حدیث عالمی غلبہ رسالت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث عالمی غلبہ رسالت

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 8

سورہ نصر میں آپﷺ سے جو انہیں نصرت کا وعدہ کیا گیا یہ وہ نصرت نہیں جو آخرت میں ہو اس میں فوجی نصرت کا بیان ہے۔ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ انه أفواجا اور حضورﷺ کو صاف لفظوں میں کبر دیا گیا کہ اپنی اس کا میابی کو آپ انہی آنکھوں سے دیکھیں گے ۔ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ افواجا اور تو دیکھے گا لوگوں کو داخل ہوتے دین میں فوج در فوج۔

جب آپ کی رسالت اپنے اس نقطہ کامیابی پر پہنچے ۔ پھر آپ بیشک تسبیحات میں لگیں، اسباب کی دنیا میں آپ اپنے تمام معرکوں میں پورے کامیاب ہو چکے۔ لیکن روافض کا عقیدہ کہ آپﷺ اپنے مشن میں (معاذ اللہ ) ناکام رہے یہ عقید و قطعا صحیح نہیں۔

کر سکتی ہے بے معرکہ زندگی کی تلافی

اے پیر حرم تیری مناجات سحر کیا۔

رسالت محمدی کی آسمانی نصرت کا بار بار اظہار

اللّٰه تعالیٰ نے اولاد آدم کی ہدایت کے لیے نبوت اور رسالت کا نظام قائم کیا اور پیغمبر اپنے اپنے دور میں اس کی پیغام رسانی کرتے رہے جب سب پیغمبر ہو چکے تو مکہ میں آخری پیغمبر اپنی آفاقی شان سے جلوہ گر ہوا۔مکہ کی غار حرا میں حضرت جبریل علیہ السلام آپﷺ کے سامنے آۓ اور آپﷺ کے سینے میں عالم بالا کی تجلیات اتار دیں۔آپﷺ پہلے تو صرف مکہ اور اس کے مضفات میں اللّٰه تعالٰی کی پیغام رسانی کرتے رہے لیکن بعد میں آپﷺ کو پورے کرہ زمین کے پورے مشرق ومغرب میں آپﷺ کی رسالت کی پھیلتی چمک دکھا دی گئ یہ آپﷺ کو اللّٰه تعالٰی کی طرف سے آپﷺ کی آفاق نبوت کا اشارہ تھا۔ اپ حضورﷺ کے آخری غلبہ رسالت کی یہ حدیث پہلے پڑھ آئے تھے۔حضرت ثوبان رضی اللّٰه عنہ کہتے ہیں آپﷺ نے فرمایا۔

ترجمہ

اللّٰہ تعالٰی نے میرے لیے تمام روۓ زمین کو لپیٹ دیا۔میں نے اس کے تمام مشرقوں اور مغربوں کو تہ ہوا دیکھا اور فرمایا میری امت وہاں تک قبضہ زمین پائے گی جتنا مجھے اس میں دکھا دیا گیا۔

پھر اور مواقع پر بھی اللّٰه تعالٰی نے قران کریم میں آپﷺ کے اس بین الاقوامی غلبے کی اس طرح بشارت دی کہ یہ آخری پیغمبر تمام ادیان عالم اور نظریات حیات پر غالب آۓ گا ۔یہ آپﷺ کے عالمی غلبہ رسالت کی پہلی آسمانی شہادت ہے۔

ترجمہ

اس نے بھیجا اپنے رسول کو صداقت اور سچا دین دے کر تاکہ اسکو غلبہ دے ہر دین پر اور پڑے برا سمجھیں اسے اہل شرک فتح مکہ تک حضورﷺ کی دعوت اسلام توحید باری تعالٰی وحدت امت سے چمکتی رہی اور اسکا مرکز مدینہ منورہ کی سلطنت اسلامی تھی۔مدینہ منورہ میں اللّٰه تعالٰی نے مسلمانوں کو اپنی اسمانی نصرت کے بارہا جلوے دکھاے۔

ترجمہ

بیشک اللّٰه تعالٰی نے تمہاری مدد کی مقام بدر میں (فرشتے بھیج کر)اور تم اس وقت کمزور تھے ۔

