Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کی پیشانی کو بوسہ دے اور سب سے پہلے میں شروع کرتا ہوں

  علی محمد الصلابی

بزرگ صحابی عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کو روم والوں نے قید کر لیا اور پکڑ کر اپنے بادشاہ کے پاس لائے۔ بادشاہ نے کہا: نصرانی بن جاؤ، میں تم کو اپنی بادشاہت میں شریک کر لوں گا، اور اپنی بیٹی سے تمہاری شادی کر دوں گا۔ آپؓ نے اس کو جواب دیا: اگر تم اپنی پوری بادشاہت دے دو اور اہلِ عرب اپنی پوری جائیداد سونپ دیں تاکہ میں دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پلک جھپکنے تک پھر جاؤں تو ایسا ہرگز نہیں کر سکتا بادشاہ نے کہا: تب میں تم کو قتل کر دوں گا آپؓ نے فرمایا: تمہاری مرضی، بادشاہ نے حکم دیا اور آپؓ تختہ دار پر لٹکائے گئے، اور تیر اندازوں کو حکم دیا کہ اس کے ہاتھوں اور پاؤں کے قریب سے اس پر تیر برسائیں اور وہ خود آپؓ پر مذہب نصرانیت پیش کرتا رہا۔ پھر آپؓ کو تختہ دار سے اتارنے کا حکم دیا اور آپؓ اتار لیے گئے، پھر ایک ہانڈی اور ایک روایت کے مطابق پیتل کا خوب بڑا دیگچہ لانے کا حکم دیا، اور اسے خوب گرم کیا گیا، پھر ایک مسلمان قیدی کو لایا گیا اور اسے آپؓ کے سامنے دیگچے میں ڈال دیا، چند ہی لمحوں میں اس کی صرف ہڈیاں نظر آنے لگیں پھر اس نے آپؓ کو مذہب نصرانیت قبول کرنے کی دعوت دی، لیکن آپؓ نے انکار کر دیا۔ چنانچہ اس نے آپؓ کو اس دیگچے میں ڈالنے کا حکم دے دیا، آپؓ جونہی چرخی پر لٹکائے گئے تاکہ دیگ میں ڈالے جائیں، آپؓ رونے لگے بادشاہ کو ان کے نصرانی ہونے کی امید ہو گئی اس نے پھر نصرانیت کی طرف بلایا، آپؓ نے فرمایا: میں اس لیے رو رہا ہوں کہ میرے پاس ایک ہی جان ہے جو اللہ کے راستے میں اس وقت دیگ میں ڈالی جا رہی ہے، میں چاہتا ہوں کہ کاش میرے جسم میں جتنے بال ہیں اتنی ہی میرے پاس جانیں ہوتیں جو اسی طرح اللہ کے راستے میں تکلیف برداشت کرتیں۔ 

بعض روایتوں میں ہے کہ بادشاہ نے عبداللہ بن حذافہؓ کو قید میں ڈال دیا، اور چند دنوں تک آپؓ کو کھانا پانی کچھ نہ دیا، پھر کھانے پینے کے لیے سور کا گوشت اور شراب بھیجے لیکن آپؓ اس کے قریب نہ گئے۔ بادشاہ نے آپؓ کو طلب کیا اور کہا: تم نے کیوں نہیں کھایا؟ آپؓ نے جواب دیا: اگر میں کھانا چاہتا تو وہ میرے لیے اس حالت میں حلال تھا، لیکن میں ایسا نہیں ہوں کہ اپنی مصیبت پر تجھے ہنسنے کا موقع دوں۔ بادشاہ نے کہا: میری پیشانی چوم لو تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔ آپؓ نے کہا: کیا میرے ساتھ دوسرے مسلمان قیدیوں کو بھی چھوڑو گے؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپؓ نے اس کی پیشانی چوم لی، اس نے آپؓ کو اور آپ کے ساتھ دیگر مسلمان قیدیوں کو رہا کر دیا اور جب آپؓ قید سے رہائی پا کر واپس آئے تو حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا: ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ عبداللہ بن حذافہؓ کی پیشانی چومے، اور میں پہلے چومتا ہوں۔ پھر آپؓ کھڑے ہوئے اور ان کی پیشانی کو بوسہ دیا۔ 

(تفسیر ابن کثیر: جلد 2 صفحہ 610)