حدیث عالمی غلبہ رسالت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث عالمی غلبہ رسالت

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 8

اور جب فریب کرتے تھے کافر کہ تجھ کو قید میں ڈال دیں یا مار ڈالیں یا مکہ سے جلا وطن کر دیں اور وہ داؤ کر رہے تھے اور اللّٰه اپنا داؤ کر رہا تھا اور اللّٰه کا داؤ سب سے بہتر ہے۔ آپ ایک مکان میں تھے کہ مشرکین نے ایک رات اس مکان کو پوری طرح اپنے گھیرے میں لے لیا۔ اس رات حضرت علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ عنہ آپﷺ کے بستر میں فروکش تھے۔ اس لیے کہ وہ آپ کی بجائے شہید ہوں لیکن حضورﷺ اس طرح اللّٰه کی حفاظت میں ان کی آنکھوں میں خاک جھونکتے ہوئے اس مکان سے نکلے کہ وہ آپ کو دیکھ نہ پائے ۔ کیا یہ آپﷺ کی رسالت کی آسمانی نصرت نہ تھی ؟ پھر کیا کسی کو بھی پتہ چلا کہ آپﷺ اس وقت حضرت ابوبکر کے گھر چلے گئے ہیں؟ اور ان کی بیٹی حضرت اسماء ہیں آپ کے لیے توشہ دان باندھ رہی ہے اور آئندہ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ کی اس بیٹی کا تعارف اس رات حضورﷺ کے سفر ہجرت سے آفاقی شہرت پالے گا۔ اور انہیں اسماء رضی اللّٰہ عنہا ذات النطاقین کہا جایا کرے گا اور پھر آپﷺ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ کو ساتھ لیے رات کی تاریکی میں مکہ سے نکلنے میں پوری طرح کامیاب ہو گئے۔

پھر ذرا جنگ حنین کا بھی حل دیکھئے:

حضورﷺ کا بارہ ہزار کے اتنے بڑے ہجوم پر اتنا کنٹرول تھا کہ وہ سب آپ کے اشارہ چشم کے منتظر رہے اور جب وقت آتا انہیں اپنی جانیں دینے سے کبھی کوئی دریغ نہ ہوتا تھا اب جب یہ بارہ ہزار مقام حنین میں جمع تھے اور یہیں بنو ثقیف اور بنو ہوازن مسلمانوں پر حملہ کرنے والے تھے تو کچھ مسلمانوں کو اس دن اپنی بڑی تعداد سے دھوکہ ہو گیا کہ اب انہیں کسی طرح شکست نہ ہو سکے گی اللّٰه تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس گمان سے نکالنے کے لیے قرآن کریم میں یوم حنین کا اس طرح نقشہ کھینچا ہے:

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ الْجَبَتُكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَيْتُمْ مُدْبِرِينَ ثُمَّ انْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَانْزَلَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَفِرِينَ

( پارہ10، التوبہ 26)

ترجمہ:

اور بیشک اللّٰه مدد کر چکا ہے تمہاری بہت میدانوں میں اور حنین کے دن جب تمہیں تمہاری اپنی کثرت بہت اچھی لگ رہی تھی پھر وہ کچھ کام نہ آئی تمہارے۔ اور تنگ ہو گئی تم پر زمین باوجود اپنی فراخی کے پھر ہٹ گئے تم پیٹھ دے کر پھر اتاری اللّٰه نے اپنی طرف سے تسکین اپنے رسولﷺ پر اور ایمان والوں پر اور اتاری فوجیں کہ جن کو تم نے نہیں دیکھا اور عذاب دیا کافروں کو اور یہی سزا ہے منکروں کی۔

پچھلی آیت کے ربط سے شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمتہ اللّٰہ نے جنگ حنین کا اس طرح نقشہ کھینچا ہے:

