موجود قرآن اور پوشیدہ قرآن میں فرق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

موجود قرآن اور پوشیدہ قرآن میں فرق

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 2 از 4

قرآن کو چھپا رکھنے کے وجوہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ اگر یہ بات حقیقت پر مبنی ہوتی تو کہہ دیا جاتا ہے کہ اللّٰه نے چھپا رکھنے کا حکم دیا تھا۔ نبی کریمﷺ نے چھپا رکھا بات ختم ہوئی مگر موجودہ قرآن میں اس کے خلاف قرآن کی تبلیغ دعوت تبلیغ کے احکام ہیں چھپا رکھنے کا کہیں اشارہ بھی نہیں ملتا۔ رہی یہ بات کہ پوشیدہ قرآن میں شاید کچھ حصہ چھپا رکھنے کا حکم ہو ۔ اس کا احتمال تو ہے مگر شیعہ نے جو وجوہ عدیدہ گھڑنے کی کوشش کی ہے وہی اس کی تردید ہے ورنہ شیعہ مفسرین امام باقر سے کوئی روایت تیار کر دیتے کہ پوشیدہ قرآن میں اس کو پوشیدہ رکھنے کا حکم خود اللہ نے دیا تھا۔

منافقین کی قوت میں اضافہ کرنے کا خطرہ کے پیش نظر اور فی ہذا المقام کے پیش نظر اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کے سامنے وہ پوشیدہ قرآن اس وجہ سے ظاہر نہیں کیا گیا مگر اس کی کیا وجہ ہے کہ حضرت علی نے اپنے عہد خلافت میں اس کو کیوں ظاہر نہیں کیا اگر ان کے عہد میں بھی منافقین اور نصوص شریعت کے قوت پکڑنے کا خطرہ تھا تو کیا شیر خدا میں اس موہوم خطرے کا مقابلہ کرنے کی قوت نہیں تھی ؟ اس سے تو معاذ اللہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی بے بسی اور پرے درجے کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔

نصوص شریعت کی ترکیب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پوشیدہ قرآن میں کچھ ایسے بنیادی مسائل تھے کہ خصوصی شریعت ان آیتوں سے غلط مسائل استنباط کر کے شریعت کو بگاڑ دیتے۔ واقعی بات تو خطرے کی ہے مگر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے وہ اصل شریعت جس میں چوری کا عنصر نہ ہو اپنے عہد میں کیوں رائج نہ کی اب کون فیصلہ کرے کہ علامہ نوری طبرسی شیعہ عالم نے نصوص شریعت کس کو قرار دیا ہے ایک طرف چوری کا موہوم خطرہ ہے دوسری طرف بالفعل چوری کا ثبوت مل رہا ہے۔

آخری بات یہ کہی گئی ہے کہ قرآن کی حفاظت شیعہ کے نزدیک فرض کفایہ ہے اور قرآن کی حفاظت کا مفہوم یہی ہے کہ جس مقصد کے لیے قرآن نازل کیا گیا تھا اس سے وہی کام لیا جاتا رہے، وہ مقصد دو ہیں اول اس پر ایمان دوم اس کی تعلیمات کے مطابق عمل تو شیعہ کا عقیدہ یہ ہوا کہ قرآن پر ایمان ہو یا عمل امام غائب کر رہا ہے۔ لہٰذا شیعہ اس بار سے سبکدوش ہو گئے۔ انہیں قرآن پر نہ ایمان لانے کی ضرورت ہے۔ نہ اس پر عمل کرنے کا تکلف ضروری ہے اور یہ عقیدہ عین عقل کے مطابق ہے کہ جب وہ قرآن بندوں کے لیے نازل ہی نہیں ہوا۔ بلکہ حضرت علی ؓ کے لیے نازل ہوا تو امام جانے اور قرآن جانے شیعوں کا قرآن سے کیا واسطہ ۔

حضرت علی کے منفرد ہونے کے ثبوت میں ارشاد ہوتا ہے۔

6_ انوار النمانیہ ص267ص268

عثمان و اضرابه ما كانوا يحضرون الا في المسجد من جماعة الناس نما يكتبون الا ما نزل به جبرئيل بين الملادو اما الذي كان ياتی به داخل بیته صلی الله عليه وسلم فلم يكن يكتبه الا امیر المومنين لان له محرمیته دخولا د و خروجاً فكان ينفرد بكتابه هذا و هذا القرآن الموجود الان في ايد الناس هو خط عثمان۔

