حدیث دوازدہ امیر (حدیث 12 امام) - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث دوازدہ امیر (حدیث 12 امام)

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 4

اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی خلافت زیر اختلاف نہ رہی حضرت معاویہؓ کا کبھی ان سے خلافت میں نزاع نہ تھا۔ وہ صرف بیعت میں تاخیر کئے ہوئے تھے کہ پہلے امام مظلوم حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو گرفت میں لے لو حضرت علیؓ بھی اس میں کسی مناسب وقت کے انتظار میں تھے۔ پھر حضرت علیؓ کی اپنی شہادت (گواہی) سے ان کی  حضرت امیر معاویہؓ سے بھی اس بات پر مصالحت  ہو گئی تھی کہ دونوں اپنے اپنے مقبوضات میں نظام چلائیں اور کوئی کسی پر حملہ آور نہ ہو پھر اس پیش رفت کی تکمیل میں حضرت سیدنا حسنؓ اور حضرت سیدنا حسینؓ نے حضرت معاویہؓ سے صلح کر کے انہیں حضرت امیر معاویہؓ بنا دیا۔ حضرت علیؓ کو اپنی خلافت میں پورا استحکام  اور استقرار حاصل تھا اور اس کے لئے جنگ صفین ایک بڑی شہادت ہے کہ شامی فوجوں نے بھی اپنی شکست سے بچنے کے لیے حضرت علیؓ کی افواج کے سامنے قرآن پیش کر دیے تھے کہ یہ کتاب ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے اس روشنی میں کوئی صاحبِ علم  یہ نہیں کہہ سکتا۔ معاذ اللہ چوتھے خلیفہ راشد کو اپنی سلطنت میں استحکام  حاصل نہ تھا۔ اگر وہ اپنے عہدِ حکومت میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے فیصلوں پر ہی چلتے رہے تو اس کی وجہ ان کی اپنی خلافت کی کمزوری نہ تھی وہ اس حقیقت سے اچھی طرح خبردار تھے۔ حضرت ابوبکرؓ اور عمرؓ اب تک مسلمانوں کے دلوں پر حکومت کرتے ہیں۔ یہ صرف قاضی نور اللہ شوستری کی رائے رہی ہے کہ انہیں اپنی سلطنت میں استحکام حاصل نہ تھا۔ ظاہر ہے کسی مختلف فیہ بات سے کسی بات کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کسی اختلاف کو مٹانے کے لیے کسی اتفاق کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پر  ہم حدیث بارہ امیر کی بحث کو ختم کرتے ہیں۔


صفحہ 4 از 4