شیعہ کی مجبوری اور اس کا حل - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کی مجبوری اور اس کا حل

  مولانا اللہ یار خان

صفحہ 2 از 3

(6)_وہ قرآن اگر الناس یعنی لوگوں کے سامنے پڑھا جائے تو کافر ہو جائیں اور قرآن کا انکار کر بیٹھیں یعنی وہ قرآن نہ تو لوگوں کے پڑھنے کی چیز ہے نہ لوگوں کے سامنے پڑھنے کے لائق ہے۔ پھر یہ کہ جو قرآن بنی کریمﷺ پر نازل ہوا تھا۔ وہ تو کافروں کو مسلمان بنایا کرتا تھا مگر اس قرآن کی عجیب خاصیت ہے کہ مسلمانوں کو کافر بناتا ہے۔

(7)_ہم (ائمہ) نے ان کو وہاں بند کیا ہے یہ روایت امام جعفر کی ہے اور اس مخلوق کے بند کرنے والوں کے لیے لفظ ہم استعمال ہوا ہے اس لیے بند کرنے والا کوئی ایک امام نہیں معلوم ہوتا اور امام جعفر سے پہلے شیعوں کے پانچ امام گزر چکے تھے اور ایک وقت ایک امام ہی ہوتا ہے۔ لہذا بند کرنے کا عمل مجھے اماموں کے دور میں جاری نہیں رہ سکتا کسی ایک امام ہی نے ان کو بند کیا مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ کس امام نے بند کیا مگر اتنا ظاہر ہوتا ہے یہ بند کرنے کا ایسا عمل تھا کہ تمام ائمہ نے اسے پسند کیا۔

مختصر یہ پہلی روایت میں جس قرآن کے پڑھنے سے آئمہ نے منع کیا تھا اس روایت میں اس کے پڑھنے کی تعلیم اللّٰہ نے دی یہ اور بات ہے کہ یہ پڑھنے والی مخلوق بنی نوع انسان سے کوئی مختلف ہو۔

3_انوار العمانية - طبع قدیم ص 248 محدث الجزائري

قلت قدروى في الاخبار انهم عليهم السلام امر وا شيعتهم بقرأة هذا الموجود من القرآن في الصلوة وغيرها والعمل با حكامه حتى يظهر مولانا صاحب الزمان غير تقع هذا القرآن من ايد الناس إلى السماء ويخرج القرآن الذي الف أمير المومنين ويقرأ ويعمل بأحكامه إلى ان قال ومن شهر تری قواعد خط تخالف قواعد العربية مثل كتابه الألف بعد وعدمها . الوأد المفرد وعده بعد الواو الجمع غير ذلك وسمولارسم الخط القراني ولم يعلموا انه من عدم اطلاع عثمان علی قواعد العربیہ

میں کہتا ہوں کہ روایات کثیرہ میں موجود ہے کہ اماموں نے شیعہ کو موجودہ قرآن کو نماز وغیرہ میں پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ اور وقتی طور پر اس کے احکام پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ امام مہدی ظاہر ہو جائے اس وقت یہ موجودہ قرآن لوگوں کے ہاتھوں سے آسمان کی طرف اٹھا لیا جائے گا ۔ اور امام مہدی وہ قرآن ظاہر کرے گا۔ جو حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے جمع کیا تھا اسی وجہ سے آپ دیکھتے ہیں کہ موجودہ قرآن قواعد اور قوانین عربی کے مخالف ہے مثلاً واؤ مفرد کے بعد الف لکھنا اور واؤ جمع کے بعد الف نہ لکھنا اور اس تحریر کا نام رکھا قرآنی رسم الخط اور یہ نہ سمجھے کہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کو عربی کا علم ہی نہ تھا۔

علامہ نوری کہتے ہیں اللّٰہ نے پوشید قرآن کے پڑھنے سے منع فرمایا اور محدث الجزائری کہتے ہیں کہ اللّٰه نے موجودہ قرآن پڑھنے کا حکم دیا ہے مگر دونوں علماء بات اپنی کرتے ہیں نام اماموں کا لیتے ہیں۔ موجودہ قرآن کا وصف ہدایت اور رحمت ہے۔ اور پوشیدہ قرآن کا وصف روایت ما میں بیان ہو چکا ہے اس کے ملنے والے سنتے ہی کافر ہو جائیں گے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللّٰہ نے شیعوں کو وقتی طور پر ہدایت کے راستے پر چلنے کا حکم دیا ہے اور مستقل طور پر اس قرآن پر عمل کرنے کا حکم ہے جس کے سننے سے ہی آدمی کا فر ہو جاتا ہے یہ سودا تو خسارے کا نظر آتا ہے۔ ان دو روایتوں کے برعکس گذشتہ باب میں بیان ہو چکا ہے کہ شیعہ کا عقیدہ ہے۔ کہ موجودہ قرآن میں کفر کے ستونوں پر عملی زندگی تعمیر کرنے کا حکم دیا لہٰذا امام غائب کے ظاہر ہونے سے پہلے جو شیعہ دنیا میں آئے اور چلے گئے وہ تو کفر کی تعلیمات اپنانے پر مامور ہوئے عجیب بات ہے۔

