حدیث دوازدہ امیر (حدیث 12 امام) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث دوازدہ امیر (حدیث 12 امام)

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 4

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرؓ عبداللہ بن مطیعؓ کے ہاں ایام حرہ میں گئے جب یزید بن معاویہ حکمران تھا عبد اللہ بن مطیعؓ نے انہیں دیکھتے ہی اپنے عملے کو حکم دیا کہ ان کے لیے تکیہ  بچھاؤ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ  نے فرمایا  میں تم سے مجلس کرنے نہیں آیا میں تمہیں ایک حدیث سنانے آیا ھوں۔ میں نے حضورﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے کسی امیر کی سلطنت سے خروج کیا وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت کے دن اس طرح پیش ہو گا کہ اس کے  پاس اس کی کوئی حجت  نہ ہو گی اور جو شخص کسی امام کی اطاعت کے بغیر مرا تو اس کی  وہ موت جاہلیت کی موت شمار  پائے گی۔

اس میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے  تقریباً وہی  بات بیان کی ہے جو حضرت علیؓ نے  کہی تھی کہ لوگوں کے لیے کوئی نہ کوئی امیر وہ اچھا ہو یا برا ضرور ہونا چاہیے۔ اس کے بغیر کوئی انسان تمدن قائم نہیں کر پاتا اس روایت کی روشنی میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی یزید کی بیعت کرنے کی وجہ پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ انہوں نے یزید کی حکومت کو کیوں تسلیم کیا تھا وہ صرف اس لیے کیا تھا کہ سلطنت اسلامی جو دو حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی اور اسے حضرت حسنؓ اور حسینؓ نے ایک بڑی قربانی سے پھر سے ایک کیا تھا وہ کسی غلطی سے پھر دو حصوں میں نہ بٹ جائے ورنہ وہ یزید کو کسی درجے میں کوئی فضیلت نہ دیتے تھے ان کا دل ہمیشہ سے حضرت حسنؓ اور حسینؓ کے ساتھ تھا اس حدیث کی روشنی میں اس سوال کا جواب کھل کر سب کے سامنے آ جاتا ہے کہ

حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے یزید کے  خلاف  کیوں خروج نہ کیا؟

صرف اس لئے کہ سلطنت اسلامی میں حضرت حسنؓ و حسینؓ کی اس عظیم قربانی کے بعد  پھر سے دو حصوں میں نہ بٹ جائے اس میں آپ نے جو حدیث والی مدینہ عبداللہ بن مطیعؓ کو سنائی۔اس طرح کی ایک دوسری حدیث حضرت عرفجہؓ نے بھی حضورﷺ سے اس طرح روایت کی ہے آپ نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔

فمن ارادان یفرق امر ھذہ الامۃ وھی جمیع فاضربوہ بالسیف کائنا من کان

(صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 128)

ترجمہ: جو چاہے کہ  اس امت کو ایک ہونے کے بعد پھر سے دو حصے کر دے اسے فوراً قتل کر دو چاہے جو بھی ہو۔ اس حدیث کا معنیٰ امام نوویؒ اپنی شرح  حدیث صحیح مسلم میں لکھتے ہیں:

 فیہ الامر  بقتال من خرج علی الامام او اراد  تفریق کلمۃ المسلمین و نحو ذلک و ینھی عن ذلک و ان لم ینته قوتل

ترجمہ: اس میں اس سے قتال کا حکم ہے جو امیر کی اطاعت سے نکلے یا حوزہ  اسلام میں تفریق ڈالے، اسے اس سے روکا جائے اگر وہ نہ رکے تو اس سے قتال کیا جائے۔

ایک اور اہم سوال اور اس کا جواب

اس پر  شاید کسی کے ذہن میں یہ سوال اٹھے کہ پھر حضرت حسینؓ نے یزید کے خلاف خروج کیوں کیا؟

اس کا واضح جواب یہی ہے کہ انہوں نے بھی خروج نہ  کیا تھا؟ کیا کوئی شخص اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر کسی حاکم کے خلاف خروج کرتا ہے کبھی نہیں اگر یہ خروج ہوتا تو حضرت حسینؓ  اپنی آخری شرطوں میں کبھی یہ صورت پیش نہ کرتے کہ مجھے واپس مدینہ جانے دیا جائے صرف اتنی بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ وہ یزید کے ظاہری کردار سے خوش نہ تھے اور وہ اس کی سلطنت میں مدینہ نہ رہنا چاہتے تھے۔

اس وقت ہمارا موضوع یہ سانحہ کربلا نہیں یہ بات صرف عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عمر کے بارے میں سامنے آ گئی ہے کہ وہ دل سے یزید کی کسی فضیلت کے قائل نہ تھے اور وہ اس کے خلاف وہ اس حدیث کی وجہ سے خروج نہ کرنا چاہتے تھے وہ اس پر بھی مطمئن تھے کے اسلامی سرحدوں کے پاس کسی جگہ وہ سکونت پذیر ہو جائیں اور کسی سیاست میں نہ آئیں۔

برصغیر  پاک و ہند کے اہل سنت  یزید کو بارہ اماموں میں شامل نہیں کرتے

یہ حقیقت ہے کہ زید کا دورِ حکومت تقریباً ساڑھے چار سال کے قریب رہا مگر برصغیر پاک و ہند کے اہل سنت کے مرکزی بزرگ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ 1176ھ یزید کو بارہ امیروں کی فہرست میں جگہ نہیں دیتے۔ آپ اپنی کتاب قراۃ العینین فی تفضیل الشیخین میں لکھتے ہیں کہ یزید اپنے پورے دورِ حکومت میں کبھی استحکام نہ پا سکا۔ ہمیشہ ہنگامی حالات میں ہی گھرا رہا۔کبھی اپنے آپ کو حضرت مسلم بن عقیلؓ سے بچانے میں کبھی حضرت حسینؓ سے بچانے میں کبھی واقعہ حرہ۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی زندگی تک وہ مکہ میں حکومت نہ پا سکا حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔

یزید بن معاویہ خود ازین میاں ساقط است بجھت عدم استقرار و حدت معتدبھا و سوء سیرت او

(قرۃالعینین: صفحہ 298 مطبع مجتبائی دہلی )

ترجمہ: یزید بن معاویہ اس بارہ امیروں کی فہرست میں نہ  آئے گا کیوں کہ مدت مدید ملنے کے باوجود کبھی اپنی حکومت میں استقرار نہ پا سکا اور اپنی بری عادات کے باعث وہ ان حکمرانوں کی فضیلت نہیں پاتا جو اپنے وقت  میں حوزہ اسلام کو ایک رکھے ہوتے ہوں۔ عرب ممالک میں اگر بعض علماء یزید کو اس فہرست میں لاتے رہے تو برصغیر پاک وہند کے  علماء کو اس میں حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، حضرت شاہ عبدالعزیزؒ، حضرت سید احمد شہیدؒ اور مولانا اسماعیل شہیدؒ کے ساتھ رہنا چاہیے۔علماء دیوبند محدثین دہلی کے ہی  علمی  وارث سمجھے جاتے ہیں۔

ایک اور سوال اور اس کا جواب

بعض لوگوں نے اس پر بھی سوال اٹھایا کہ حضرت علیؓ بھی تو اپنے عہدِ خلافت میں استحکام نہ پا سکے تھے وہ بارہ حکمرانوں کی فہرست میں کیسے آ گئے؟

صفحہ 3 از 4