Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کیا تم میں اویس بن عامر ہیں؟

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جب یمن والوں کی کمک آتی تو ان سے پوچھتے: کیا تم میں اویس بن عامر ہیں؟ یہاں تک کہ ایک مرتبہ اویس مدینہ پہنچے آپ خود اویس کے پاس آئے اور کہا: آپ اویس بن عامر ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپؓ نے پوچھا: قرن قبیلہ کی بنو مراد نسل سے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپؓ نے پوچھا: کیا آپؓ کو پہلے برص کی بیماری تھی، پھر آپؓ اس سے شفا یاب ہو گئے، صرف ایک درہم کی جگہ کے برابر مرض باقی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ نے پوچھا: کیا آپ کی ماں زندہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:

یَأْتِیْ عَلَیْکُمْ اَوَیْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ اَمْدَادِ اَہْلِ الْیَمَنِ مِنْ مُّرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ، کَانَ بِہٖ بَرَصٌ، فَبَرأ مِنْہُ اِلَّا مَوْضِعَ دِرْہَمٍ لَہٗ وَالِدَۃٌ ہُوَ بِہَا بَرٌّ، لَوْ اَقْسَمُ عَلَی اللّٰہِ لَا بَرَّہٗ، فَاِنَّ اسْتَطَعْتَ اَنْ یَّسْتَغْفِرَلَکَ فَافْعَلْ۔

ترجمہ:’’تمہارے پاس اویس بن عامر یمن والوں کی کمک لے کر آئیں گے، وہ مراد نسل کے اور قرن قبیلہ سے ہوں گے، انہیں برص کی بیماری رہی ہو گی پھر اس سے شفا پا چکے ہوں گے، سوائے ایک درہم کی مقدار کے، ان کی ماں بقید حیات ہوں گی، وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں گے وہ اگر کسی چیز کی قسم کھائیں گے تو اللہ اسے پورا کرے گا، اگر تم ان سے استغفار کروا سکو گے تو کروا لینا۔‘‘

لہٰذا آپ میرے لیے دعائے مغفرت کیجیے۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے لیے دعائے مغفرت کی، پھر سیدنا عمرؓ نے ان سے پوچھا کہ کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: کوفہ۔ آپ نے فرمایا: کیا میں وہاں کے عامل کے پاس آپ کے متعلق کچھ لکھ نہ دوں؟ انہوں نے کہا: مجھے گمنام لوگوں میں رہنا زیادہ پسند ہے۔

 راوی کا بیان ہے کہ دوسرے سال ان کے قبیلہ کے بزرگوں میں سے ایک صاحب مدینہ آئے، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہو گئی، آپؓ نے اس آدمی سے اویس کے بارے میں پوچھا، اس آدمی نے کہا: ان کی حالت خراب ہو گئی ہے، اور ان کے پاس بہت ہی مختصر سامانِ زندگی ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:

 یَأْتِیْ عَلَیْکُمْ اَوَیْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ اَمْدَادِ اَہْلِ الْیَمَنِ مِنْ مُّرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ، کَانَ بِہٖ بَرَصٌ، فَبَرأ مِنْہُ اِلَّا مَوْضِعَ دِرْہَمٍ لَہٗ وَالِدَۃٌ ہُوَ بِہَا بَرٌّ، لَوْ اَقْسَمُ عَلَی اللّٰہِ لَا بَرَّہٗ، فَاِنَّ اسْتَطَعْتَ اَنْ یَّسْتَغْفِرَلَکَ فَافْعَلْ۔

ترجمہ: ’’تمہارے پاس اویس بن عامر یمن والوں کی کمک لے کر آئیں گے، وہ مراد نسل کے اور قرن قبیلہ سے ہوں گے، انہیں برص کی بیماری رہی ہوگی پھر اس سے شفا پا چکے ہوں گے، سوائے ایک درہم کی مقدار کے، ان کی ماں بقید حیات ہوں گی، وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں گے وہ اگر کسی چیز کی قسم کھائیں گے تو اللہ اسے پورا کرے گا، اگر تم ان سے استغفار کروا سکو گے تو کروا لینا۔‘‘

وہ آدمی جب واپس لوٹ کر اویس کے پاس گیا تو کہا: میرے لیے دعائے مغفرت کر دیجیے، آپ نے کہا: تم ابھی نیک سفر سے آئے ہو اس لیے تم میرے لیے دعائے مغفرت کرو۔ اس نے کہا: پہلے آپ میرے لیے دعائے مغفرت کریں۔ اویس نے پوچھا: کیا حضرت عمرؓ سے تمہاری ملاقات ہوئی ہے۔ اس نے کہا: ہاں، اویس نے کہا: تو پہلے ان کے لیے استغفار کرو۔ راوی کا کہنا ہے: اس وقت لوگ آپ کے مقام و مرتبہ کو جان سکے، پھر وہ وہاں سے چلے گئے۔ 

(مسلم: کتاب فضائل الصحابۃ: حدیث 2542 )