حدیث عالمی غلبہ رسالت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث عالمی غلبہ رسالت

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 8

حدیث عالمی غلبہ رسالت

الْحَمْدُ لِلهِ وَسَلَّمُ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفى اللهُ عَيْد أَمَّا يُشرَكُونَ أَمَّا بَعْدُ:

آنحضرتﷺ نے اپنے عالمی غلبہ رسالت کی اس طرح خبر دی ہے۔ حضرت ثوبان رضی اللّٰہ عنہ حضور اکرمﷺ سے اسے اس طرح روایت کرتے ہیں:

ان الله زوى لى الارض فرأيت مشارقها ومغاربها وان امتى سيبلغ ملكها مازوى لى منها واعطيت الكنزين الاحمر والابيض

( صحیح مسلم جلد 2، ص399)

ترجمہ:

بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے ساری زمین لپیٹ کر رکھ دی میں نے اس کے سارے مشرقوں اور مغربوں کو تہہ ہوا دیکھا اور میری امت کا قبضہ ان سب پر ہوگا جو میرے سامنے جمع کیے گئے اور میں اس کے سونا اور چاندی دونوں خزانے دیا گیا۔

یہ دونوں خزانے قیصر و کسریٰ کے ہیں۔ زمین کے مشرق و مغرب اس کے شمال و جنوب کے مقابل آپ کو زیادہ دور تک پھیلے دکھائے گئے اور بتایا گیا کہ آپ کی امت ان سب تک پہنچے گی اس حدیث میں آپ کے عالمی نمایہ رسالت کی خبر دی گئی ہے۔

شارح صحیح مسلم امام محی الدین النووی (676 ھ ) اس حدیث پر لکھتے ہیں:

هذا الحديث فيه معجزات ظاهرة وقد وقعت كلها بحمد الله كما أخبر به صلى الله عليه وسلم .. وصلوات الله وسلامه على رسوله الصادق الذي لا ينطق عن الهوى ان هو الا وحي يوحی

(صحیح مسلم جلد2، ص200)

ترجمہ:

اس حدیث میں آپ کے (حضورﷺ ) کھلے معجزات کا ذکر ہے۔ جو بحمد اللہ سب کے سب اس طرح پورے ہوئے جیسا کہ آپﷺ نے ان کی خبر دی تھی ، اللّٰہ تعالیٰ کا آپ پر صلوۃ و سلام ہو جو اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے تھے ۔ سوائے اس کے کہ آپ کو اللّٰہ تعالیٰ جو کہتے آپ وہی کہتے ۔

اس حدیث کو سمجھنے میں یہ امور زیادہ قابل غور ہیں:

لشکر کا قبضہ بادشاہ کا قبضہ ہی ہوتا ہے حضورﷺ کی امت کا ان مشارق و مغارب پر قبضہ پانا اور اس کا وہاں تک جاتا حضورﷺ کے عالمی قبضہ کے ہی نقوش ہیں۔ اس سےصاف صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ تمام فاتحین عجم حضورﷺ کے ہی خلفاء تھے کہ ان کا وہاں تک جاتا حضورﷺ کا عالمی قبضہ سمجھا گیا اگر ان کی خلافت خلافت صادقہ نہ ہوتی تو یہ ان کی فتوحات حضورﷺ کی فتوحات شمار نہ کی جاتیں اس کی تصدیق قرآن پاک کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے:

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ، وَكَفَى بااللہ شهيدًا

( ب 22، التح 28)

ترجمہ:

وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول سیدھی راہ پر اور سچے دین پر تاکہ اوپر رکھے اس کو ہر دین پر۔

قرآن کریم میں اللّٰہ تعالٰی کا حضورﷺ سے اس عالمی غلبہ کا وعدہ اس صورت میں پورا ہونا سمجھا جا سکتا ہے کہ آپ کی امت کے یہ فاتحین عجم پورے دل کے خلوص سے آپ کی امت ہوں جن پر نفاق کا کسی پہلو سے کوئی شبہ نہ کیا جا سکتا ہو ان مخلصین کے اخلاص کا پتہ اس سے اگلی آیت میں اس طرح دیا گیا ہے:

محَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرْتَهُمْ رُكَعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللهِ وَرِضْوَانًا

(پ 26 ، الله 29)