اس جنگ میں مسلمانوں نے اللّٰه تعالیٰ کی نصرت کو فرشتوں کے اترنے میں دیکھا۔ وہ صحابہ اکرام جو ابھی مسلمان نہ ہوے تھے اور اللّٰه تعالی نے انہیں شان صحابیت سے نوازنا تھا اس دن مشرقین مکہ کے ساتھ بدر کی جنگ میں دکھائے ہی نہ گۓ۔اور مسلمان یہ جنگ جیت گۓ۔جنگ احد میں بھی جب مسلمان درہ چھوڑنے کی غلطی کر چکے تھے۔پھر مسمانوں نے اپنی شکست کو فتح میں بدلتے دیکھا۔پھر جنگ خندق میں حضورﷺ نے ایک سخت چٹان پر ضرب لگاتے بڑی بڑی سلطنتوں میں اپنی کامیاب رسالت کی چمک دیکھی ۔اور اسے کھلے طور پر بیان فرمایا۔اس پر مشرقین جس پراے پر مہاجرین پر آواز کستے تھے ان کے لکھنے سے قلم لرزتا تھا۔

پھر آپ پ کے اس غلبے کی خبر آپﷺ کو پارہ23صورتۀ لصف آیت 9، میں بھی دی گئ۔

یہ صحیح ہے کے پندرہ سو مسلمان جو مکہ سے باعزم عمرہ احرام باندھ کر نکلے تھے اور اس سال عمرہ نہ کر سکے تھے ۔یہ بظاہر مسلمانوں کی ایک مہم میں ناکامی تھی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان پندرہ سو صحابہ میں مہاجرین تقریباً چوتھائی تھے لیکن کیا مسلمانوں نے بغیر عمرہ کی کسی ایک مدنی کی پیشانی پر بل پڑا ہوا دیکھا۔فتح مکہ سے پہلے اللّٰه تعالیٰ نے مسلمانوں کو ,دو ایک اپنی آسمانی نصرت کے جلوے بھی دکھاے ایک اگلے سال صحابہ کا کعبہ میں داخل ہونا اور دوسرا جنگ خیبر جس میں اللّٰه تعالیٰ نے آپﷺ کو کھلے آسمانی جلوے سے نوازا۔ اور یہود مدینہ سے نکلنے میں ہی مجبور پائے گئے۔

اس وقت قیصر و کسریٰ کی دو بڑی سلطنتیں تھیں کسریٰ کا پایہ تخت ایران تھا اور قیصر کا شام حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے دور خلافت میں یہ دونوں ختم ہوئیں۔ کسریٰ کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہوا نہ قیصر کے بعد شام میں کوئی اس کا جانشین ہوا۔ ساتویں صدی کے محدث امام نووی رحمۃ اللّٰہ لکھتے ہیں:

و اما قيصر فأنهزم من الشام و دخل اقاصى بلاده فافتتح المسلمون بلاد هما و استقرت للمسلمين واللّٰه الحمد انفق المسلمون كنوز هما في سبيل اللّٰه كما اخبر صلى الله عليه وسلم وهذه معجزات ظاهرة ( شرح صحیح مسلم جلد 2، صفحہ 396)

ترجمہ:

رہا قیصر تو اس نے شام میں شکست کھائی اور اپنے دور کی کسی دور کی سرحد میں جا بسا اور مسلمانوں نے ان دونوں (کسریٰ اور قیصر ) کے خزانے اللّٰه کی راہ میں خرچ کیے جیسا کہ اس کی حضورﷺ نے پہلے سے خبر دی تھی تو یہ حضورﷺ کی آسمانی نصرت آپ کے معجزات میں ہے۔

وهذا الحديث فيه معجزات ظاهرة وقد وقعت كلها بحمد اللّٰه كما أخبر به صلى اللّٰه علیه وسلم

( شرح مسلم جلد 2، صفحہ 496)

پھر یہی نہیں۔ فتح مکہ کے بعد مسلمان حنین کی جنگ میں بری طرح گھر گئے تھے۔ پھر ان میں کون تھا جس کا عالی حوصلہ اس وقت بارہ ہزار مسلمانوں کو آسمانی نصرت کی بشارت دے رہا تھا ؟ یہ وہی تھا جو اس سے بہت پہلے مکہ میں مشرکین کی تینوں تجویزوں کو ناکام کر کے مکہ سے نکلنے میں پوری طرح کامیاب رہا تھا۔

مشرکین مکہ کی آپ پر قابو پانے کی تعین تجویزات

وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ

(پارہ9، الانفال: 30)

ترجمہ:

صفحہ 3 از 8