جھوٹ بولنا واجب بلکہ جھوٹ بولنے اور نماز پڑھنے میں کوئی فرق نہیں استغفراللہ
جعفر صادقجھوٹ بولنا واجب بلکہ جھوٹ بولنے اور نماز پڑھنے میں کوئی فرق نہیں استغفراللہ
روافض نام ہی جھوٹ کا ہے اسی وجہ سے محدثین نے روافض سے دین لینے سے منع کیا، کیونکہ یہ جھوٹ دین سمجھ کر بولتے ہیں۔ یہ اپنی طرف سے اس کی لاکھ تاویلیں کریں لیکن دین کے بنیادی مسائل میں کسی بھی صورت میں جھوٹ بولنا جائز نہیں بلکہ کفر تک پہنچا دیتا ہے۔
مصنف لکھتا ہے:
اور ہمارا عقیدہ تقیہ کے بارے میں یہ ہے کہ یہ واجب ہے، جو اس کو چھوڑے گویا اس نے نماز کو چھوڑا، اور امام غائب کے نکلنے تک تقیہ واجب ہے، جس نے اس کے نکلنے سے پہلے اسے چھوڑا تو وہ اللہ کے دین اور امامیہ کے دین سے نکل گیا۔
نحن شیعہ امامیہ وہذہ عقائدنا:33

جھوٹ بولیں دلیل کے ساتھ اور دین کی مہر لگا کر
* جس انسان نے جھوٹ بولنا ہے وہ گھبرائے مت ایک ایسا دین بھی ہے جس میں جھوٹ ثواب سمجھ کر بولا جاتا ہے، اور وہ جھوٹ صرف دنیاوی معاملات میں ہی نہیں بلکہ دین کے بڑے بڑے اعمال اور عقائد میں جھوٹ بولنا زیادہ بہتر ہے۔*
*مصنف لکھتا ہے:*
*ہمارا عقیدہ تقیہ کے حوالے سے یہ ہے کہ وہ واجب ہے، جس نے اس کو چھوڑا گویا کہ اس نے نماز کو چھوڑا اور تقیہ واجب ہے امام کے نکلنے تک یہ ختم نہیں ہوگا جس نے اس کو چھوڑا امام کے خروج سے پہلے وہ اللہ کے دین سے نکل گیا اور رافضہ کے دین سے بھی نکل گیا۔*