حدیث دوازدہ امیر (حدیث 12 امام) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث دوازدہ امیر (حدیث 12 امام)

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 4

حدیث دوازدہ امیر (حدیث 12 امام)

دنیا میں  عام انسانی زندگی ایک اجتماعی پیرایہ  میں چلتی ہے انسان فطری طور پر ایک تمدن کا محتاج ہے۔انسانوں کا ہر حلقہ اپنی ضروریات پوری کر کے دوسروں کی ان کے حلقوں میں کوئی ضرورت  پوری کر رہا ہے۔ہر حلقے میں کام کرنے والے کسی کو بڑا بنا کر اپنی یہ تمدنی ضرورت پوری کرتے ہیں ہر انسانی سوسائٹی کو ایک امیر کی اپنی تمدنی زندگی میں ضرورت ہے۔حضرت علی مرتضیؓ اس ضرورت کو ایک لا بدی (جس کے بغیر کام نہ چل سکے) ضرورت کہتے ہیں شریف رضی آپ سے نقل کرتا ہے آپ نے کہا۔

إِنَّهُ لاَبُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ أَمِير بَرّ أَوْ فَاجِر، يَعْمَلُ فِي إِمْرَتِهِ الْمُؤْمِنُ، وَيَسْتَمْتِعُ فِيهَا الْكَافِرُ، وَيُبَلِّغُ اللهُ فِيهَا الْأَجَلَ، وَيُجْمَعُ بِهِ الْفَيءُ، وَيُقَاتَلُ بِهِ الْعَدُوُّ، وَتَأْمَنُ بِهِ السُّبُلُ، وَيُؤْخَذُ بِهِ لِلضَّعِيفِ مِنَ الْقَوِيِّ، حَتَّى يَسْتَرِيحَ بَرٌّ، وَيُسْتَرَاحَ مِنْ فَاجِر۔

(نہج البلاغہ جلد اول خطبہ 40،صفحہ 184 مترجم مخل حویلی موچی دروازہ لاہور )۔

ترجمہ: لوگوں کے لئے ایک حاکم کا ہونا ضروری ہے وہ اچھا ہو یا برا، اگر وہ اچھا ہوگا تو مومن  اس کی حکومت میں اچھے عمل کر سکے گااور اگر برا ہوگا تو کافر اس کے عہد میں لذائد سے بہرہ اندوز ہوگا اور اللہ اس نظام حکومت میں ہر چیز کو اس کی آخری حدوں تک پہنچا دے گا۔ حاکم کی وجہ سے مال خراج اور غنیمت جمع ہوتا ہے اور دشمن سے لڑا جاتا ہے راستے پر امن رہتے ہیں اور قوی سے کمزورکو حق دلوایا جاتا ہے یہاں تک کہ نیک حاکم راحت پائے اور برے حاکم کے مرنے یا  معزول ہونے سے دوسروں کو راحت پہنچے۔

حضرت علیؓ کے اس ارشاد کی اہل سنت کی کتابوں سے بھی اس طرح تصدیق ملتی ہے۔حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں حضورﷺ نے فرمایا۔

إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ ، يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ ، وَيُتَّقَى بِهِ ، فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَلَ ، كَانَ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرٌ  وَإِنْ يَأْمُرْ بِغَيْرِهِ كَانَ عَلَيْهِ مِنْهُ

(صحیح مسلم ج2،ص 126)

ترجمہ: بیشک امام(امیر) ایک ڈھال ہے۔ جس کے ماتحتی میں دشمن سے لڑا جاتا ہے اور بچا جاتا ہے۔اگر وہ اللہ کے ڈر سے چلے اور عدل کریں اسے اس پر اجر ملتا ہے اور اگر تقوی کے بغیر چلے تو اس زیادتی کا بوجھ اسی پر آتا ہے۔

