حدیث عالمی غلبہ رسالت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث عالمی غلبہ رسالت

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 5 از 8

ایک روایت میں ہے کہ جب بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے ملنے والے یہودیوں سے کہا کہ یہی تمہاری درگت ہو اس سے پہلے ہی تم اس دین برحق کو قبول کر لو تو انہوں نے جواب دیا: چند قریشیوں پر جو لڑائی کے فنون میں بے بہرہ ہیں۔ فتح مندی حاصل کر کے کہیں تم مغرور نہ ہو جانا ہم سے اگر پالا پڑا تو ہم تمہیں معلوم کرا دیں گے کہ لڑائی کسے کہتے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر اردو پارہ چھٹا صفحہ 111)

یہی ثقیف اور ہوازن نے جو فتح مکہ کا بدلہ لینے کے لیے پورے عرب کو مسلمانوں کے خلاف ابھار کر میدان میں لے آئے تھے۔ حضورﷺ نے اس حکمت سے اپنے ساتھ کے دس ہزار مسلمانوں کو جو اب بارہ ہزار ہو گئے تھے واپس اپنے گھروں میں جانے کا نہ کہا تھا۔ یہ سیاست آپ نے کسی جنگجو قوم سے نہ سیکھی تھی یہ سب تدبیریں اور راہیں آپ کو اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے سمجھا دی جاتیں اور انہی سے آپ کا آسمانی غلبہ قائم ہوا اور یہ اس آسمانی غلبے کا حصہ تھا کہ آپ کے سیاسی جانشین اس ایک عالمی غلبہ میں دنیا کے مشارق و مغارب تک پہنچے۔

رسالت محمدی کی تئیس 23سالہ کامیاب تبلیغ

حجۃ الوداع میں تاریخی اظہار اسلام

آنحضرتﷺ نے اپنی مدنی زندگی میں ایک ہی حج کیا اور ایک حج ہی بشرط استطاعت امت پر فرض بتلایا تاکہ امت پر کسی سنت حج کی مشقت نہ آئے۔ مسلمانوں پر ایک سال پہلے سے حج کے دروازے کھل چکے تھے لیکن آپ نے اس حج کے لیے حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ کو مسلمانوں کا امیر بنایا اور خود اگلے سال حجتہ الوداع پر تشریف لائے اور اپنی 23 سالہ ذمہ داری پوری کرنے کا اپنی امت سے اس طرح اقرار لیا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اسدن خطبہ دیا:

الا ان الله حرم علیکم دمائكم وأموالكم كحرمة يومكم هذا فى بلدكم هذا في شهركم هذا الاهل بلغت؟ قالوا نعم قال اللهم۲۳ اشهد اللهم اشهد (ثلثاً) ويلكم او ويحكم. انظروا لا ترجعوا بعدى كفاراً يضرب بعضكم رقاب بعض (صحیح بخاری جلد 2، ص632)

صحیح بخاری کی ایک روایت میں فان دمائكم واموالكم واعراضكم عليكم حرام بھی مروی ہے۔ دیکھئے کتاب الحج باب الخطبة ايام المنی جلد 1، ص234)

ترجمہ:

حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے اس دن خطبہ دیا اور فرمایا: اچھی طرح سن لو کہ تمہارے خون اور تمہارے اموال اسی طرح تمہارے لیے لائق احترام ہیں جیسا کہ یہ عرفات کا دن تمہارے اس شہر میں اور اس مہینہ میں لائق حرمت ہے۔ کیا میں نے یہ بات ( تم تک ) پہنچا دی؟ سب نے اقرار کیا ہاں آپ نے (اللہ کی طرف دھیان کر کے ) فرمایا اے اللّٰہ تو اس پر گواہ رہ۔ ایسا تین دفعہ ہوا پھر آپ نے کہا افسوس تم پر ۔ یا ہائے تم پر ۔ دھیان رکھنا میرے بعد پھر کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں توڑنے لگو۔

حضرت ابوبکرہ کی روایت میں امام بخاری رحمتہ اللّٰہ لکھتے ہیں کہ آپﷺ نے دماء کم جمة القد واموالکم کے ساتھ واعراضکم کے الفاظ بھی کہے اور یہ بھی فرمایا تھا:

