شیعہ کی مجبوری اور اس کا حل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کی مجبوری اور اس کا حل

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 1 از 3

شیعہ کی مجبوری اور اس کا حل

شیعہ اسلام کے مدعی ہیں اور اسلام آسمانی دین ہے اور آسمانی دین کے لیے آسمانی کتاب لازمی ہے اور شیعہ اسلام کی آسمانی کتاب قرآن کے منکر ہیں اس لیے ان کی مجبوری یہ ہے کہ دعویٰ اسلام سے دستبردار ہونا ان کے مفاد کے خلاف ہے اور قرآن پر ایمان رکھنا ان کے عقیدہ کے خلاف ہے، اس لیے وہ تقیہ کی آڑ لیتے ہیں۔ اور یہ ان کے پاس ایسا کامیاب حربہ ہے کہ ہر مشکل وقت کام آتا ہے اور کہ دیتے ہیں ۔ امام نے اصل قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور موجودہ قرآن ہی سے کام چلانے کی ہدایت کی ہے۔

1_فصل الخطاب ص27

من قرا الانسان بما يخالف ما بين الدفتين عذر بنفسه من اهل الخلاف و اغری به الجبارين و عرض نفسه لهلاك فمنعونا من قرار القرآن بخلافه۔

جب کسی انسان نے اصل قرآن کو پڑھا جو موجودہ قرآن کے مخالفت ہے۔ اہل خلاف کے سامنے اپنے نفس کو ہلاکت میں ڈالا اور مخالفین کو اپنے خلاف بھڑکایا۔ اس لیے آئمہ نے ہم کو منع فرمایا کہ اصل قرآن نہ پڑھو۔

اس روایت میں ایک پہلو بیان ہوا کہ اللّٰه نے ہمیں اصل قرآن پڑھنے سے منع فرمایا اس سے یہ ثابت ہوا کہ اصل قرآن جو پوشیدہ رکھا گیا ہے وہ بھی پڑھنے کے لیے نہیں ہے، تو ظاہر ہے کہ جب اسے پڑھنے کی ممانعت ہے تو اس پر عمل کرنے کی اجازت کیسے ہو سکتی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن خواہ وہ کامل ہے جو حضرت علی نے جمع کیا اور اللّٰہ نے اس کی حفاظت کی مگر وہ پڑھنے کی چیز نہیں اللہ نے اس کی ممانعت کردی اور اس پر عمل کرنا تو لازماً ممنوع ٹھہرا۔

پھر اس روایت میں اس ممانعت کی وجہ بیان ہوئی ۔ کہ اس پوشیدہ قرآن کے پڑھنے کے دو نقصان میں ایک تو دشمنوں کو بھڑکانا ہے دوسرا اپنی جان گنوانا ہے یعنی حق کی خاطر اپنی جان کو مشکل میں ڈالنا حماقت ہے اور حق کے اظہار سے اگر دشمن بھڑک اٹھیں تو اظہار حق ممنوع ہے۔ یہ نسخہ نبی کریمﷺ کو اگر معلوم ہوتا یا آپ اسے استعمال کرتے تو قریش قطعاً نہ بھڑکتے مگر دوسرا نتیجہ یہ نکلتا کہ اسلام کا نام و نشان بھی نہ ہوتا۔

ایک اور بات اس روایت سے یہ معلوم ہوتی ہے ۔ کہ صاحب فصل الخطاب علامہ نوری نے اللّٰہ کی ممانعت کی اطلاع دی ہے اللّٰه کی زبانی کوئی روایت بیان نہیں کی۔ ممکن ہے یہ ممانعت بھی تقیہ کے تحت ہو۔ بہر حال اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ شیعہ کے عقیدہ کے مطابق پوشیدہ قرآن جو حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے جمع کیا اس کے پڑھنے کی مانعت ہے۔

2_فصل الخطاب ص218

عن عبد الله قال ان الله مدينة خلف البحرسعتها مسيرة اربعين يوما منها قوم لم يعصوا الله قط الى ان قال اذا رأيت هو رايت الخشوع والاستكانه وطلب ما يقربهم اليه اذا حسبناهم ظنوا أن ذلك من سخط يتعاهدون ساعة التي تأتيهم فهم لا يستمون ولا يفترون يتلون كتاب الله كما علمناهم -وان فيما نعلمهم ما لو تلى على الناس لكفر و اولا نكروه

