حدیث دوازدہ امیر (حدیث 12 امام) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث دوازدہ امیر (حدیث 12 امام)

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 4

لا يَزَالُ هَذَا الْإِسْلَامُ عَزِيزًا مَنِيعًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً ثم  فَقَالَ كَلِمَةً لَمْ أَسْمَعْهَا فَقَالَ أَبِى إِنَّهُ قَالَ  كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ

(صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 119 صحیح بخاری جلد 2،  صفحہ 1072)

ترجمہ: اسلام (حوزہ اسلام) ہمیشہ غالب رہے گا (باہر سے کوئی طاقت اس کے خلاف اٹھ نہ سکے گی) وہ منیع ہوگا ان سب  کے خلاف یہ بات بارہ حکمرانوں تک رہے گی (وہ اچھے ہوں یا برے اس کا یہاں کوئی ذکر نہیں) اس کے بعد آپ نے کوئی بات کہی میں لوگوں کے شور سے اسے سن نا پایا یا سمجھ نہ سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا آپ نے کیا فرمایا؟

انہوں نے فرمایا کہ آپﷺ نے فرمایا یہ بارہ حکمران قریش سے ہوں گے۔ ان حکمرانوں کے لئے خلیفہ کا لفظ صحیح مسلم کی روایت میں متن حدیث میں ہے صحیح بخاری میں اس کی بجائے امیر کا لفظ ہے سو اس سے مراد سیاسی حکمران ہی ہیں۔ سوان بارہ میں اچھے اور برے دونوں ہو سکتے ہیں۔ لفظ امام بھی ہو تو اس کا مطلب حکمران ہی ہوگا ۔ تاہم اس حدیث الائمہ من قریش پر مزید نظر کی ضرورت ہے۔ ان بارہ کا مقسم قریب قریش ہوگا۔ جس کی آگے بہت سی شاخیں ہیں۔

بارہ حکمران قریش میں سے ہوں گے

حضور اکرمﷺ کو اپنے کلام میں جوامع الکلام کی فضیلت دی گئی تھی۔ سو آپ کا کلام کبھی فصاحت اور بلاغت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔علم معانی میں اس  پر  بحث کی گئی ہے ہر تقسیم اپنے مقسم قریب کی ہوتی ہے مقسم بعید کی نہیں۔ یہ بارہ حکمران اپنے مقسم قریب کی رو سے قریش میں سے بتلائے گئے ہیں۔ ان کا مقسم بعید عرب قوم یا بنی سام ہیں اور انہیں ان بارہ کا مقسم ٹھہرانا علم معنی کے خلاف ہوگا، یعنی اس حدیث کو یوں نہ بیان کیا جا سکے گا یہ بارہ عربوں میں سے ہوں گے، یہی کہا جائے گا کہ وہ قریش سے ہوں گے اور یہی ان کا مقسم  قریب ہے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ یہ بارہ قریش کے کسی ایک بطن سے نہ ہوں گے قریش کے مختلف بطون سے ہوں گے اگر یہ بارہ قریش کے کسی ایک بطن سے ہوتے تو پھر اس حدیث کا مقسم قریب وہ بطن ہوتا قریش نہیں۔ حضورﷺ کا انہیں کلھم من قریش سے بیان کرنا بتلاتا  ہے کہ وہ سب بنو امیہ یا بنو ہاشم یا بنو تمیم اور بنو عدی سے ہونگے ان سب کا مقسم قریب قریش ہوگا۔ سو اثنا عشری میں جس طرح کا یہ عقیدہ رکھتے ہیں وہ سب بنو ہاشم سے ہوں گے اس سے ان کا مقسم قریب بنو ہاشم ٹھہرتا ہے قریش نہیں ۔اس کے لیے نبیﷺ کو یہ کہنا چاہیے تھا کلھم من بنی ھاشم نہ کہ کلھم من  قریش یا دونوں کو سامنے رکھ کر آپﷺ فرماتے الا امۃ من قریش غرسوا فی بطن بنی ھاشم جب اہل سنت کتب حدیث میں یہ روایت کسی جگہ اس طرح نہیں ملی تو معلوم ہوا کہ حدیث الائمہ من القریش کسی صورت میں صرف بنی ہاشم کی خلافت کے لئے نہیں ہو سکتی۔ حدیث کے یہ الفاظ خود اس عقیدے  کی کھلی تردید  کر رہے ہیں کہ وہ سب بنو ہاشم میں سے ہوں گے۔