محدث الجزائری نے ایک اور انکشاف کیا کہ امام غائب جب ظاہر ہوگا تو موجودہ قرآن آسمان کی طرف اٹھا لیا جائے گا یہ بات عین فطرت کے مطابق معلوم ہوتامی ہے کہ جو چیز آسمان سے نازل ہوئی تھی وہ آسمان کی طرف اٹھا لی گئی کیونکہ خلوت کی حالت یہ ہو گئی کہ وہ اکثریت کے اعتبار سے یا تمام اس آسمانی نعمت کے نا اہل ہو گئے لہٰذا انہیں زمینی کتاب امام کی طرف سے ملے گی جو وہ غار سے نکال کے لائیں گے۔

دوسرا انکشاف یہ کیا کہ حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ قواعد عربی سے واقف نہیں تھے واقعی میں شخص کی مادری زبان عربی ہو اور جس کی تربیت محمد رسولﷺ نے 23برس تک کی ہو۔ اور حسن کو صاحب قرآن نے کاتب وحی مقرر کیا ہو وہ بھلا قواعد عربیہ سے کیسے واقف ہو سکتا ہے۔ یہ تبحر علمی کسی الجزائری کے حصہ میں ہی آ سکتا ہے ۔ وہ شخص کیونکر سمجھے جس کے قبیلے کی زبان کو رب العالمین عربی مبین کے نام سے یاد فرماتا ہے مگر جہاں بات ہرچہ خواہی کن پر پہنچ جائے وہاں ایسی نکتہ آفرینی کوئی قابل تعجب نہیں ہوتی ۔

ع۔ خدا کی شان ہے نا پیزہ چیز بن بیٹھیں

جو بے تمیز ہوں یوں باتمیز بن بیٹھیں

شیعوں کی مجبوری دیکھئے کہ جس کو کفر کی کتاب سمجھتے ہیں اس پر وقتی طور پر عمل کرنے کا حکم اماموں سے منسوب کر کے کفر پر قائم رہتے ہوئے کفر سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں۔

4_تفسیر مراة الانوار ص 36

عن محمد بن سلمان عن بعض اصحابه عن ابی الحسن قال قلت له جعلت فداك انا نسمع الايات في القرآن ليس هي عندنا كما بلغنا عنكم هل ناثم قاله اقراء وأكما نعلمتم نسيجيتكم من يعلمكم.

محمد بن سلمان اپنے بعض دوستوں سے روایت کرتا ہے کہ میں نے امام ابوالحسن سے کہا قربان جاؤں ہم ایسی آیات قرثانی سنتے ہیں جو اس قرآن میں نہیں جو ہمیں آپ سے ملا ہے اور ہم ان آیات کو پڑھنا اچھا نہیں جانتے کیا ان آیات کو پڑھنے میں ہم گنہگار ہوں گے امام نے کہا نہیں عنقریب تمہارے پاس آئے گا امام مہدی جو تمہیں تعلیم دے گا۔

5_ ایضاً ص38

عن سالم بن سلمه قال قدا رجل على الى عبد الله وانا اسمع حروفاً من القرآن ليس على ما يقرؤها الناس فقال لرتب ابو عبد الله كن من هذه القرالا اقرا كما يقرا الناس حتى يقوم القائم۔

سالم بن سلمہ کہتا ہے، امام جعفر کے سامنے قرآن پڑھا میں سن رہا تھا۔ اس نے کچھ حرف اس طرح پڑھے جیسے اور لوگ نہیں پڑھتے تو امام نے فرمایا رک جا یوں مت پڑھ بلکہ اس طرح پڑھ جیسے اور لوگ پڑھتے ہیں امام مہدی کے ظاہر ہونے تک (موجودہ قرآن ہی پڑھا کر)

صفحہ 2 از 3