موجود قرآن اور پوشیدہ قرآن میں فرق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

موجود قرآن اور پوشیدہ قرآن میں فرق

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 1 از 4

موجود قرآن اور پوشیدہ قرآن میں فرق

قاعدہ یہ ہے کہ انسان جب کوئی دعویٰ کرتا ہے تو لازماً کسی دلیل کی بنیاد پر ایسا کرتا ہے اور اگر بے سوچے سمجھے کوئی دعویٰ کر بیٹھے تو اسے ثابت کرنے کے لیے دلیل تلاش کرنی پڑتی ہے اور اگر نہ ملے تو اپنی انا کی تسکین کے لیے دلیل گھڑنی پڑتی ہے خواہ وہ دلیل کتنی بودی اور بے سروپا ہو انسان اس جھوٹی تسلی پر ہی اکتفا کر لیتا ہے۔

شیعہ نے موجودہ قرآن کو کتاب الٰہی تسلیم کرنے سے انکار کیا اور ایک موہوم کتاب کو کتاب الٰہی تسلیم کرنے پر اصرار کیا اس لیے ان ہر دو دعووں کے لیے دلیلیں تیار کرنا ضروری تھا تیار کرنا اس لیے کہ کسی موہوم چیز کی دلیل ہوا نہیں کرتی مگر تیار کرنی پڑتی ہے چنانچہ اس سلسلے میں شیعہ کے چند دلائل کا ذکر کیا جاتا ہے۔

1۔اصول کافی باب انہ لم یجمع القرآن کلا الا الائمتہ وتفسیر مراة الانوار ص__37

امام باقر سے روایت ہے ۔۔

ماادعى احد من الناس انه جمع القران كله كما انزل الله الا كزب وما جمعه وما حفضه كما انزل الله الا على بن ابي طالب والائمتہ من بعدہ ۔

جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس نے سارا قرآن جیسا نازل ہوا تھا جمع کیا ہے ۔تو وہ جھوٹا ہے سوائے علی ابن ابی طالب کہ صرف انہوں نے سارا قرآن جمع کیا اور حفظ کیا اور ان کے بعد کے اماموں نے۔

2_ تفسیر البرہان جلد 1 ص_ 1 ۔امام باقر سے یہی روایت درج ہے

پہلا فرق یہ ہے کہ سارا قرآن حضرت علی کے بغیر کسی نے جمع نہیں کیا حفظ نہیں کیا اور موجودہ قرآن چونکہ حضرت علی نے جمع نہیں کیا لہٰذا یہ سارا قرآن وہ ہے جو صرف حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے جمع کیا

روایت میں واللائمتہ من بعدہ کا لفظ کچھ اشکال پیدا کرتا ہے۔ اگر اس کا تعلق جمع اور حفظ دونوں سے ہے تو یہ ممکن نہیں کیونکہ بعد کے آئمہ نزول قرآن کے وقت یا تو پیدا ہی نہیں ہوئے تھے یا اس عمر کو نہیں پہنچے تھے کہ انہیں قرآن جمع کرنے کا شعور ہو ہاں اگر اس کا تعلق حفظ سے ہو تو اس امر کا امکان ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے جمع کر کے جو قرآن بعد کے آئمہ کے لیے چھوڑا انہوں نے اس کو خوب حفاظت کی ایسی حفاظت کے اسے ہوا بھی نہیں لگنے دی۔

2_ فصل الخطاب ص238

ان القرآن الذي جاء به جبرئيل الى النبي صلى الله عليه وسلم سبعتہ عشر الفاية وفي رواية سليم ثمانیہ عشرایۃ۔

یقیناً جو قرآن جبرائیل امین نبیﷺ کے پاس لائے تھے وہ سترہ ہزار آیت کا تھا اور سلیم کی روایت کے مطابق وہ 18 ہزار آیت کا تھا۔

ايضا ص 104

ان الموجود منه على القول المعروف ستة الاف اية ومانه اي. دست وثلاثون ایۃ۔

موجودہ قرآن 6234 آیت کا ہے۔

یہ دو روایات پہلے فرق کی تائید کرتی ہیں کہ واقعی سارا قرآن وہی ہو سکتا ہے جو سترہ یا اٹھارہ ہزار آیات کا ہے ۔ 6236 آیتوں والا قرآن سارا قرآن نہیں ہو سکتا۔ اب اس فرق کی وجہ ملاحظہ فرمائیں۔