حدیث آئمہ من قریش کی تفہیم ایک اور طریق سے

امام ابو داؤد 275ھ نے اپنی سنن جلد 2 صحفہ 239 اس حدیث کو اس طرح بھی روایت کیا ہے۔امام محی  الدین نوویؒ 676ھ اسے امام ابو داؤدؒ سے اس طرح نقل کرتے ہیں ۔

ویجتمع المسلمون علیه کما جاء فی سنن ابی داؤد کلھم  تجتمع  علیه الامۃ

 (شرح صحیح مسلم جلد 2 صحفہ 119)

ترجمہ:  تمام مسلمان ان میں سے ہر ایک کی خلافت پر  متفق  ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک پر پوری امت جمع ہو گی۔ سو اس شرط کی رو سے امام موسیٰ کاظمؒ ان بارہ اماموں میں نہیں آتے انہیں لوگ صرف اثنا عشریوں کا امام جانتے ہیں۔ اسماعیلی شیعہ انہیں امام نہیں مانتے۔ وہ ساتواں امام حضرت امام جعفرؒ کے بعد ان کے بیٹے اسماعیل کے بیٹے کو مانتے ہیں اور اب تک یہ شیعوں کا یہ اسماعیلی سلسلہ ظاہر امام کے پیروؤں کا ملتا ہے اور اثناعشریوں کو سب امام غائب کے منتظر سمجھتے ہیں۔

سو یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ اثناعشریوں کے بارہ امام کسی طرح اس حدیث دوازدہ امیر کی مراد نہیں ہو سکتے اور نہ اس حدیث کی رو سے ان کی کوئی فضیلت ثابت ہوئی ہے ہاں  اتنی فضیلت ان کے لیے ضرور نکلتی ہے کہ ان کے دور میں اسلام کے کھلے دشمنوں میں سے کوئی سرحدات  اسلام پر حملہ آور نہ ہو سکے گا اور اس دور میں یزید کا ساڑھے چار سال کا دور حکومت بھی آ جاتا ہے۔

وہ اپنے والد کی وصیت پر عمل نہ کرنے سے حقوق  والدین کا ضرور مرتکب تھا۔ اس بات کو حل کرنے کے لیے سارے قارئین حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی اس روایت پر بھی کچھ غور کریں آپ کے دور میں مدینہ منورہ میں یزید  کی طرف سے والی کون تھا۔ عبداللہ بن مطیع امام مسلمؒ اپنی صحیح  میں روایت  بیان کرتے ہیں ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اسے ملنے گئے آپ کا ارادہ اسے حضرت محمدﷺ کی ایک حدیث سنانے کا تھا۔ عبداللہ بن مطیعؓ نے جب اتنے بڑے آدمی کو اپنے ہاں آتے دیکھا تو اس نے معاً اپنے عملے سے کہا کہ ان کے لیے چٹائی بچھائے۔ آپ نے اسے اس سے منع کیا اور فرمایا میں تمہارے ساتھ مجلس کرنے نہیں آیا تجھے صرف ایک حدیث سنانے آیا ہوں اور وہ یہ کہ مسلمانوں کی سلطنت ایک ہو تو اسے کسی طرح دو نہ ہونے دینا۔ اس سلطنت کی وحدت اتنی  ضروری ہے کہ اس کے لیے ہر قربانی دی جا سکے گی۔

عن نافع قال جاء عبداللہ بن عمر الى عبد الله بن مطيع حين كان من امرا لحرۃ ماکان زمن یزید بن معاویہ  فقال اطرحوا لابی عبد الرحمن وسادۃ فقال انی کم اتک لا جلس اتیتک لا حدثنک  حدیثا  سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول من خلع  یدا من  طاعۃ  لقی اللہ یوم القیمۃ لا حجۃ له و من مات و لیس  فی عنقہ  بیعۃ مات میتۃ جاھلیه

( صحیح مسلم جلد 2 صحفہ128)

صفحہ 2 از 4