حدیث الحوض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث الحوض

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 2

  حدیث الحوض

   ایک حدیث کو غلط طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ بعض صحابہؓ کو حضورﷺ کے حوض پر آنے سے روک دیا جائے گا ۔آپﷺ کہیں گے یہ تو میرے صحابی ہیں آپ کو جواب دیا جائے گا : انک لا تدری ما احدثوا بعدک ۔آپ نہیں جانتے انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی  باتیں اختیار کرلی تھی۔

یہ غلط بیانی کیوں ہے ؟

حدیث کی رو سے یہ ذکر ان لوگوں کا ہے جنہیں آپﷺ چہروں  سے نہ پہچان پائیں گے آپﷺ انہیں ان کے وضو کے آثار سے سمجھیں گے کہ وہ آپﷺ کی امت کے لوگ ہیں ۔سو یہ حدیث آپ کے صحابہ کرامؓ کے بارے میں نہیں ہے یہ آپﷺ کی امت میں آئندہ آنے والے لوگوں کے بارے میں ہے ۔آپﷺ اپنے ساتھ رہنے والوں کو تو ان کے چہروں سے جانتے اور پہچانتے تھے۔ قرآن کریم سےاس پر شہادت موجود ہے :

تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا (پارہ26،الفتح،آیت 29)

ترجمہ : آپ دیکھتے ہیں ان کو رکوع میں جاتے اور سجدہ کرتے یہ ڈھونڈتے ہیں اللہ کا فضل اور اس کی خوشی۔

اس پس منظر سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ حوض کوثر سے روکے جانے والے آپ کے صحابہ کرامؓ میں سے نہیں آپ کی امت کے مختلف ادوار کے بدعتی ہیں  ۔انہیں اگر امت ہونے کے ناطے اصحاب کہا جائے تو یہ لفظ اپنے لغوی معنی میں ہو گا وہ اصطلاحی معنی کی رو سے صحابی نہ ہوں گے انہیں اصحاب کہا جائے گا تو وہ اصیحابی کے معنی میں ہوگا۔

حدیث کی کتابوں میں سب سے پہلی معروف کتاب موطا امام مالک ہے اس میں یہ حدیث کتاب الطہارہ کے باب جامع الوضوء میں دوسری حدیث ہے اس میں صراحت سے اخوان کا لفظ ہے جو غور طلب ہے یہ وہ لوگ ہیں جو ابھی صحابہؓ سے نہیں ملے۔ وہ ایک اور دور کے لوگ ہیں اور وہ مختلف زمانوں کے لوگ ہوں گے  وہ عام امت کے لوگ ہوں گے صحابی نہ ہوں گے ان الفاظ سے یہ بات قارئین اچھی طرح سمجھ پائیں گی کہ ہم نے اسے غلط بیانی کیوں کہا ہے یہ اس لیے کہ اس کی خود حضور اکرمﷺ نے تصریح فرما دی ہے حضورﷺ نے فرمایا  :

وددتُ أني قد رأيت إخواننا" قالوا: يا رسول الله، ألسنا إخوانك؟! قال: "بل أنتم أصحابي، وإخواني الذين لم يأتوا بعد، وأنا فرطهم على الحوض" قالوا: يا رسول الله، كيف تعرف من يأتي بعدك من أمتك؟! قال: "أرأيت لو كان لرجل خيل غير محجلة في خيل دهم بهم؟ ألا يعرف خيله؟

(موطا امام مالک جلد 1 صفحہ نمبر 23 مکتبۃ البشری )

ترجمہ: میں نے چاہا میں نے اپنے ان بھائیوں کو دیکھا ہوتا ۔۔۔۔۔۔میں اپنے حوض پر ان سے پہلے پہنچا ہوا ہونگا ۔صحابہؓ نے سوال کیا اے اللہ کے رسولﷺ آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو کیسے پہچانیں گے جو آپ کے بعد کے لوگ ہوں گے ۔آپﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے کہ کسی کے سفید ماتھے کے روشن چمک اور سیاہ مشکیں گھوڑے ہوں کیا وہ انہیں ان کے رنگ سے نہیں پہچانتا ؟