4_ فصل الخطاب ص24

و باحتمال اخفائه عليهم بعض ما انزل واختصاصه عليا بالقرآن وله احتمال انفرادہ امیر المومنین ببعض ما كتبه بین اظهر هم کانفراد وغیرہ۔

یہ احتمال بھی ہے کہ رسول خدا نے بعض حصّہ قرآن صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنہ کے پڑھنے کے لیے مختص کیا ہو۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ رسول خداﷺ نے بعض قرآن نے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کو منفرر کیا جو انہوں نے لکھا جیسا کہ بعض اوروں کو منفرد کیا تھا بعض حصہ قرآن سے۔

یعنی یہ فرق دو وجہ سے پڑ سکتا ہے۔

1) نبی کریم نے قرآن کا بعض حصہّ صحابہ رضی اللّٰہ عنہ سے پوشیدہ رکھا وہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے لیے مختص کیا ہو۔

دلیل بنانے کا کچھ حق تو ادا کیا۔ مگر اس کا بودا پن بھی ظاہر ہے کیونکہ اس بات کا کہیں ثبوت نہیں ملتا کہ اللّٰه اپنے رسول پر کتاب نازل کرے مگر وہ انسانوں سے چھپانے کے لیے۔ یہ بات کچھ اس طرح بنی کہ ڈاکٹر کہے کہ یہ دوا فلاں مرض کی ہے مگر خبردار نہ کسی کو بتانی ہے نہ استعمال کرانی ہے۔ کوئی پوچھے کہ اس بتانے میں کیا تُک ہے۔

2_دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ قرآن کے کچھ حصہ کے پہلے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کو منفرد کیا جو صرف انہوں نے لکھا یعنی جو حصّہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے لیے منفرد کیا وہ صرف انہی کیلئے تھا دوسروں کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ فرق اتنا بڑا ہے کہ اس پر کچھ حصہ کا لفظ صادق نہیں آتا۔ یعنی قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے 6236 آیتیں اور صرف حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے لیے 1764 آیتیں کیا یہ کچھ حصّہ بنتا ہے یا قریباً دو گنا بنتا ہے۔

پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن تو کتاب ہدایت ہے پوری انسانیت کی ہدایت کے لیے 6236 آیتیں کافی ہیں اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی ہدایت کے لیے 11764 آیتیں بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ 6236 میں بھی حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کسی نہ کسی حد تک حصہ دار ضرور ہیں۔ حیرت ہے کہ حضرت علی کی ہدایت کا اتنا اہتمام کیوں کیا گیا حالانکہ داناؤں کا قول ہے عقلمند را اشارہ کافی است. اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ تو ابو الائمہ ہیں اور عقل مجسم ہیں اور ان کو ہدایت دینے پر اتنا زور لگایا گیا۔ پہلا احتمال کہ نبی کریمﷺ نے قرآن کا کچھ حصہ چھپا کے رکھا گو نبی کریمﷺ کی صریح توہین ہے ۔ مگر اس چھپانے کی وجہ بھی شیعہ نے تراش لی ۔

5_فصل الخطاب ص 81

وكتمان القرآن عن هؤلاء في هذا المقام أولى من وجوه عديدة بل تسليمه اليهم اشبه بيع السلام من أعداء الدين اذفيه تقوية المنافقين ولصوص الشريعة سيد المرسلین و وجود فرد تام صحیح محفوظ منه عند الامام كان فى اسقاط الوجوب الكفائي عن النماعۃ۔

اس موقع پر قرآن کا صحابہ رضی اللّٰہ عنہم سے پوشیدہ رکھنا کئی وجہ سے بہتر تھا قرآن کا ان کے حوالے کر دینا ایسا تھا جیسے دشمن کو ہتھیار دے دیتا ہے دشمنان دین کو قرآن دینے میں منافقوں کو قوت ملتی تھی اور شریعت سید المرسلین کے چوروں کو تقویت حاصل ہوتی تھی اور قرآن كا صحیح اور سالم نسخہ امام غائب کے پاس محفوظ ہے جو باقی جماعت سے وجوب کفائی کے ساقط کرنے کے لیے کافی ہے۔

صفحہ 1 از 4