ترجمہ:

حضورﷺ اللّٰہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں زور آور ہیں کافروں پر نرم دل ہیں آپس میں تو دیکھے ان کو رکوع میں اور سجدہ میں ڈھونڈتے ہیں اللّٰہ کا فضل اور اس کی خوشی ۔

دو علامات ان کے ظاہر کی جتلائی گئیں اور دو میں ان کے اندر کے حالات کی خبر دی گئی جن میں اشارہ تک نہیں ہو سکتا کہ ان کا ظاہر اور باطن ایک نہ ہو کہ ان کا ظاہر تو اشداء اور رحماء کا ہو اور اندر سے انہیں فضل الٰہی اور رضوان الٰہی کی طلب نہ ہو۔

یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ عبد رسالت میں جو لوگ حضورﷺ کے ہاتھ پر اسلام لاتے تھے اور ان کا ظاہر عمل اسلام ہی تھا یعنی ظاہری پیرائے میں جھک جانا مگر جب اللّٰہ تعالیٰ انہیں يا أيها الذين امنو سے خطاب کرتے تو اس سے ان کے اسلام کی اندرونی تصدیق ہو جاتی تھی۔ یہ پیرا یہ تصدیق ایمان صحابہ قرآن پاک میں صرف ایک دو جگہ نہیں سینکڑوں جگہ پر ہے اور جہاں یہ اندرونی تصدیق نہ تھی وہاں صاف کہہ دیا گیا:

قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا‌ ؕ قُلْ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَلٰـكِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَلَمَّا يَدۡخُلِ الۡاِيۡمَانُ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ‌ ۚ وَاِنۡ تُطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ لَا يَلِتۡكُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِكُمۡ شَيۡئًــا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

کہتے ہیں گنوار کہ ہم ایمان لائے تو کہہ تم ایمان نہیں لائے پر تم کہو ہم مسلمان ہوئے اور ابھی نہیں گھسا ایمان تمہارے دلوں میں اور اگر حکم پر چلو گے اللہ کے اور اس کے رسول کے کاٹ نہ لے گا تمہارے کاموں میں سے کچھ اللہ بخشتا ہے مہربان ہے۔

یہ سورت مدنی ہے۔ یہ اس وقت اتری جب حضور اکرمﷺ مدینہ منورہ میں تھے اور مدینہ میں مسلمان اس وقت ایک بڑی تعداد میں تھے۔ ان دنوں مدینہ کے بدو کون لوگ تھے جو بطور گنوار اس آیت میں مذکور ہوئے یہ وہ دیہاتی تھے جنہیں گھر بیٹھے بٹھائے بغیر کسی محنت کے کلمہ پڑھنا مل گیا اور ابھی ایمان اپنی پوری شان میں ان کے دلوں میں نہ بسا تھا انہیں کہا گیا تم نے مسلمان ہو کر اپنے آپ کو مسلمانوں کی پکڑ سے بچا لیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ابھی ایمان ان کے دلوں میں نہ بسا تھا لیکن ان کے دلوں میں اصل کلمہ اسلام کا انکار کبھی تو نہ تھا ایسا ہوتا تو انہیں منافقوں میں شمار کیا جاتا انہیں مسلمان ہونے کا حق نہ دیا جاتا۔ یہ صورت حال فقط ایک دفعہ ہی واقعہ ہوئی اور عام اسلام لانے والے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے یا ایها الذین امنوا سے اپنے ایمان کی تصدیق پاتے رہے سو حضورﷺ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے والے وہ خوش نصیب تھے جن کے ایمان کی خود اللّٰہ تعالیٰ نے تصدیق کی۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ مبارک خطاب اس وقت کے تمام مسلمانوں کے ایمان کی ایک آسمانی تصدیق ہے۔ سو ان کے ایمان میں کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔ سورہ حجرات کی مندرجہ بالا آیت میں ان گنواروں کے اعمال کی قبولیت کا بھی اشارہ ہے اور ظاہر ہے کہ یہ قبولیت انہی کو ملتی ہے جن کے اندر کسی پہلو سے کلمہ اسلام کا انکار نہ ہو۔

حضورﷺ کا عالمی غلبہ رسالت کس طرح پوری دنیا میں وسیع ہوتا رہا

صفحہ 1 از 8