موجود قرآن اور پوشیدہ قرآن میں فرق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

موجود قرآن اور پوشیدہ قرآن میں فرق

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 4 از 4

حضرت علی کا ایک مخصوص قرآن تھا جو انہوں نے نبی کریمﷺ کے بعد خود جمع کیا تھا پھر قوم کے سامنے پیش کیا قوم نے اس سے اعراض کیا تو حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے قرآن چھپا دیا حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے بعد یہ قرآن ان کی اولاد میں یکے بعد دیگر سے بطور میراث پہنچتا رہا اس طرح ان کی اولاد کو امامت کی خصوصیات اور نبوت کے خزانے بطور میراث پہنچتے رہے اب وہ قرآن امام مہدی کے پاس ہے اللّٰه انہیں جلد غار سے نکالے گا ، امام وہ قرآن ظاہر کرے گا اور لوگوں کو پڑھنے کا حکم ہے گا۔ وہ قرآن موجودہ قرآن کے مخالف ہے تالیف میں سورتوں کی ترتیب میں آیات کی ترتیب میں بلکہ کلمات میں بھی اور کمی اور زیادتی کے اعتبار سے بھی چونکہ حق علی کے ساتھ ہے اور علی حق کے ساتھ ہیں۔ اور موجودہ قرآن دو جہتوں سے اصل قرآن سے مختلف ہے۔ یعنی تالیف و ترتیب اور کی پیشی کی جہت سے اور شیعہ کوئی امر مطلوب تھا۔

موجودہ قرآن اور پوشیدہ قرآن میں فرق اور مخالفت کے تمام پہلو اس روایت میں بیان کر دیے گئے ہیں۔


صفحہ 4 از 4