جب لوگوں نے کفر کیا تو تم ایمان لائے جب انہوں نے پیٹھ پھیری تو تم آگے آئے جب انہوں نے بے وفائی کی تو تم نے وفاداری کا ثبوت دیا
علی محمد الصلابیعدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں اپنی قوم کے کچھ لوگوں کو لے کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، آپؓ قبیلہ ’’طی‘‘ کے ہر فرد کے لیے دو ہزار درہم مقرر کرنے لگے، اور مجھے نظر انداز کر دیا، میں آپؓ کے سامنے آ کھڑا ہوا، لیکن آپؓ نے پھر نظر انداز کر دیا، پھر میں بالکل آپؓ کی نگاہوں کے سامنے آ کھڑا ہوا، لیکن آپؓ نے مجھ پر توجہ نہ دی۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپؓ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپؓ ہنسنے لگے، یہاں تک کہ لوٹ پوٹ گئے، پھر کہا: ہاں، اللہ کی قسم! تمہیں یقیناً پہچانتا ہوں، جب انہوں نے کفر کیا تب تم ایمان لائے، جب انہوں نے پیٹھ پھیری تب تم آگے آئے، جب انہوں نے بے وفائی کی تب تم نے وفاداری کا ثبوت دیا اور سب سے پہلی زکوٰۃ جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرامؓ کے چہروں کو روشن کیا وہ قبیلہ طی کی زکوٰۃ تھی، تم اسے لے کر رسول اللہﷺ کے پاس آئے تھے۔ پھر آپ نے عدی سے معذرت کی اور کہا: میں نے ان لوگوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا ہے جن کو فاقہ نے گھیر لیا ہے، حالانکہ وہ اپنی قوم کے سردار رہے ہیں اور یہ ان کا حق بنتا ہے۔
(صحیح مسلم: حدیث2523۔ مسند أحمد: حدیث 316)
اور ایک روایت میں ہے کہ عدیؓ نے کہا: تب مجھے کوئی پروا نہیں۔
(فتح الباری: جلد 7 صفحہ 706، الخلافۃ الراشدۃ، دیکھئے یحیٰی الیحیٰی: صفحہ 297)