حضرت عثمان اور ان جیسے لوگ اس وقت قرآن لکھا کرتے تھے جو مسجد نبوی میں نازل ہوتا تھا مگر جو تنہائی میں نبی کریمﷺ کے گھر میں نازل ہوتا تھا وہ صرف حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ ہی لکھا کرتے تھے اس حصہّ میں وہ منفرد تھے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ چونکہ محرم تھے اس لیے حضورﷺ کے گھر میں آنے جانے کی انہیں آزادی تھی۔ اور کسی کو یہ آزادی نہ تھی اور یہ قرآن جو موجود ہے یہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کا لکھا ہوا ہے۔

اس روایت میں حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے انفراد کی وجہ یہ بتائی گئی کہ قرآن کا جو حصہ گھر میں نازل ہوتا تھا وہ صرف حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ لکھتے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نزول قرآن کے متعلق جو روایات ملتی ہیں یا جن کو علماء شان نزول کے سلسلے میں نقل کرتے ہیں ان کو دیکھا جائے تو کیا یہ باور کیا جا سکتا ہے کہ 6236 آیات تو علی الاعلان نازل ہوئیں جو پوری انسانیت کے لیے اور 11764 آیتیں در پردہ گھر میں نازل ہوئیں اور وہ صرف ایک آدمی کے لیے تھیں ۔ کیا اس تناسب کو عقل عام باور کرتی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ بیتہ میں ضمیر کا مرجع کون سا ہے؟

حضورﷺ کا گھر سے مراد ازواج مطہرات کے گھر ہی تو ہیں ان میں حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہ حضرت حفصہ رضی اللّٰہ عنہ ، حضرت ام حبیبہ رضی اللّٰہ عنہ اور دیگر ازواج مطہرات شامل ہیں، اگر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ حضورﷺ کے داماد ہونے کی بنا پر محرم تھے تو حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کیوں نہ تھے جو دوہرے داماد ہیں کیا حضرت ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ اپنی بیٹیوں کے لیے محرم نہ تھے۔ کیا امیر معاویہ رضی اللّٰہ عنہ اپنی بہن کے لیے محرم نہ تھے۔ صرف حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی محرمیت میں کونسی خصوصیت ہے۔

حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے منفرد ہونے کے وصف کو تقویت دینے کے لیے ایک اور نظیر پیش کی جاتی ہے۔

7_فصل الخطاب ص80٫81

ان جماعة ممن كانوا علی الحق ظاهر و باطنا لسلمان و اصحابه كانوا منفر دين ايضا ببعض الامیات كانفراد غيرهم .

ایک جماعت ظاہری اور باطنی طور پر حق پر تھی جیسے مسلمان اور ان کے ساتھی یہ لوگ بھی بعض آیات میں منفرد تھے ۔ جن کا علم دوسروں کو نہیں تھا۔

اس روایت سے ظاہر ہوا کہ آیات کے نزول میں منفرد ہی لوگ تھے جو بقول شیعہ ظاہر اور باطن حق پر تھے۔ اور وہ صرف چار تھے۔ مقداد، سلیمان ابوذر اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ ‏حضرت علی جن آیات میں منفرد تھے ان کی تعداد حساب سے 11364 بنتی ہے اس کا کہیں سراغ نہیں ملتا کہ ان تین حضرات کے لیے جو آیات نازل ہوئیں ۔ جن میں یہ منفر د تھے اور جو کسی نے دوسرے کو نہیں بتائیں وہ کتنی آیات تھیں خیر اس کو تو جانے دیجئے اس روایت سے دو تو نئے نکتے حاصل ہو سکتے ہیں ۔ اول یہ کہ جو قرآن حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے جمع کیا وہ کل قرآن نہیں یہ دعویٰ غلط ہو گیا۔ کیونکہ سلمان اور ان کے ساتھی جن آیات میں منفرد تھے انہوں نے وہ آیتیں کسی کو نہیں بتائیں اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے کل قرآن جمع کرنے کا دعویٰ غلط ہوا۔

صفحہ 2 از 4