امام جعفر فرماتے ہیں کہ سمندر کے پیچھے اللّٰہ نے ایک شہر بسا رکھا ہے جس کی وسعت چالیس روز کی مسافت کے برابر ہے اس میں ایک قوم شیعہ آباد ہے جس نے کبھی اللّٰہ کی نافرمانی نہیں کی انہیں جب بھی دیکھو گے سکون اور خشوع میں پاؤ گے اور اللّٰہ کا قرب حاصل کرنے کی طلب میں پاؤ گے جب ہم نے انہیں اس شہر میں بند کیا تھا انہوں نے سمجھا کہ امام ہم سے ناراض ہیں اور اپنی ہر ساعت کی نگہبانی کرتے ہیں نہ تھکتے ہیں نہ سست ہوتے ہیں ہر وقت اللّٰہ کی کتاب کی تلاوت کرتے رہتے ہیں جیسا کہ ہم نے ان کی تعلیم دی اور جو کچھ ہم نے انہیں پڑھایا اگر وہ لوگوں کے سامنے پڑھیں تو لوگ کافر ہو جائیں اور قرآن کا انکار کر دیں۔

اس روایت میں چند حقائق کا انکشاف کیا گیا ہے۔

(1) سمندر کے پیچھے ایک شہر آباد ہے سمندر کی سطح اس کے کنارے بلکہ اس کی گہرائی تک

ماہرین جغرافیہ نے چھان ماری ہے نقشے تیار کر دیئے ہیں۔ مگر سمندر کے پیچھے کی طرف کا انکشاف صرف علامہ نوری نے ہی کیا ہے۔ اس کی مراد بھی وہی بتا سکتے ہیں۔ انسان علوم سمندر کے پیچھے کی سمت کا تعین کرنے سے قاصر ہیں ۔

(2)_وہاں ایک شہر آباد ہے جس کی وسعت چالیس روز کی مسافت کے برابر ہے اس مسافت کا پیمانہ کوئی ذریعہ سفر ہی ہو سکتا ہے ۔ اور پیدل گھڑ سواری، موٹر، ہوائی جہاز سب ہو سکتے ہیں ان میں سب سے سست رفتار پیدل کی ہے اور گذشتہ زمانے میں ایک روز کی مسافت ایک منزل شمار ہوتی تھی اور وہ عموما 12 کوس یعنی 18 میل کے قریب بنتی تھی اس پیمانے سے حساب کیا جائے تو 40روز مسافت 720 میل بنتی ہے ظاہر ہے کہ یہ رقبے کا پیمانہ نہیں بلکہ طول کا پیمانہ ہے۔ تو اس شہر کی لمبائی کیلئے یا چوڑائی 72میل ہے یعنی تقریباً کراچی سے لاہور تک اس اعتبار سے اس شہر کی وسعت کا اندازہ ہو سکتا ہے تعجب یہ ہے کہ اتنا بڑا اور آباد شہر اس ایٹمی دور میں بھی انسان کی نگاہ سے اوجھل ہے ۔

(3)_اتنے وسیع شہر میں صرف ایک قوم بنتی ہے جو کبھی اللّٰہ کی نافرمانی نہیں کرتی اس بیان سے اس شہر کے معلوم نہ ہونے کا سراغ ملتا ہے وہ یوں کہ کرہ ارض پر کوئی ایسا شہر یا ملک نہیں جہاں انسان بنتے ہوں اور تمام کے تمام اللّٰہ تعالیٰ کے ایسے فرمانبردار ہوں کہ ان سے کبھی نافرمانی کا صدور نہ ہو۔ ہاں فرشتے وہ واحد مخلوق ہے جس کا وصف قرآن میں بیان ہوا ہے کہ لا یعصون اللّٰہ کہ وہ اللّٰہ کی نافرمانی نہیں کر سکتے ۔ اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ اس شہر کی مخلوق انسان نہیں ہیں، بلکہ کسی اور نوع سے تعلق رکھتے ہیں۔

(4)_ وہ قوم ہر وقت قرآن پڑھتی رہتی ہے جو ہم (آئمہ شیعہ) نے انہیں پڑھایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ وہ قوم شیعہ ہے مگر حیرت ہے کہ وہ شیعے جو انسانوں میں بنتے ہیں۔ اور یہاں کے شیعوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے یہاں کے شیعوں کے متعلق شیعہ علماء کا مشاہدہ یہ ہے کہ وہ شرابی وزانی ، لوطی چور اور نہ جانے کیا کیا کچھ ہیں اور اس نامعلوم شہر کے شیعہ اللّٰہ کی نافرمانی کبھی نہیں کرتے۔ اتنا عظیم فرق !

(5) پچھلی روایت میں بتایا گیا تھا کہ اللّٰہ نے وہ پوشیدہ قرآن پڑھنا یوں سکھایا کر اب وہ پڑھتے پڑھتے تھکتے ہی نہیں ۔

صفحہ 1 از 3