حدیث اغضاب فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا - ردِ رافضیت | دفاع…

حدیث اغضاب فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 2

اس روايات میں فغاضبني کے  الفاظ صر يح طور پر موجود ہیں۔ تاہم یہ بات بھی یقینی ہے کہ حضرت علیؓ نے اس سےاغضاب فاطمہؓ کا ارادہ نہ کیا تھا  اس طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بھی فدک پر قبضہ نہ دینے سے انہیں غصہ دلانے کا قصد نہ کیا تھا۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے یہ کہا تھا.

فقال ابو بكر رضي الله تعالى عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا نورث ما تركنا فهو صدقه انما ياكل آل محمد من هذا المال يعني مال الله ليس لهم ان يزيدوا على الماكل وانی ولله لا اغير شيئا من صدقات النبي صلى الله عليه وسلم التي كانت عليها في عهد النبي صلى الله عليه وسلم ولا عملن ولا فيها بما عمل رسول الله صلى الله عليه وسلم

(صحيح البخاري جلد2، ص246)

ترجمہ: حضرت ابو بكرؓ  نے کہا آپﷺ نے فرمایا ہم (گروہ انبیاء) وراثت نہیں دیتے،جو مال چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے (بیت المال میں جائے)۔ حضور اکرمﷺ کی اولاد  اپنا خرچہ اس مال سے ليتی رہے انہیں یہ حق نہیں پہنچتا  کہ وہ اس پر کچھ بڑھا لیں اور میں  بخدا حضور اکرمﷺ کے ان احوال پر اس عمل سےکچھ بھی  تبدیل نہ کروں گا جو کہ آپﷺ کے  اپنے دور میں تھا اور میں  اس پرعمل کروں گا جو(اس میں) حضور اکرمﷺ کا عمل تھا ۔

اس پر پھر حضرت علیؓ نے بھی کلمه شہادت پڑھا اور اس بات کی گواہی دی حضور اکرمؓ کے عہد  میں ایسا ہی ہوتا تھا آپ نے پھر ابوبکر صدیقؓ سے کہا;

اناقد عرفنا ياابابكرفضيلتك

ترجمہ: "بے شک ہم آپ کی فضیلت  کو (جو آپ کو اس امت میں ہے)  پہچانتے ہیں"۔

اور صرف یہی نہیں  حضرت علیؓ نے  آپؓ کی اس قرابت کا بھی ذکر  کیا جو اپکو  حضور اکرمؓ سے تھی اور آپ کے اس حق کو بھی تسلیم کیا  اور بعض روایات میں ہے کہ اس اثنا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی آنکھوں میں آنسو دکھائی دیے اور آپؓ نے فرمایا:

والذي نفسي بيده القرابةرسول صلی الله عليه السلم احب الي من ان اصل من قرابتي

(صحيح البخاري جلد1ص526)

ترجمہ: قسم اس ذات كی جسں کے قبضہ میں میری جان ہے ۔حضور اكرمﷺ كے اہل قرابت مجھے اپنے اہل قرابت سے زیادہ محبوب ہیں ۔

اس پس منظر میں کوئی سنجیدہ شخص یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ حضر ت ابوبکر صدیقؓ  نےحضرت سيدة فاطمة الزهراءؓ كو اپنے سے ناراض کیا ہو  چہ جائیکہ آپ نے خود ارادہ کیا ہو کہ آپ انہیں قصداً ناراض کریں جیساکہ لفظ اغضاب کا تقاضا ہے ۔

یہ  لفظ جس طرح حضرت ابو بكرصديقؓ پر کسی  طرح  صادق  نہیں آتا یہ حضرت علیؓ پر بھی کسی طرح درست نہیں اترتا۔جنھوں  نےابو جہل کی بیٹی سے (جو اسلام لائے  ہوئے  تھی) نکاح کرنا  چاہا اس پر  حضرت فاطمہؓ ان سے ناراض  ہوئیں جب حضرت علیؓ کو اس کا پتہ چلا تو  آپ  نے اس نکاح کا ارادہ چھوڑ دیا پھر بھی اگر وہ آپ سے ناراض رہی ہوں تو اسےایک بشری تقاضے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا جا سکتا اور  کسی  پہلو سے بھی حديث  اغضاب کا  کوئی چھینٹا حضرت علیؓ  پر نہیں آتا ۔

اس پر ہم حدیث اغضاب فاطمہؓ کی بحث ختم کرتے ہیں ۔ناراضگی ایک فعل  قلب ہے۔ جس پر کوئی دوسرا مطلع  نہیں ہو پاتا۔حضرت فاطمہؓ نے کبھی اپنی  زبان مبارک سےاس کااظہار نہ فرمایا اور جس کسی نے کہا اپنے خیال سے کہا ظاہر ھے کہ خیال  سے کوئی بات عقیدہ نہیں بنتی۔

والله اعلم وعلمه أتم واحكم


صفحہ 2 از 2