اس حدیث میں لفظ امت صریح طور پر وارد ہے یہ بتلا رہا ہے کہ وہ لوگ عام احاد امت میں سے ہوں گے آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نہ ہوں گے ۔

موطا امام مالک کی یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ان الفاظ میں ملتی ہے ۔

وحدثني........مالك جميعا عن العلاء بن عبد الرحمن عن ابيه عن ابي هريره ان رسول الله صلى الله عليه واله وسلم اتى المقبرة فقال السلام عليكم دار قوم مؤمنين وانا ان شاء الله بكم لاحقون

 (موطا الامام مالك ص 51 مكتبه البشرى  )

"وددتُ أنا قد رأيناإخواننا" قالوا:  أولسنا إخوانك یارسول للہ قال: "بل أنتم أصحابي، وإخواننا الذين لم يأتوا بعد، وأنا فرطهم على الحوض" قالواكيف تعرف من لم يأتي بعد من أمتك؟! قال: "أرأيت لو ان لرجل خيل غير محجلة بین ظھری في خيل بهم ؟ ألا يعرف خيله؟" قالوا: بلى یارسول اللہ قال: "فإنهم يأتون يوم القيامة غُرًا محجلين من الوضوء وأنا فرطهم على الحوض الا ليذادن رجال عن حوضي كما يذاد البعیرالضال اناديهم الاهلم فيقال انهم قد بدلو ابعدك فاقول سحقا سحقا" 

  (صحیح مسلم جلد 1 صفحہ 127 )

ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں ایک دفعہ حضورﷺ قبرستان گئے  ۔آپﷺ نے وہاں فرمایا اے مومنوں کے گھر میں رہنے والو! تم پر سلام ہو اور ہم بھی انشاءاللہ اس جہاں میں تم سے آملنے والے ہیں  ۔میں چاہتا ہوں میں نے اپنے ان بھائیوں کو دیکھا ہو میں ان سے پہلے اپنے حوض  پر پہنچا ہوں گا صحابہؓ نے سوال کیا اے اللہ کے رسولﷺ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟آپ نے فرمایا تم میرے صحابی ہو اور بھائی وہ ہیں جو ابھی سامنے نہیں آئے اور میں ان سے پہلے حوض پر پہنچوں گا  انہوں نے کہا  ۔حضورﷺ آپ اپنے ان امتیوں کو کیسے پہچانے گے جو آپ کے بعد پیدا ہوئے آپﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر کسی کے روشن چمک کے گھوڑے  سیاہ مشکیں گھوڑوں کے ساتھ ہو وہ اپنے گھوڑوں کو نہ پہچان پائے گا صحابہؓ نے کہا کیوں نہیں آپ نے فرمایا میرے وہ امتی اپنی وضو کے اثر سے چمکتی پیشانیوں سے پہچانے جائیں گے  میں ان سے پہلے حوض پر پہنچا ہوا ہوں گا ایسا نہ ہو کہ میرے حوض سے کچھ لوگوں کو اس طرح روک دیا جائے جیسے کہ کسی راہ گم کردہ اونٹ کو روک دیا جاتا ہے ۔میں انہیں آواز دیتا ر ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں اور مجھے غیب سے یہ آواز دی جائے کہ انہوں نے آپ کے بعد آپ کے  دین کو بدل دیا تھا پھر میں کہوں گا تم دور رہو پیچھے ہٹو  میں تمہیں دیکھنا نہیں چاہتا۔

اس روایت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ کے دین کو بدلنے والے بدعتی حضورﷺ کے صحابہؓ میں سے نہ ہوں گے آپ کی امت میں سے ہوں گے اور بعض طرق حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک قوم نہ ہوں گے  آپﷺ نے فرمایا: ان کے لئے لفظ اقوام استعمال کیا۔ 

ليردن علي اقوام اعرفهم ويعرفونني ثم يحال بيني وبينهم

(کشف المغطی عن وجہ الموطا جلد 1 صفحہ63)

ترجمہ: میرے سامنے (یہ بدعتی) کئی قوموں کے لوگ ہوں گے میں ان کو پہچانوں گا اور وہ مجھے پہچان لیں گے  پھر میرے اور اُن میں ایک روک  ڈال دی جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں کہوں گا یہ مجھ سے دور رہیں دور رہیں۔

صفحہ 1 از 2