حدیث عالمی غلبہ رسالت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث عالمی غلبہ رسالت

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 8

جس طرح اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللّٰہ عنہ کے فتح کردہ ممالک کو حضورﷺ کے عالمی غلبہ رسالت میں پھیلتے دکھایا وہاں وہ فتوحات جو حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ کی زیر کمانڈ مسلمانوں کو حاصل ہوئیں ان کو بھی اللّٰہ تعالیٰ نے حضورﷺ کے عالمی غلبہ رسالت میں پھیلتے ہی دکھایا ہے۔ کسے معلوم نہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ شام میں شاہانہ شان میں رہتے تھے۔دروازے پر دربان بھی ہوتا تھا ان میں حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کی سی سادگی نہ تھی اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ شام سے عیسائی سلطنت قریب تھی اور مدینہ سے وہ ایک لمبے فاصلہ پر تھی اور اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ شاہانہ شان کے امتی بھی حضورﷺ کو اپنے اس عالمی غلبہ رسالت کے سائے میں آگے بڑھتے دکھائے گئے۔

آپ ایک دفعہ حضرت عبادہ رضی اللّٰہ عنہ کی بیوی ام حرام رضی اللّٰہ عنہا کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے کہ آپ کی آنکھ لگ گئی، جب آپ کی آنکھ کھلی تو آپ پر ایک خوشی طاری تھی آپ سے ام حرام رضی اللّٰہ عنہا نے اس مسکراہٹ کی وجہ پوچھی تو آپﷺ نے فرمایا:

قال ناس من امتى عرضوا على غزاة في سبيل الله يركبون ثبج هذا البحر ملوكاً على الاسرة او مثل الملوك على الاسرة

(باب افضل الناس مو من مجاهد بنفسه وماله)

( صحیح بخاری جلد 1 ص 391)

ترجمہ:

میری امت کے کچھ لوگ مجھے خواب میں اللّٰہ کی راہ میں جہاد کرتے دکھائے گئے وہ اس سمندر میں کشتیوں میں بادشاہوں کی طرح بیٹھے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوں۔ اور باب غزوۃ المراۃ فی البحر میں ہے:

قال ناس من امتى يركبون البحر الاخضر في سبيل الله مثلهم مثل الملوك على الاسرة (جلد2، ص 403)

ترجمہ:

میری امت کے کچھ لوگ بحراخضر میں اللّٰہ کی راہ میں جہاد کرتے جا رہے ہیں۔ وہ ایسے لگتے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بادشاہوں کے طریقہ پر رہنے والے امتی بھی آپ کو اپنے اس عالمی غلبہ رسالت میں دکھائے گئے سو اس سے یہ حقیقت عالمی سطح پر عیاں ہے کہ حضوﷺ کو اپنی کامیاب رسالت کی خبر پہلے سے دے دی گئی تھی کہ آپ کی امت کی فتوحات سب آپ کے کھاتے میں ہی جائیں گی لشکر کتنے ہی کیوں نہ ہوں ان کی فتح بادشاہ کی فتح ہی شمار ہوتی ہے۔

حضور عالم کو اپنے مشن میں نا کام سمجھنے والے؟

یہ وہ نازک موضوع ہے کہ اس پر غور کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ اثنا عشری شیعوں نے حضورﷺ کے سفر آخرت کا جو نقشہ اپنے ہاں کھینچ رکھا ہے۔ وہ کھلے لفظوں میں یہ ہے کہ آپﷺ (معاذ اللہ ) دنیا میں اپنے مشن رسالت میں ناکام رہے۔ عام مسلمانوں نے اپنے حلقوں میں یہ باتیں شیعوں سے عام سنی ہوں گی۔ علامہ خمینی سے لے کر علامہ کلینی تک سب ایک ہی بحر ظلمات سے بولتے اور ذکر اہل بیت کرتے سنے جاتے ہیں مثلاً :

1_ حضورﷺ اپنے آخری دور علالت میں اپنے چچا حضرت عباس رضی اللّٰہ عنہ بن عبد المطلب کو اپنی مسجد میں امام بنانا چاہتے تھے مگر ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا نے آپ کی بات چلنے نہ دی اور اپنے باپ کو مسجد نبوی میں امام کھڑا کر دیا۔

