مرحبا ہے قریبی خاندان کو
علی محمد الصلابیزید بن اسلم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار گیا، آپؓ سے ایک نوجوان عورت آ کر ملی اور کہا: اے امیر المؤمنین! میرا شوہر فوت ہو گیا ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، اللہ کی قسم انہیں بکری کے پائے تک نہیں ملتے، نہ کھیتیاں اور دودھ کے جانور ہیں۔ میں ڈرتی ہوں کہ کہیں بھوک کی وجہ سے موت کا لقمہ نہ بن جائیں، میں خفاف بن ایماء غفاری کی بیٹی ہوں۔
(آپ قبیلہ بنو غفار کے امام وخطیب تھے، حدیبیہ میں شریک ہوئے اور خلافتِ عمر میں وفات ہوئی۔)
میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صلح حدیبیہ میں شریک تھے۔ حضرت عمرؓ وہیں کھڑے رہے، ایک قدم آگے نہ بڑھایا اور کہا: مرحبا ہے میرے قریبی خاندان کو۔ پھر آپؓ گھر میں بندھے ہوئے ایک طاقتور اونٹ کے پاس گئے اور اس پر دو بوری غلہ لادا، نیز بوریوں کے بیچ میں کچھ رقم اور کپڑے ڈال دیے، پھر اسے لائے اور عورت کو اونٹ کی نکیل پکڑا دی، اور کہا: اسے لے جاؤ، یہ غلہ ختم نہ ہو گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر کشادگی کردے گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپؓ نے اسے بہت کچھ دے دیا؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تمہارا برا ہو، میں نے اس خاتون کے باپ اور بھائی کو اس وقت دیکھا ہے جب کہ ایک مدت تک دونوں ایک قلعہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، پھر ہم نے اسے فتح کیا تھا، پھر ہم صبح کو ان دونوں کا حصہ مال فے سے وصول کر رہے تھے۔
(صحیح البخاری: کتاب المغازی: حدیث 3928)
یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس شخص نے بھی اسلام کے لیے کچھ قربانی دی، خواہ وہ کم سن ہی کیوں نہ ہو، اس کے ساتھ آپؓ نے وفاداری کا ثبوت دیا، ہائے افسوس! آج کا دور ایسا ہے کہ جس میں اکثر لوگ وفاداری سے تہی دامن ہیں، ہمیں اس اصول وفاداری کو زندہ کرنے کی کتنی سخت ضرورت ہے۔
(أصحاب الرسول، محمود المصری: جلد 1 صفحہ 177 )