غیر مسلم کو زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ دینا
غیر مسلم کو زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ دینا
سوال: ہمارے علاقے میں ایک نادار غیر مسلم آباد ہے۔ ایک مالدار مسلمان اس کو زکوٰۃ کی رقم دینا چاہتا ہے۔ کیا غیر مسلم کو زکوٰۃ دینا شرعاً جائز ہے؟
جواب: زکوٰة کی صیح ادائیگی کے لئے فقہائے کرامؒ نے شرط قرار دیا ہے کہ لینے والا مسلمان ہو، چونکہ غیر مسلم میں یہ شرط مفقود ہے، اس وجہ سے اس کو زکوٰۃ کی رقم دینا جائز نہیں۔ البتہ نفلی صدقہ غیر مسلم کو دیا جاسکتا ہے۔
والدليل على ذٰلك: (ولا) تدفع (الى ذمى) الحديث معاذ (وجاز) دفع (غيرها وغير العشر) والخراج (اليه) اى الذمی ولو واجباً كنذر وكفارة وفطرة خلاف للثانی
ترجمہ: سیدنا معاذؓ کی حدیث کے حوالے سے ذمی کو زکوٰۃ نہیں دی جائے گی۔ جبکہ زکوٰة عشر اور خراج کے علاؤہ جیسے نذر، کفارہ اور صدقہ فطر اگرچہ صدقاتِ واجبہ میں سے ہیں، ذمی کو دینا جائز ہے۔
(فتاوىٰ عثمانيه جلد 4، صفحہ 93)