Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا بیت المال سے قرض لیتی ہیں اور تجارت کرتی ہیں

  علی محمد الصلابی

ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے پہلے ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا دورِ جاہلیت میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے چچا حفص بن مغیرہ کی زوجیت میں تھیں، ہندؓ کا شمار قریش کی خوبصورت اور ذہین عورتوں میں ہوتا تھا۔ حضرت ابوسفیانؓ نے بھی آخری عمر میں انہیں طلاق دے دی، تو انہوں نے حضرت عمرؓ کے حکم سے بیت المال سے چار ہزار درہم قرض لیا، اور ’’کلب‘‘ کے شہروں کی طرف تجارت کرتے ہوئے اپنے بیٹے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئیں۔ وہ اس وقت حضرت عمرؓ کی طرف سے شام کے گورنر تھے، ان سے کہا: اے میرے بیٹے! عمر بہت اچھے آدمی ہیں، تمام کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ 

(تاریخ الإسلام، عہد الخلفاء الراشدین: ذہبی: صفحہ 298 299 )

خلافتِ راشدہ کے دور میں عورت کا اپنا مخصوص مقام تھا، اور یہ مقام و مرتبہ اسے اسلام نے عطا کیا تھا، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ عہد خلافت راشدہ میں عورت نے مختلف فکری، ادبی، اور تجارتی میدانوں میں شرکت کی، چنانچہ سید ہ عائشہ، امّ سلمہ، حبیبہ بنت امّ حبیبہ ،ارویٰ بنت کریز بن عبد شمس، اور اسماء بنت سلمہ التمیمیۃ رضی اللہ عنہن نے فن حدیث، ادب اور فقہ و فتاویٰ میں مہارت حاصل کی، جب کہ ان کے علاوہ بعض دوسری خواتین مثلاً حضرت خنساءؓ نے شعر گوئی میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

(تطور تاریخ العرب السیاسی والحضاری: دیکھئے فاطمۃ الشامی: صفحہ 175 )

سیدنا عمرؓ عورت کا مقام و مرتبہ پہچانتے تھے اور جانتے تھے کہ عورت بھی ایک حساس اور باشعور مخلوق ہے، وہ بھی دیکھتی سوچتی اور سمجھتی ہے۔ اس لیے سیدنا عمرؓ جس طرح مردوں سے مشورہ لیتے تھے عورتوں سے بھی مشورہ لیتے حتیٰ کہ بعض مواقع پر شفاء بنت عبداللہ عدویہ رضی اللہ عنہا کی رائے کو مقدم رکھتے، پس عورت کو کس چیز کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے جسے اسلام کے علاوہ دوسری جگہوں پر تلاش کیا جاتا ہے۔ امیر المؤمنین ملکی معاملات میں عورت سے مشورہ لیتے ہیں، اور اس کی رائے پسند بھی کرتے ہیں۔ 

(شہید المحراب: صفحہ 205، امیر وقت کا کسی خاتون سے اس کی صلاحیت اور علم و فہم کی بنیاد پر مشورہ لینا اور بات ہے اور خواتین کو پارلیمنٹ کی زینت بنانا اور ان کا الیکشن میں کھڑا ہونا اور بات ہے، خلفائے راشدینؓ کے عمل سے دور حاضر کے پارلیمانی نظام پر استدلال غلط ہے۔ مترجم) 

سیدنا عمرؓ خود کو مجاہدین کے بچوں کا باپ شمار کرتے تھے، جن خواتین کے شوہر جہاد پر ہوتے، آپؓ ان کے دروازوں پر جا کر پوچھتے: کیا تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے؟ آپؓ لوگوں کو کچھ خریدنا ہے؟ مجھے پسند نہیں کہ خرید و فروخت میں تم دھوکا کھا جاؤ، پھر وہ عورتیں اپنی چھوٹی بچیوں کو آپؓ کے ساتھ بھیج دیتیں، آپؓ بازار میں داخل ہوتے تو آپؓ کے پیچھے بے شمار بچے اور بچیاں ہوتیں، آپؓ ان کی ضروریات خرید کر دیتے، اور جس کے پاس رقم نہ ہوتی اسے اپنی طرف سے خرید کر دیتے، جب کسی سرحد سے مجاہدین کے پاس سے حکومتی کارندہ آتا تو مجاہدین کے خطوط ان کی بیویوں کے گھر گھر جا کر بذات خود پہنچاتے، اور کہتے: تمہارے خاوند اللہ کے راستے میں ہیں، اور آپؓ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بستی میں ہیں اگر تمہارے پاس خط کا پڑھنے والا کوئی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ دروازے کی آڑ میں قریب آ جاؤ تاکہ تمہیں خط پڑھ کر سنا دوں۔ پھر فرماتے: حکومتی کارندہ فلاں دن سرحد پر مجاہدین کے پاس جانے والا ہے، لہٰذا آپ لوگ خط کا جواب لکھ دیں، تاکہ میں تمہارے خطوط بھیج سکوں، پھر آپؓ کاغذ اور دوات لے کر ان کے پاس جاتے اور کہتے دوات اور کاغذ حاضر ہے، دروازے سے قریب ہو جاؤ، تاکہ تمہارا پیغام لکھ دوں، اس طرح آپؓ مجاہدین کی بیویوں کے پاس فرداً فرداً جاتے اور ان کے خطوط لے کر ان کے شوہروں کے پاس بھیج دیتے۔

(أخبار عمر: صفحہ 339، سراج الملوک: صفحہ 109)