رعایا کے بہترین کارناموں کا لحاظ
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے بہترین کارناموں کا لحاظ رکھتے تھے۔ آپؓ کے پاس مردم شناسی کا نہایت دقیق پیمانہ تھا، چنانچہ آپؓ نے فرمایا: ’’تم کو کسی آدمی کی شہرت دھوکے میں نہ ڈال دے، اچھا اور کامل آدمی وہ ہے جو امانت دار ہو اور لوگوں کی غیبت کرنے سے دُور رہے۔‘‘
(فقہ الائتلاف: محمود محمد الخزندار: صفحہ 164 )
آپؓ یہ بھی کہتے تھے: ’’کسی شخص کی نماز اور اس کے روزے سے دھوکہ نہ کھاؤ، بلکہ اس کی دانائی اور سچائی کو دیکھو۔‘‘ اور ایک مرتبہ فرمایا: ’’مجھے تمہارے بارے میں دو قسم کے لوگوں سے کوئی خوف نہیں ہے: پکا سچا مومن کہ جس پر ایمانی علامات ظاہر ہوں اور کافر جس کا کفر واضح ہو۔ البتہ میں تمہارے بارے میں اس منافق سے ڈرتا ہوں جو ایمان کے پس پردہ غیر ایمانی عمل کرتا ہے۔‘‘ایک آدمی سیدنا عمرؓ کے پاس گواہی دینے آیا، آپؓ نے جاننا چاہا کہ کیا کوئی اس کا تزکیہ و تصدیق کرنے والا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین میں اس کی اچھائی اور صداقت کی گواہی دیتا ہوں۔ آپؓ نے پوچھا: کیا تم اس کے پڑوسی ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپؓ نے پوچھا: کسی دن اس کے ساتھ رہے ہو کہ اس کی حقیقت حال سے واقف ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپؓ نے پوچھا: کبھی تم نے اس کے ساتھ سفر کیا ہے؟ کیونکہ سفر اور پردیس لوگوں کو پرکھنے کا ذریعہ ہے اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے کہا: شاید تم نے اسے مسجد میں اٹھتے بیٹھتے اور نماز پڑھتے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپؓ نے فرمایا: جاؤ تم اس کو نہیں پہچانتے۔
(عمر بن الخطاب: صالح بن عبدالرحمن بن عبدالله: صفحہ 66)
واقعات و شواہد بتاتے ہیں کہ خدمت اسلام کے لیے عظیم کارناموں کے بدلے مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت اللہ کے فضل و احسان سے اور اعزاز و احترام فاروقی سے نوازی گئی، اسی سلسلہ کے چند واقعات کو یہاں ذکر کیا جاتا ہے: