کفار کے ساتھ ملازمت کرنا
کفار کے ساتھ ملازمت کرنا
سوال: کفار کے ساتھ ملازمت کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: کفار کے ساتھ ملازمت کرنا اس صورت میں جائز ہے جب مسلمان کو اپنے عقائد اور اعمال متأثر ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ اور اس میں کفار کے سامنے ذلیل ہونا نہ پڑے۔
چنانچہ جو ملازمت مسلمان کے عقائد اور اعمال پر اثر انداز ہوتی ہو یا اس میں کافر کے سامنے ذلیل ہونا پڑے، وہ مکروہ ہے۔
خلاصة الفتاویٰ میں ہے کہ مسلمان جب کافر کو اپنا نفس اُجرت پر دے دے، تاکہ اس کی خدمت کرے تو یہ جائز مگر مکروہ ہے۔ فضلیؒ نے کہا ہے کہ اس کی ایسی خدمت جائز نہیں جس میں ذلیل ہونا پڑے۔ بخلاف زراعت اور درخت سینچنے کے (یعنی جس ملازمت میں مسلمان کی اہانت نہ ہو)
(فتاویٰ عثمانیه جلد 8، صفحہ 92)