حضرت علیؓ نے جنگ خیبر کے موقعہ پر جو کہ سن 6ھ میں واقع ہوئی متعہ روایت کی ہے، جنگ ادطاس سنہ 8ھ میں متعہ ھوا. لہٰذا متعہ ناسخ حرمت ہوا.
زینب بخاریحضرت علیؓ نے جنگ خیبر کے موقعہ پر جو کہ سن 6ھ میں واقع ہوئی متعہ روایت کی ہے، جنگ ادطاس سنہ 8ھ میں متعہ ھوا. لہٰذا متعہ ناسخ حرمت ہوا.
جواب اہلسنّت
اس اشکال کے دو جواب ہیں:
1: متعہ کی حرمت درحقیقت غزوہ ادطاس کے موقعہ پر صادر ہوئی رواۃ غزوہ خیبر کے واقعہ میں تحریم متعہ کا ذکر نہیں کرتے بعض لوگوں کو یہ گمان اس وجہ سے ہوا کہ حضرت علیؓ نے تحریم متعہ اور تحریم حمار اہلی کا ذکر ایک ہی حدیث میں کیا ہے، اور حمار اہلی کی تحریم کا موقعہ غزوہ خیبر بتلایا، اس سے لوگوں کو وہم لگ گیا. کہ دونو تحریم ایک ہی موقعہ پر ہوئیں یہ وہم بے دلیل ھے اصل میں عباسؓ نے تحریم متعہ اور تحریم حمار اہلی میں اختلاف کیا تو ان کو الزام دینے کے لئے حضرت علیؓ نے دونوں کا ذکر ایک حدیث میں کر دیا.
2: دوسرا جواب یہ ہے متعہ دو بار حلال ہوا اور دو بار حرام غزوہ خیبر کے موقعہ پر حلال ہوا اور پھر حرام بعد ازاں غزوہ ادطاس میں پہلے حلال ہوا اور ہمیشہ کے لئے حرام.
جیسا کہ حضرت علیؓ کے استدلال سے معلوم ہوتا اس پر اجماع امت منعقد ہوا. قرآن پاک سے بھی متعہ کی حرمت ثابت ہے ارشاد بانی ہے:
وَالَّذِيْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ اِلَّا عَلٰٓى اَزْوَاجِهِـمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُـهُـمْ فَاِنَّـهُـمْ غَيْـرُ مَلُوْمِيْنَ ،
حقیقی معنیٰ مراد نہیں ھے، بلکہ مجاز ھے ان کا مقصد ہے *انا اظہر التحریم میں ان کی تحریم واضع کر رہا ہوں. جیسا کہ عبارت ذیل میں کہا جاتا ہے.
امام شافعی ؒ نے ہر مسکر کے پینے سے منع کیا ہے قلیل ہو یا کثیر.
حضرت عمرؓ کا ان دونوں متعہ کی حرمت ظاہر کرنا اس قبیل سے نہیں جیسا کہ امامیہ اپنے ائمہ پر تہمت لگا کر ان سے تحلیل کو مباح قرار دیتے ہیں کیونکہ نہ زوجہ ہے اور نہ ملک یمین ایسی تحلیل ثابت کرنے سے حکم خداوندی کا نسخ لازم آتا ھے. اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال بنانا (نعوذبااللہ