2_ آپ نے اپنے بستر علالت پر وصیت لکھانے کے لیے کاغذ اور قلم مانگا مگر آپﷺ کی سوسائٹی پر حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کا اتنا عجب تھا کہ آپ کو کاغذ اور قلم نہ دیا گیا اور حضورﷺ نے بھی اس کے بعد باوجود یکہ کئی دن اپنے بستر پر رہے پھر کاغذ اور قلم کا کوئی سوال نہ کیا۔

3_ جب آپﷺ کی وفات ہوئی تو آپﷺ کے جسد اطہر کو آپ کے خاندان کے سپرد کر کے انصار صحابہ خلافت قائم کرنے لگ گئے (معاذ اللہ ) آپﷺ کے جنازہ تک کی پرواہ نہ کی گئی ۔ استغفر اللہ العظیم

4_ آپﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کے گھر جو لوگ بھی تعزیت کے لیے جمع ہوتے رہے تھے انہیں وہاں آنے سے سختی سے روک دیا گیا اور حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے انہیں آگ لگانے تک کی دھمکی دی۔ استغفر اللہ العظیم۔

5_ پھر حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا جب خلیفہ اول سے اپنے والد کی میراث لینے گئیں تو انہیں فدک کی زمین نہ دی گئی۔

6_ قرآن کریم میں حضورﷺ کو اپنے مشن میں چار ذمہ داریاں دی گئی تھیں ان میں ایک ذمہ داری صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کے دلوں پر تزکیہ کی محنت کی تھی۔ شیعہ نادان سمجھتے ہیں کہ آپﷺ اپنے دن رات ملنے والے صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کا تزکیہ بھی نہ کر پائے۔ انہیں قرآن پہنچانے کی ذمہ داری بھی صحیح ادا نہ کی جو قرآن جمع کیا گیا وہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے جمع کردہ قرآن سے مختلف ہے تو امت تک صحیح قرآن نہ پہنچا۔ کیا یہ عام امت کی اصل قرآن سے محرومی نہیں؟ یہ (معاذ اللہ ) حضورﷺ کی اپنے مشن میں ناکامی سمجھی جائے گی کہ آپ وہ کام نہ کر پائے جو آپ کے مقاصد بعثت تھے۔

شیعہ ذاکرین اور مجتہدین اپنی مختلف اداؤں سے حضورﷺ کو اپنے مشن میں ناکام بتلاتے ہیں لیکن اپنی بارہ سو سالہ تاریخ میں انہوں نے اپنے اس موقف کا بھی کھل کر اظہار نہیں کیا۔ وہ اپنے اس موقف کو ہمیشہ چھپا کر رکھتے ہیں۔ اس صورت عمل میں یہ ذمہ داری علمائے حق کی ہے کہ وہ حضور اکرمﷺ کی عالمی سطح کی کامیاب رسالت کو جتنا بھی ہو سکے۔ عامہ مسلمین کے سامنے لائیں اور انہیں سمجھائیں کہ شیعہ اثنا عشری صرف صحابہ واہل بیت کے خلاف نہیں وہ حضور اکرمﷺ کو بھی اپنے مشن میں نا کام سمجھتے ہیں۔

حضورﷺ کی عالمی سطح پر کامیاب رسالت

قرآن کریم کی کل 114 سورتیں ہیں ان میں آخری 114 نمبر کی سورت ہے۔ وہ یہ ہے: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِأَفْوَاجًا (30، النصر )

ترجمہ:

جب آئے اللّٰہ کی مدد اور مکہ فتح ہو جائے اور آپ لوگوں کو فوج در فوج اللّٰہ کے دین میں آتا دیکھیں تو اب آپ تسبیح و تحمید میں لگ جائیں۔

اس کا نام ہی سورہ نصر ہے اور یہ خدا کی طرف سے حضورﷺ کی رسالت کی آسمانی نصرت کا اظہار ہے۔ کیا یہ حضورﷺ کی اپنے مشن میں کامیابی پر مہر نہیں ہے؟ اس سے پہلے پ 26 میں بھی حضورﷺ کو فتح مبین کی خبر دی تھی۔ قرآن کریم کے ان دو حوالوں کی روشنی میں اثنا عشریوں کی یہ بات کیسے تسلیم کی جاسکتی ہے کہ حضورﷺ اپنے مشن میں (معاذ اللہ ) ناکام رہے۔

صفحہ 2 از 8