میری کہانی میری زبانی(میاں ذولفقار علی فیصل آباد ) - ردِ…

میری کہانی میری زبانی(میاں ذولفقار علی فیصل آباد )

  میاں ذولفقار علی فیصل آباد

صفحہ 2 از 3

وقت گذرتا رہا اور وہ روزانہ تین مرتبہ میرے زخم کو دھوتا لیکن زخم ٹھیک نہیں ہورہے تھے دو ہفتے اسی طرح گزرے وہ ایک رات تین بجے میرے پاس آیا میں زخموں کی درد کی وجہ سے کرہ رہا تھا میرا ہاتھ پکڑ کر میرے قریب بنچ پر بیٹھ گیا میں نے نظر اٹھائی تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے مجھے اس کے اندر اپنائیت محسوس ہوئی کہ میں نے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا بےساختہ میں بھی رونے لگا اس نے کہا جب سے آپ یہاں داخل ہوئے میں نے اپنی پوری توانائی صرف کردی ہیں آپ کے زخموں کو روزانہ دھوتا ہوں لیکن زخم ٹھیک ہونے کی بجائے زیادہ خراب ہو رہے ہیں آپ کا درد مجھ سے دیکھا نہیں جاتا آپ کے حوصلے اور ہمت کو دیکھ کر میں بے چین ہو گیا ابھی دو نفل پڑھ کر اللہ پاک سے آپ کے لیے دعا کر رہا ہوں رات کے قریب چار بجے جب سب مریض سوئے ہوئے تھے اس نے سرگوشی میں لمبی چوڑی تقریر کر ڈالی اس نے کہا جن لوگوں کے کہنے پر آپ نے اپنے خوبصورت جسم کو لہولہان کیا ہے یہ لوگ بہت بڑے دھوکے باز فتنہ پرور آل نبیؐ کے دشمن اور منافقوں کے سردار ہیں اس نےکہاشیعیت وجل فریب اور بے ایمانی کا نام ہے آپ اچھے اور شریف خاندان کے چشم و چراغ ہیں آپ شیعیت کے دجل و فریب میں کیسے آگئے ہو شیعہ تو خود اہل بیت اور آل نبی کا دشمن ہیں انہوں نے سیدنا حسین کو دھوکے سے کربلا بلایا پھر ان کو بے یارومددگار کرکے بچوں کے سمیت شہید کردیا میں نے کہا مولا حسین کو تو یزید نے شہید کیا ہے وہ مولا حسین کا دشمن تھا پھر اس نے ایک عجیب بات کی جس سے میرے تن بدن میں بجلیاں کوندنےلگیں لیکن میں خاموش رہا اس نے سوال کیا کہ بتاؤ حضرت حسین کو اٹھارہ ہزار خط لکھ کر بلانے والےشیعان علی میں سے کوئی ایک شیعہ بھی حضرت حسین کے ساتھ کربلا کے میدان میں شہید کیوں نہ ہوا دوسرا سوال اس نے یہ کیا کہ حضرت حسین جب کربلا پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ مجھے بلانے والے سب لوگ اپنے وعدے سے منحرف ہو چکے ہیں انہوں نے حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے تین شرطیں پیش کیں جن میں سے تیسری شرط یہ تھی کہ مجھے یزید کے پاس جانے دو میں خود اس کے ساتھ معاملات طے کروں گا اس نے کہا کہ جب منافق کوفیوں نےدیکھاکہ حضرت حسین یزید کے پاس جانے کے لیے تیار ہو چکے ہیں جس سے ہماری سازش یعنی حضرت حسین کو بلاکریزید کےساتھ لڑانے کی سازش ننگی ہو جائے گی تو انہوں نے رات کی تاریکی میں حضرت حسین کے خیموں پر حملہ کرکے انہیں اور ان کے بچوں کو شہید کردیا نصیر کی یہ بات ایسی تھی جیسے اس کے تمام احسانات کے باوجود میں برداشت نہ کر سکا میں نے فورا اس کو ڈانٹ دیا ایسی باتیں میں نے پہلی بار سنی تھی وہ خاموش ہو کر بیٹھ گیا سردیوں کی رات قریب پانچ بج چکے تھے اس نے کہا آپ کو میری باتیں اچھی نہیں لگی تو میں معافی چاہتا ہوں اس نے میرے پاؤں پکڑ لیا جس سے میرا غصہ ٹھنڈا ہوگیا وہ بولا کہ کربلا کی کہانی ابھی آپ کو سمجھ نہیں آئے گی آپ میرے ساتھ ایک وعدہ کریں تو پھر ہم دونوں مل کر تمہاری تندرستی کے لیے دعا کرتے ہیں اس وقت نصیر کا لہجہ اتنا عاجزانہ اور پیارا تھا کہ میں نے وعدہ کر لیا اس نے کہا آج اسی وقت آپ شیعیت سے پکی توبہ کریں آئندہ کبھی ماتم نہیں کریں گے نہ ہی شیعہ کی کسی مجلس میں