وستلقون ربكم فسيألكم عن اعمالكم الا فلا ترجعوا بعدى ضلالاً يضرب بعضكم رقاب بعض الا ليبلغ الشاهد الغائب فلعل بعض من يبلغه ان يكون اوعى له من بعض من سمعه ..... ثم قال هل بلغت هل بلغت(صحیح بخاری جلد 2 ص 833)

ترجمہ:

تم اپنے رب سے ملو گے وہ تم سے تمہارے اعمال کا پوچھے گا۔ دھیان رکھنا میرے بعد میرا رستہ نہ بھول جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں توڑنے لگو۔ دھیان کرو جو یہاں موجود ہیں وہ اس تک یہ بات پہنچائیں جو یہاں نہیں آیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسا ہو جس کو یہ حاضر پہنچا رہا ہے اس سے زیادہ جاننے والا اس یقین سے جس نے اسے سنا۔

اور آخر میں آپ نے دو دفعہ پوچھا کیا میں نے بات پہنچا دی؟ کیا میں نے بات پہنچا دی۔ صحیح مسلم میں آپ کا یہ بین الاقوامی خطاب اور بھی زیادہ واضح پیرائے میں ملتا ہے آپ نے فرمایا:

(مخطب الناس وقال ان دماء كم واموالكم حرام عليكم كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا فى بلدكم هذا الا كل شئى من امر الجاهلية تحت قدمی موضوع ودماء الجاهلية موضوعة .... وقد تركت فيكم مالن تضلوا بعده ان اعتصمتم به كتاب الله وأنتم تسألون عنى فما انتم قائلون قالوا نشهد انك قد بلغت و ادیت و نصحت فقال بأصبعه السبابة يرفعها الى السماء وينكتها الى الناس اللهم اشهد اللهم اشهد

(ثلث مرات) ( صحیح مسلم جلد 1 ، ص 397)

ترجمہ:

اور آپ نے لوگوں میں خطبہ دیا اور کہا بیشک تمہارے خون تمہارے اموال تم پر اسی طرح لائق احترام ہیں۔ جس طرح یہ آج کا دن (عرفات کا دن ) تمہارے لیے لائق احترام ہے۔ اس ماہ ذواج میں تمہارے اس شہر میں۔ خبردار رہو کہ دور جاہلیت کی ہر چیز میرے ان قدموں کے نیچے دب چکی اور جاہلیت کے تمام خون بھی اپنی جگہ ختم ٹھہر ے۔ اور میں تم میں وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ تم اگر اسے تھامے رہو تو تم کبھی گمراہ نہ ہو گے وہ کتاب اللّٰہ ہے اور تم سے میرے بارے میں سوال ہو گا سو تم کیا کہو گے؟ حاضرین نے کہا ہم شہادت دیں گے کہ آپ نے اپنی رسالت ہم تک پہنچا دی اسے ادا فرمایا اور ہماری خیر خواہی کی آپ نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور لوگوں کی طرف رخ کر کے کہا اے اللّٰہ تو گواہ رہ، اے اللّٰہ تو گواہ رہ، آپ نے ایسا تین دفعہ کہا۔ ان بیانات سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ آپ یہ اقرار اپنی تئیس سالہ تبلیغ رسالت پر لے رہے ہیں کہ اللّٰہ رب العزت نے جو ذمہ داری آپ پر ڈالی تھی۔ آپ نے اسے پورا کیا اور اللّٰہ کی یہ امانت مسلمانوں تک پہنچ گئی پھر یہ بات اس پر اور مہر تصدیق ثبت کرتی ہے۔ کہ آیت تکمیل دین بھی اسی دن میدان عرفات میں اتر۔

الْيَوْمَ المَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دینا

( پارہ 6 ، المائده 3)

ترجمہ:

آج میں نے پورا کر دیا تمہارے لیے دین تمہارا اور پوری کی تم پر میں نے اپنی نعمت اور پسند کیا میں نے تمہارے لیے اسلام کو دین۔

صفحہ 5 از 8