Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ایک عورت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے شوہر کی شکایت لے کر آتی ہے

  علی محمد الصلابی

لسیدنا عمر بن خطابؓ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت آئی اور کہا: اے امیر المؤمنین! میرے شوہر میں برائیاں زیادہ اور اچھائیاں کم ہو گئی ہیں۔ آپؓ نے پوچھا: تمہارا شوہر کون ہے؟ اس نے بتایا: ابو سلمہؓ، نام سنتے ہی حضرت عمرؓ نے انہیں پہچان لیا، وہ صحابیِ رسولﷺ تھے۔ بہرحال آپؓ نے عورت سے کہا: ہم تمہارے شوہر کے بارے میں یہی جانتے ہیں کہ وہ اچھے آدمی ہیں، اور پھر اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک آدمی سے آپؓ نے کہا: تم کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا: ہم بھی ان کے بارے میں یہی جانتے ہیں۔ چنانچہ آپؓ نے اس کے شوہر کو بلا بھیجا اور عورت کو حکم دیا کہ میرے پیچھے بیٹھ جاؤ۔ اتنے میں بلانے والا اس کے شوہر کو لے کر حاضر ہوا۔ حضرت عمرؓ نے ان سے پوچھا: کیا تم اس عورت کو پہچانتے ہو۔ انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ کون عورت ہے؟ آپؓ نے بتایا کہ یہ تمہاری بیوی ہے۔ ابوسلمہ نے پوچھا کہ یہ کیا کہتی ہے؟ آپ نے بتایا کہ یہ کہہ رہی ہے: ’’تمہاری برائیاں زیادہ اور اچھائیاں کم ہو گئی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین یہ غلط کہہ رہی ہے، اللہ کی قسم! اس کے پاس بہت زیادہ کپڑے اور بہت زیادہ گھریلو سامان ہے، البتہ مجھ میں قوت جماع کم ہو گئی ہے۔ حضرت عمرؓ نے عورت سے پوچھا: تم کیا کہتی ہو؟ اس نے کہا: یہ سچ کہہ رہے ہیں۔ آپؓ نے دُرّہ اٹھایا اور عورت کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھے: ’’اے اپنے نفس کی دشمن! تو نے اس کی جوانی کو قتل کر دیا، اس کا مال کھا لیا، پھر اس پر ایسی تہمت لگاتی ہے جو اس میں نہیں ہے۔‘‘ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین، اس بار مجھے چھوڑ دیجیے، اللہ کی قسم! آپ دوبارہ کبھی مجھے اس جگہ پر نہیں پائیں گے۔ آپ نے اسے تین کپڑے منگوا کر دئیے اور کہا: اللہ سے خوف کھاؤ اور ان بزرگ کے ساتھ اچھی طرح رہو، پھر ابو سلمہؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا: آپ نے مجھے جو کچھ کرتے ہوئے ابھی دیکھا ہے اس کی وجہ سے آپ اس پر ناراض نہ ہونا بلکہ اس کے ساتھ حسن صحبت کا معاملہ کرنا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے اے امیر المؤمنین! میں ایسا ہی کروں گا۔

راوی کا بیان ہے گویا کہ میں اس عورت کو کپڑے لے کر جاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، پھر میں نے سیدنا عمرؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے:

خَیْرُ اُمَّتِی الْقَرْنُ الَّذِیْ أَنا فِیْہِ ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہٗ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہٗ، ثُمَّ یَجِیْئُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَہَادَتُہُمْ اَیْمَانُہُمْ، یَشْہَدُوْنَ قَبْلَ اَنْ یُّسْتَشْہَدُوْا لَہُمْ فِیْ اَسْوَاقِہِمْ لَغَطٌ۔ 

(مجمع الزوائد: جلد 10 صفحہ 91، اس کے رجال ثقہ ہیں۔)

’’میری امت کی بہترین صدی وہ ہے جس میں میں ہوں، پھر اس کے بعد والی صدی، اور پھر جو اس کے بعد ہے۔ پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان کی گواہیاں ان کی قسموں پر مقدم ہوں گی، گواہی مانگنے سے پہلے وہ گواہی دیں گے، اور ان کے بازاروں میں ہنگامہ ہو گا۔‘‘