شریک ہوں گے آپ کی سچی توبہ کے بعد ہی ہم دونوں آپ کے زخموں کی صحت یابی کے لیے دعا کر سکیں گے میں اپنے زخموں کی وجہ سے اتنا لاچار و بے بس ہو چکا تھا کہ میں نے اسی رات شیعیت کی رسم و رواج سے سچی توبہ کرلیں پھر اس نے میرے لیے دعا شروع کی وہ دعا کرتا رہا اور میں آمین کہتا رہا جب دعا ختم کرکے اس نے منہ پر ہاتھ پھیرا یقین جانو مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جس سے میرا درد بہت ہلکا ہو گیا ہو اگلے روز شام چار بجے وہ آیا تو اس کے ہاتھ میں چھوٹا ٹیپ ریکارڈر اور کان میں لگانے والے ائیر فون تھا اس نے کہا یہ دو کیسٹیں آپ کے لئے آپ کی صحت یابی کا پہلا تحفہ ہے انہیں غور سے سنیں میں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی لیکن میں محسوس کر رہا تھا کہ میرا درد اور زخم کے ساتھ ٹھیک ہو رہے ہیں اس کے جانے کے بعد میں نے کیسٹ سٹارٹ کی بڑی گرجدار آواز تھی درد اور دکھ کے ساتھ ایک آدمی تقریر کر رہا تھا میں نے تقریر سننا شروع کی اس کی آواز کے جادومیں ہی کھو کر رہ گیا دل چاہ رہا تھا یہ بات سنتا ہی چلا جاؤں جب تقریر کے اندر اس نے امی امی کہہ کر پکارا تو میرا دل چیخ اٹھا یہ الفاظ لاکھوں میلوں کے فاصلہ طے کر کہ عرش عظیم پر پہنچنے والی ہیں مولانا حق نواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ کی پشاوراور اوکاڑہ والی تقریر تھیں ان تقریروں کا سننا تھا کہ میرے دل کی دنیا بدل گئی صرف ایک ہفتے کے اندر مکمل صحت یاب ہو کر اپنے گھر آ چکا تھا مولانا حق نواز جھنگوی اس وقت دنیا میں موجود نہیں تھے مجھے ان کی زیارت نہ کرسکنے کا دکھ ساری زندگی رہے گا نصیر میری خیریت دریافت کرنے میرے گھر کئی بار آیا اس نے مجھے سپاہ صحابہ شامل کرلیا مکمل طور پر جماعت کا کارکن بن چکا تھا ہمارے شہر کے خطیب مولانا ضیا الرحمان فاروقی سپاہ صحابہ کے سربراہ بن گئے تھے ان کے مدرسہ جامعہ عمر فاروق اسلامیہ میں باقاعدہ جمعہ پڑھنے لگا ابھی چند جمعے پڑے تھے وہ گرفتار ہو کر مولانا محمد اعظم طارق کے ساتھ جیل چلا گیا میں ملازمت کے سلسلے میں سعودی عرب آگیا جہاں پر مجھے علامہ ضیاءالرحمن فاروقی کی دھماکے میں شہادت کی اطلاع ملی تھی بڑا دکھ ہوا اس کے چند دن بعد پتہ چلا کہ لاہور سمن آباد کی ایک مسجد میں بم پھینکا گیا ہے جس میں کی نماز شہید ہو گئے ان میں ایک میرا پیارا دوست بھائی اور محسن نصیر بھی تھا نصیر کی شہادت کی خبر سن کر کئی دن تک سو نہ سکا کئی روز تک کام پر بھی نہ گیا ان حالات سے اتنا دل برداشتہ ہوا میں نے پاکستان جانے کا ارادہ ترک کر دیا اپنے بچوں اور بیوی کو یہاں ریاض میں بلا لیا یہاں ایک دوست کی وسعت سے مجھے آپ کا رسالہ نظام الخلاف راشدی ملا یقین جانے اتنی خوشی ہوئی کہ بیان نہیں کر سکتا آپ خدا کا واسطہ دے کر کہتا ہوں خدارا اس رسالہ کو بند نہ کیجیے اسے پوری دنیا کے اندر عام کیجئے سپاہ صحابہ کا کام اور مشن اس وقت سب سے بڑی ضرورت ہے میں مولانا محمد احمد لدھیانوی اور ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں کی عظمت کو سلام کرتا ہوں تمام قارئین اور جماعت کے کارکنوں کو خدا کا واسطہ دے کر کہتا ہوں اپنی جان دے کر بھی مولانامحمداحمدلدھیانوی کی حفاظت کریں آپ کی وساطت سے اپنے دست بستہ سلام مولانا محمد احمد لدھیانوی تک پہنچانا چاہتا ہوں انشاللہ اپنی آمدنی کا ایک خاص حصہ مشن جھنگوی کے لئے وقف کرنے کا عہد کرتا ہوں اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو

صفحہ 2 از 3