاں خریدیں اس مال سے عورتوں سے نکاح کیا لہٰذا سب اولاد حرام کی ہوئی محقق بات یہ ہے کہ ہم نے یہ مال شیعہ کے لیے حلال کر دیے کیونکہ شیعہ کی پیدائش پاک اور حلال ہے۔

جنت میں داخلہ کا معیار تو شیعہ نے مقرر کر دیا مگر اس سے کئی اُلجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔

1_شیعہ کو اقرار ہے کہ نبی کریمﷺ کے زمانے میں شیعہ کا وجود نہیں تھا کیونکہ خلافت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا تھا۔

۲2_نبی کریم ﷺ کے بعد خلافت کا سوال پیدا ہوا بقول شیعہ جو لوگ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کو خلیفہ تسلیم کرنے لگے ۔ وہ ہوئے شیعہ اور جن لوگوں نے بقول شیعہ غاصبین کو خلیفہ تسلیم کیا وہ مرتد ہو گئے۔

3_مرتد نہ ہونے والوں میں چار کا نام آیا ہے ان میں سے ایک تو حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ ہوئے یعنی بقول شیعہ بلا فصل اور تین جو باقی رہ گئے انہوں نے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کو خلیفہ بلا فصل تسلیم کیا ہو۔ لہٰذا بقول شیعہ وہی شیعہ ہوئے ۔

4__حرامی اور حلالی کا مدار نسب و نسل پر ہے مذہب پر نہیں ۔

5_ اگر صرف شیعہ ہی حلالی ہیں تو ان تین حضرات کی اولاد میں سےہی ہوتے ضروری ہیں ورنہ وہ حلالی نہیں بن سکتے ۔

6_اگر کوئی غیر شیعہ مذہب تبدیل کر کے شیعہ ہو جائے تو مذہب تبدیل ہو گا حلالی پھر بھی نہیں بن سکے گا لہٰذا شیعہ کا ملال ثابت ہونا بھی محالات میں سے ہے۔ چونکہ ہر شیعہ ان تین (مقداد ،سلمان، ابوزر) کی نسل سے نہیں ثابت ہو سکتا لہٰذا شیعہ ہونے کے باوجود حلالی بھی ثابت نہیں ہو سکتا اور ولد الزنا کے متعلق شیعہ روایت یہ ہے کہ

تفسیر عیاشی 148:2

من ابي عبد الله ان نوحا حمل الكلب في السفينة ولم يحمل ولد الزناد عنه قال ینبغی لولی الزنا ان لا تجوز شهادته ولا یوم الناس. لم يحمل نوح في السفينة وقد حمل فيها الكلب والخنزیر۔

امام جعفر نے فرمایا حضرت نوح علیہ السلام نے کتنے لوگ کشتی میں سوار کیے مگر جراحی کو سوار نہ کیا اور آپ فرماتے ہیں کہ مناسب یہ ہے کہ حرامی کی شہادت قبول نہ کی جائے اور اسے امام نہ بنایا جائے حضرت نون علیہ السلام نے حرامی کو کشتی میں سوار نہ کیا تھا حالانکہ کتے اور سور کو کشتی میں سوار کیا تھا۔

ان تفسیری رموز سے صورت سے پیدا ہوئی ہے کہ۔

1_غیر شیعہ کی طینت پاک نہیں لہٰذا اس کی اولاد کی طینت بھی پاک نہیں۔

2_ شیعہ کے آباو اجداد غیر شیعہ تھے لہٰذا اختلاف کے مذہب تبدیل کر لینے کے باوجود طینت وہی ناپاک ہی رہی ۔

3_ناپاک طینت والا انسان کتے اور خنزیر سے بدتر ہے ۔

4_غیر شیعہ کی طینت بقول شیعہ ناپاک ہوئی اور شیعہ کی طینت ان ناپاک کی اولاد سے ہونے کی وجہ سے ناپاک ہوئی ۔ لہٰذا کوئی انسان خواہ شیعہ ہو یا غیر شیعہ وہ کتے اور سور سے بھی برا ہے۔ شیعہ مفسرین کی نکتہ آفرینی ملاحظہ ہو اور شرف انسانیت کا تصور کیجئے ۔


صفحہ 4 از 4