حضرت امام نووی ؒ کی اس شرح میں لکھتے ہیں کہ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ سے مراد کفار مسلم  بخاۃ، خوارج اور سب اہل فساد ہیں اور  يُتَّقَى بِه سے مراد دشمن کے شر اور  مطلق اہل فساد کے شر سے بچنا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاکم دو طرح کے ہوتے ہیں اچھے ہوں  یا برے اور نظام مملکت  اور سلطنت ان کے بغیر چل ہی نہیں پاتا اور یہ وہی بات ہے جو حضرت علی مرتضیٰؓ نے بقول شریف رضی کہی ہے۔سو امیر کا ہونا ضروری ہے چاہے اچھا ہو یا برا ہر مذہب سوسائٹی میں امیر کی ضرورت سے چارہ نہیں وہ کس طرح بھی ہو۔ اسلام کے بارے میں رسول اللہﷺ نے ایک پیشن گوئی فرمائی کہ بارہ امیروں تک حوزہ اسلام اس قدر قوی  اور منیع رہے گا کہ حوزہ اسلام پر حملہ کرنے کی کسی دشمن کو ہمت نہ ہوں گی۔حضور اکرمﷺ کی اس حدیث کو شیعوں نے خوامخواہ بارہ امام کی حدیث بنا لیا ہے ۔اور وہ اسے اپنے بارہ اماموں پر لائے ہیں لیکن وہ اس حقیقت کو یکسر بھول جاتے ہیں کہ یہ حدیث حکمرانوں کے بارے میں ہے  اور ان کے بارہ اماموں میں سے نو امام تو اس طرح رہے کہ ایک دن بھی وہ حکومت کہیں نہ کر پائے۔اس پہلو سے تاریخ کے بارہ حکمرانوں میں کون ہے‏اور کون نہیں اس میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ قطع نظر اس سے یہ بات روز روشن سے زیادہ واضح ہے  اس حدیث سے مراد اثناعشریوں کے بارہ  امام ہرگز مراد نہیں ہیں کیوں کہ ان میں تو کئی ایک دن بھی حکومت نہ کر پائے۔ حضرت امام زین العابدینؒ جب مسجد نبوی میں درس حدیث دیتے تھے اس وقت حوزہ اسلام کو کھلے دشمنان اسلام سے کون بچائے ہوئے تھا؟ اور خود امام کس کی حفاظت کے سایہ تلے شام سے مدینہ منورہ آئے تھے اور وہاں ان کا درس حدیث قائم ہوا تھا۔شیعوں کا یہ وسوسہ غلط ہے کہ وہاں مسجد نبوی میں حضرت زین العابدینؒ کا خاص شاگرد زہری تھا ہرگز درست نہیں ابن شہاب زہری شیعہ نہ تھا ورنہ امام مالکؒ جیسے عظیم  امام اہلسنت  اس سے ہرگز روایت نہ لیتے۔ شیعوں نے خواہ مخواہ انہیں اپنی اسماء الرجال کتابوں میں شیعہ ظاہر کر  رکھا ہے۔اس صورتحال سے نکلنے کے لیے بعض شیعہ مبلغین یہ موقف اختیار کرتے ہیں کے مسجد نبوی میں امام زین العابدینؒ کے درس  حدیث کے دو حلقے تھے ایک عام اور دوسرا خاص اور یہیں سے ان کے ہاں عامہ اور خاصہ کی  دو اصطلاحیں چلیں۔ ابن شہاب زہریؒ ان کے خاص حلقے کے طالب علم تھے اور ان پر ان کی پوری حکومت چلتی تھی۔ ان کا دوسرا حلقہ عامہ تھا  جہاں وہ کبھی تقیہ بھی کرتے تھے سو اس راہ  سے امام زین العابدینؒ امام محمد باقرؒ، امام جعفر صادق اور امام موسی کاظمؒ بھی اپنے اپنے وقت میں  حکمران رہے اور حدیث دوازدہ امام اپنے موضوع پر قائم رہی۔

جواب: حدیث دوازدہ امیر میں جس حکمرانی اور امارت کا ذکر ہے وہ منیعا کے لفظ کی روشنی میں وہ حکمرانی ہے جو سرحدی دشمن کو حملے سے روک رہی ہو نا یہ علمی آزادی جس میں حضرت امام زین العابدینؒ مسجد نبوی میں اپنے درس حدیث سے بالکل آزاد تھے ۔

شیعہ مبلغین کے ہاں اس درس خاص کا سلسلہ ابن شہاب زہریؒ کے بعد جابر جعفی سے چلا اور بڑے بڑے ائمہ علم جابر جعفی کے حلقے کے معتقد ہوئے حضرت امام سفیان ثوری 161ھ جن کی علمی شان اہل کوفہ میں مسلمات  میں سے تھی وہ بھی جابر جعفی سے روایت لیتے تھے۔

صرف حضرت امام ابوحنیفہؒ ہیں جو جابر جعفی کے خلاف تھے اور نقد حدیث میں ان کی نظر بہت گہری تھی اس صورتحال میں مناسب ہوگا کہ ہم حدیث دوازدہ  امیر اپنی کتب حدیث ہدیہ قارئین کریں۔

حضرت جابر بن سمرہؓ کہتے ہیں کہ میں حضورﷺ کے پاس حاضر ہوا میرے ساتھ میرے والد حضرت سمرہؓ بھی تھے میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ھوئے سنا۔

صفحہ 1 از 4