موجود قرآن اور پوشیدہ قرآن میں فرق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

موجود قرآن اور پوشیدہ قرآن میں فرق

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 3 از 4

دوسری بات یہ ہے کہ قرآن دو نہ ہونے پانچ ہوئے ۔ اول وہ قرآن جو مسلمانوں کے پاس موجود ہے دوسرا وہ جو امام غائب نے چھپا رکھا ہے۔ تیسرا وہ جو سلمان کے لیے علیحدگی میں نازل ہوا۔ چوتھا وہ جس میں ابو ذر منفرد ہیں پانچواں وہ جو تنہائی میں مقداد کے لیے نازل ہوا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ پورا قرآن نبی کریمﷺ نے معاذ اللّٰه نہ اماموں کو دیا نہ مسلمانوں کو دیا کچھ حصہ کسی سے چھپا یا کچھ حصہ کسی سے چھپایا اور معاذ اللہ ان عليك الا البلاغ اور وما ارسلناك الاكافة للناس کا اعلان کرنے والا رب العالمین دیکھتا رہ گیا اور قرآن چوری ہوتا رہا ۔

لا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم

اس روایت میں سے ایک بات قابل غور ہے کہ سلمان و اصحابہ نے قرآن کا وہ حصہ جس میں وہ منفر د تھے کسی کو بتایا یا نہیں تو اس سلسلے میں دو احتمال ہیں اول یہ اپنے ساتھیوں کو ایک دوسرے نے بتا دیا ہو۔ دوسرا یہ ہے کہ تمام صحابہ کو بتا دیا ہو تو ان دونوں امور کی وضاحت کر دی گئی ہے ۔

8_ اصول کافی کتاب الحجۃ

عن الجا عبد الله قال ذكرت التقيته يوما عند على بن الحسين نقال والله لو علم ابوذر ما في قلب سلمان لقتل ولقد اخبار سول اللہ بينهما فما ظنكم بسائر الحق۔

امام جعفر نے فرمایا ایک روز امام زین العابدین کے پاس تقیہ کا ذکر چھڑا تو فرمایا خدا کی قسم اگر ابوذر کو معلوم ہو جاتا کہ سلیمان کے دل میں کیا ہے تو سلیمان کو قتل کر دیتا حالانکہ نبی کریمﷺ نے ان دونوں کے درمیان رشتہ اخوت قائم کیا تھا۔ یعنی بھائی بھائی بنایا تھا تو باقی مخلوق کے متعلق کیا پوچھتے ہو۔

ظاہر ہے کہ دل کی بات دین اور ایمان ہی تو ہے اور قرآن کی آیات دین سکھانے کے لیے نازل ہوئیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ ان منفر دیں نے جب اپنا دین اپنے کسی ساتھی کے سامنے ظاہر نہیں کیا تو قرآن کی وہ آیات جو صرف انہی کے لیے نازل ہوئیں اور حضورﷺ نے معاذ اللّٰه صرف اس کے کان میں کہ دیں وہ بھید کب اپنے ساتھیوں کو بتا سکتے تھے ۔ کون خواہ مخواہ قتل ہونا چاہتا ہے۔

فصل الخطاب ص 80

والظاهر جواز كتمانهم على الجماعة ما كان عندهم من القرآن لعدم وجوب تسليم عليهم قبل مطالبتهم به و بعدها و يحتمل كراهيته لهم لكونه و اخلاقی اعانة الظالمين بل حرمته من حيث كونه اعانته لهم في الظلم لوضوح كون جمعهم هذا في مقابل جمع اما مهم الذي كان يجب عليهم الطاعته والاخذ بما جاء به سيما مع تصدهم بجھم الاضرار عله کما علم

ابوذر رضی اللّٰہ عنہ اور سلیمان ؓرضی اللّٰہ عنہ کے پاس قرآن کا جو حصہ تھا۔ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم سے چھپا رکھنے کا جواز ظاہر ہے ان پر واجب نہ تھا کہ قرآن صحابہ کو دیتے ان کے مطالبے سے پہلے اور بات اس کی کراہت کا احتمال بھی ہے کیونکہ ان پر ظاہر کرنا ظالموں کی امداد کرنا تھا بلکہ ان پر ظاہر کرنا حرام تھا کیونکہ ظالم کی امداد میں داخل تھا کیونکہ ان کا جمع کرنا قرآن کا حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے مقابلے میں تھا اور یہ بات واضح ہے کہ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم پر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی اطاعت واجب تھی اور جس قرآن کو حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے جمع کیا تھا اس پر عمل کرنا ان پر واجب تھا خاص طور پر صحابہ رضی اللّٰہ عنہ کا مقصد ہی حضرت علی کو نقصان پہنچانا تھا۔

اس اقدامات سے ظاہر ہے کہ منفردین کی جماعت نے کسی صحابی کو قرآن کا وہ حصہ نہیں بتایا جو صرف ان کا حصہ تھا مگر کیوں نہیں بتا اس کی کئی وجوہات ہیں اول یہ کہ ان پر بتانا واجب نہیں تھا یا یوں کہیے کہ چھپانا واجب تھا اور یہ بات معقول نظر آتی ہے۔ جب بقول شیعہ نبی کریمﷺ پر قرآن چھپانا واجب تھا تو اور کسی پر قرآن ظاہر کرنا واجب کیوں ہو بات وجوب اور عدم وجوب کی نہیں قرآن کا ظاہر کرنا حرام ہے ظاہر ہے کے جان بوجھ کر حرام کے مرتکب وہ کیوں ہوتے دوم یہ کہ قرآن کا صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کے سامنے ظاہر کرنا ظلم پر اعانت کے مترادف تھا۔اس کا مطلب یہی بنتا ہے کہ قرآن کا جو حصہ ان کے پاس تھا اس میں معاذ اللّٰه ظلم کرنے کی تعلیم تھی لہٰذا انہوں نے یہی سمجھا کہ تھوک ظلم کے مقابلے میں پرچون ظلم نسبتاً حلقہ گناہ ہے اس لیے ہم ہی کرتے رہیں گے سب لوگ کیوں کریں۔

تیسری بات بڑی عجیب ہے بلکہ عجوبہ ہے کہ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم میں قرآن جمع کرنے کا مقابلہ تھا۔ ایک طرف حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ دوسری طرف سارے صحابہ رضی اللّٰہ عنہم اور اس مقابلے کی عرض ایک دوسرے کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا تھا۔ معاذاللہ گویا نبی کریمﷺ نے نہ تو قرآن جمع کرنے کا حکم دیا نہ کس کو کاتب وحی مقرر کیا نہ اس کی حفاظت کا اہتمام کیا نہ اس کی ضرورت سمجھیں بس صحابہ رضی اللّٰہ عنہم نے از خود یہ سرد جنگ چھیڑی اور جاری رکھی ۔

10_ فصل الخطاب ص97

انه كان لا أمير المومنين قرانا مخصوصاً جمعه بنفسه بعد وقات رسول الله وعرضه علی القوم فاعرضوا عنه نحجبه عن اعين الناس وكان عند ولده يتورثونه امام عن امام كسائر خصائص الامامة و خزائن النبوة وهو عند الحجة عجل الله فرجه ليظهره الناس عند ظهورة ويأمرهم بقرأت وهو مخالف لهذا القرآن الموجود من حيث التأليف وترتيب السور والآيات بل الكلمات ايضا و من جهته الزيادة والنقيصة و من حيث أن الحق مع على وعلى معر الحق فتى القرآن الموجود تغير من جهتين فهو المطلوب .

صفحہ 3 از 4