Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ام کلثوم بنت صدیق رضی اللہ عنھما کو شادی کا پیغام دینا

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، آپؓ ان کے ذریعہ سے ان کی چھوٹی بہن ام کلثوم کو شادی کا پیغام دینا چاہتے تھے، سیدہ عائشہؓ نے اس سلسلہ میں اپنی بہن سے بات کی، تو انہوں نے جواب دیا: میں اس کے لیے راضی نہیں ہوں۔ عائشہ نے کہا: تم امیر المؤمنین سے شادی کرنے سے انکار کرتی ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، وہ خشک زندگی گزارتے ہیں اور عورتوں پر سختی کرتے ہیں۔ سیدہ عائشہؓ نے حضرت عمرو بن عاصؓ کو صورت حال کی اطلاع دی، انہوں نے کہا: اے ام المؤمنین! آپؓ گھبرائیں نہیں، میں اس معاملہ میں آپؓ کی مدد کروں گا۔ پھر وہ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور کہا: امیر المؤمنین! مجھے ایک ناپسندیدہ خبر ملی ہے، میں آپؓ کے سلسلے میں اس سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ آپؓ نے پوچھا: وہ کیا؟ انہوں نے جواب دیا: کیا آپؓ نے ام کلثوم بنت ابوبکر کو پیغامِ نکاح بھیجا تھا؟ آپؓ نے کہا: ہاں، کیا تم نے مجھے اس کے لائق نہیں سمجھا یا اسے میرے لائق نہیں سمجھا؟ انہوں نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں ہے، بلکہ وہ کم عمر ہے اور سیدہ عائشہؓ کی گود میں بہت ناز و نعم سے تربیت پائی ہے، اور آپؓ کی طبیعت میں سختی ہے۔ جب ہم لوگ آپؓ سے ڈرتے ہیں اور آپ کو آپ کی کسی عادت سے پھیر نہیں سکتے، تو بھلا اس کا کیا حال ہو گا۔ اگر اس نے آپؓ کے مزاج کے خلاف کچھ کر دیا تو آپؓ اس پر چڑھ دوڑیں گے؟ اور اس طرح ابوبکر کی اولاد کے بارے میں آپؓ بلاوجہ حق تلفی کا شکار ہو جائیں گے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: پھر میں سیدہ عائشہ کو کیا جواب دوں؟ میں نے ان سے اس سلسلہ میں بات کر لی تھی؟ حضرت عمرو بن عاصؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں آپؓ کی طرف سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بات کر لوں گا۔ 

(الفاروق عمر: الشرقاوی: صفحہ: 210، 211 )

دوسری روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمرو بن عاصؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین اگر آپؓ کسی عورت سے شادی کر لیتے تو اچھا ہوتا، حضرت عمرؓ نے کہا: عنقریب تمہاری آنکھوں کے سامنے ایسا ہی ہو گا۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے پوچھا: کس سے؟ حضرت عمرؓ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: امّ کلثوم بنت ابی بکر سے۔ عمروؓ نے کہا: آپؓ اس بچی سے کیسے شادی کریں گے، وہ صبح و شام آپؓ کو اپنے باپ کی جدائی کا غم سناتی ہے۔ حضرت عمرؓ کہنے لگے: کیا سیدہ عائشہؓ نے تمہیں ایسا کہنے پر مامور کیا تھا؟ حضرت عمرو بن عاصؓ نے کہا: ہاں۔ پھر آپؓ نے ان سے نکاح کا ارادہ چھوڑ دیا، اور ان سے طلحہ بن عبید اللہؓ نے شادی کر لی۔ 

(شہید المحراب: صفحہ 204)

لڑکیوں کی یہ دلی خواہش اور تمنا ہوتی ہے کہ اپنی قوم کے عظیم فرد سے اس کی شادی ہو اور یہاں امیر المؤمنین خود پیغام نکاح لے کر آگے بڑھتے ہیں، نکاح کا حکم نہیں دیتے نہ اس پر مجبور کرتے ہیں، اور لڑکی پوری آزادی و پختہ فیصلہ کے ساتھ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ سے شادی کرنے سے انکار کر دیتی ہے جب امیر المؤمنینؓ کو انکار کی خبر ملتی ہے تو آپؓ بغیر کسی خفگی وناراضگی کے نیز بغیر ڈرائے دھمکائے اس لڑکی سے شادی کا ارادہ ترک کر دیتے ہیں محض اس لیے کہ آپؓ کو معلوم ہے کہ اسلام کسی لڑکی کو اس کے مزاج کے خلاف شادی کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ دوسری طرف عمرو بن عاصؓ نے بھی انکار کی خبر پہنچانے میں نہایت دانائی کا مظاہرہ کیا تھا۔ جب کہ حضرت عمر بن خطابؓ بھی حضرت عمرو بن عاصؓ کی دقت تعبیر کے باوجود انکار کا اصل مصدر جاننے میں خوب رمز شناس ٹھہرے۔

(شہید المحراب: صفحہ 205)

اگر لڑکیوں کو کوئی شادی کا پیغام دیتا تو قبول و انکار سے متعلق آپؓ لڑکیوں ہی کی طرف داری کرتے تھے اور کہتے: ’’اپنی لڑکیوں کو قبیح آدمی سے شادی کرنے پر مجبور نہ کرو، کیونکہ وہ بھی وہی پسند کرتی ہیں جو تم پسند کرتے ہو۔‘‘

(عیون الاخبار: جلد 4 صفحہ 11، فرائد الکلام: صفحہ 141)