حضورﷺ پر یہ غیر معمولی نصرت آسمانی کتنے وقت میں اتری؟ اور مکہ سے رات کی تنہائی میں نکلنے والا ایک یتیم کتنے وقت میں یہ عظیم انقلاب لے آیا؟ ہجرت پر ابھی پانچ سال بھی نہ گزرے تھے کہ آپﷺ تین جنگوں کے فاتح ہو کر چھٹے سال پندرہ سولہ سو مسلمانوں کے کہنے پر عمرہ کا احرام باندھے عازم مکہ ہوئے اور رستے میں کوئی طاقت انہیں مکہ کے قریب پہنچنے سے روک نہ سکی پھر مکہ بھی بغیر جنگ لڑے فتح ہو گیا اور جنگ خیبر میں بھی آپﷺ کی آسمانی نصرت اس شان سے جلوہ گر ہوئی کہ یہودیوں کو وہاں سے نہایت بے آبرو ہو کر نکلنا پڑا یہاں تک کہ آپﷺ کی رسالت خود ایک آسمانی نشان بن گئی۔

قارئین کرام! قرآن کریم میں خود اس آیت کو سورہ المائدہ 67 سے دیکھیں اس سے اوپر بھی تورات اور انجیل کا ذکر ہے اور اس کے بعد بھی انہیں کا ذکر ہے۔ سو یہ ضمانت آپ کو انہی سے بچانے کے لیے تھی۔ مسلمانوں کے کسی گروہ سے بچانے کے لیے نہیں نہ اس کا حدیث ولایت سے کوئی تحقیق ہے کہ آپ کے بعد آپ کا جانشین کون ہو؟

وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت حدی

عرب کی زمیں جس نے ساری بلند دی

مسلمانوں کی ان تمام مہمات اور عظیم لشکروں میں سب سے زیادہ با ہمت اور حوصلہ مند کون نظر آتا رہا ہے؟ وہی شخصیت کریمہ جس کو اللّٰه تعالیٰ نے مدتوں پہلے والله يَعْصِمُكَ مِنَ الناس کی ضمانت دے رکھی تھی کہ کافروں کے کے ناپاک ہاتھ کبھی آپ تک نہ پہنچ پائیں گے۔ ان سے ڈرنے کی آپ کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حضورﷺ کے مخالفین میں مشرکین مکہ مجوس ایران اور منکرین آخرت سب چھوٹی طاقتیں تھیں۔ ان میں سب سے زیادہ طاقتور اہل کتاب تھے۔ حضورﷺ کو ان سے بچائے رکھنے کے لیے آپﷺ کو قرآن پاک کی سورہ المائدہ آیت 27 میں يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلْعُ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَلَنَهُ يَعْصِبْتَ من الناس تک آپﷺ کو کامیاب پیغام رسانی کی بشارت دے دی گئی تھی ۔ ما انزل الیست میں پوری تئیس 23 سالہ وحی کا پہنچانا مراد ہے اس کا غدیر خم سے کسی طرح کا کوئی تعلق نہیں ۔ اس پس منظر میں ہم حالات کا کچھ اس طرح تجزیہ کرتے ہیں:

فتح مکہ میں حضورﷺ دس ہزار مسلمانوں کے ساتھ مکہ داخل ہوئے تھے انہیں اس طرح دیکھ کر مکہ والوں سے اور دو ہزار ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ ان کو طلقاء کہا جاتا ہے۔ اب یہ بارہ ہزار کا لشکر جرار تھا اور مکہ بغیر کسی جنگ کے فتح ہو گیا تھا اس میں مکہ کی بھی عزت و آبرو رہی اور ان بارہ ہزار مسلمانوں کے بھی ۔ کہ یہ حضور ﷺ کی آسمانی نصرت کا ایک روشن جلوہ نہ تھا کہ ایک یتیم رات کی تنہائی میں مکہ سے نکلنے والا کس طرح آٹھ سال کے قلیل عرصہ میں مکہ اور مدینہ کا تاجدار ہو گیا۔

اس عظیم آسمانی غلبے کے باوجود مکہ کے مہاجرین اپنے گھروں میں نہیں جا بیٹھے وہ حضورﷺ کا ہی لشکر تھا اور وہ آپﷺ کے ہی حکم کے منتظر کے منتظر تھے آپﷺ نے ان سب کو طائف کی طرف نکلنے کا اشارہ کیا۔

فتح مکہ قریش مکہ کی ہی شکست سمجھی گئی اور اب پورا عرب اٹھا ثقیف اور ہوازن کے تیر انداز پورے عرب میں تیر اندازی میں نام رکھتے تھے۔انہوں نے مسلمانوں کو للکارا ۔ حافظ ابن کثیر اپنے تفسیر یر میں لکھتے ہیں:

صفحہ 4 از 8