حدیث عالمی غلبہ رسالت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث عالمی غلبہ رسالت

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 6 از 8

اب اس پس منظر کی روشنی میں کوئی صاحب علم کہہ سکتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے دین اسلام کو محبت الوداع میں نہیں 18 ذوالحجہ کو بمقام غدیر خم مکمل فرمایا تھا؟ ہر گز نہیں! حجتہ الوداع کے بعد آپﷺ 81 دن اپنی دنیوی زندگی میں رہے اور پھر ربیع الاول میں آپ نے سفر آخرت اختیار فرمایا۔ حجتہ الوداع کے بعد آپ پر جو وحی بھی آئی وہ انتظامی اور اخلاقی امورکی ہی رہی اسلام کے اصول و عقائد سب آیت تکمیل دین سے پہلے حضورﷺ کی امت کو مل چکے تھے۔

حجتہ الوداع کے بعد کسی یہودی سے یہ بات سنی گئی کہ اگر آیت تکمیل دین کی طرح کوئی آیت ہم

میں آتی تو ہم اس دن کو اپنی عید کا دن ٹھہراتے حضرت عمر علی رضی اللّٰہ عنہ نے جواباً کہا:

اني لأعلم أى مكان انزلت.... انزلت و رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم واقف بعرفة

( صحیح بخاری جلد 2، ص 634)

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ نے کہا جب یہ آیت اتری تو ہماری دو عیدیں تھیں ۔ ایک یوم جمعہ اور ایک یوم عرفہ ۔ سو اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ آنحضرتﷺ کا خطبہ حجتہ الوداع آپﷺ کے پورے تیس سالہ دور وحی کی کامیاب تبلیغ کا اظہار تھا صرف ایک دو جزئیات کے ملنے ملانے کی تصدیق نہ تھا دو دو تین تین دفعہ بات دہرا کر اپنی پوری تبلیغ رسالت کا اقرار لیا جا رہا تھا کوئی اصولی اور اعتقادی بات ایسی نہ تھی جو اس دن آیت تکمیل دین سے خارج رہی ہو امور شریعت سب طے پا چکے تھے۔ اس کے بعد آپﷺ نے صرف انتظامی امور سیاسی نصائح اور مکارم اخلاق اور آسمانی بشارات تو بیان فرمائیں لیکن اصول دین اور شرع متین میں کسی بات کا اضافہ نہ فرمایا اثنا عشریوں کا یہ عقیدہ صحیح نہیں کہ تکمیل دین 9 ذوالحجہ کو نہ ہوئی تھی۔ 18 زواحجہ کو ہوئی جب آپﷺ مدینہ کی طرف واپس لوٹے تو رستے میں غدیر خم کے پاس قیام فرمایا اور حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی خلافت کا اعلان فرمایا۔ یہ ہرگز درست نہیں۔

انہوں نے یہ عقیدہ کس لیے بنایا صرف اس لیے کہ 18 ذوالحجہ کے اس ارشاد سے کہ میں جس کا دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے جس کی اس سے محبت نہیں اس کی مجھ سے محبت نہیں اس روایت سے چونکہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی خلافت بلا فصل ثابت نہ ہوئی تھی اس لیے انہوں نے عقیدہ اختیار کیا کہ دین کی تکمیل 9 ذوالحجہ کو نہیں 18 ذوالحجہ کو مقام غدیر خم ہوئی تھی حالانکہ اہل سنت کتابوں کی رو سے یہ مقام غدیر خم کسی آیت نزول نہیں ہوا۔

جب آپ پر آیت تبلیغ دین اتری تو یہ وہ موقع تھا جس میں آپ کے پورے تئیس سالہ دور وحی کے کامیاب ہونے کی خبر دی گئی۔ اور آپ کو اس بات کی ضمانت دی گئی تھی کہ اللّٰہ تعالٰی آپ کے مخالفین کے ہر حیلہ و حجت سے پوری طرح آپ کو اپنی پوری حفاظت میں رکھیں گے۔

آپ اس آیت کو پھر سے مطالعہ فرمائیں کیا اسے کسی بھی صورت میں آیت تکمیل دین الیوم اکملت لکم دینکم کے بعد اتری آیت سمجھا جاسکتا ہے؟ اور الیوم ( آج) کے لفظ کی وجہ سے اسے دو بار اتری قرار دیا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں اللّٰہ تعالیٰ نے آیت تبلیغ رسالت میں آپ پر اس طرح اپنی حجت تمام کی کہ اب آپ کے مخالفین کی کوئی بات آپ کے خلاف نہ چلے گی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے ہر حیلہ و حجت سے بچانے کی ضمانت دے دی ہے:

يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ

(پارہ 6 ، المائده 67)

ترجمہ:

اے رسول پہنچا دے جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے اور اگر ایسا نہ کیا تو تو نے کچھ نہ پہنچایا اس کا (اس کی کوئی وحی نہ پہنچائی) اور اللّٰہ تجھ کو بچائے گا لوگوں سے بیشک اللّٰہ راستہ نہیں دکھاتا قوم کفار کو ۔ اس آیت میں یہ تین صورتیں سامنے رہیں اس آیت پر شیخ الاسلام رحمہ اللّٰہ علیہ نے یہ نفیس حاشیہ لکھا ہے:

آپﷺ کی تمام تر کوششوں اور قربانیوں کا مقصد وحید ہی یہ تھا کہ آپﷺ خدا کے سامنے فرض رسالت کی انجام دہی میں اعلیٰ سے اعلیٰ کامیابی حاصل کریں لہذا یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں کہ کسی ایک پیغام کے پہنچانے میں بھی آپ ذرا سی کوتاہی کریں۔

عموماً یہ تجربہ ہوا ہے کہ فریضہ تبلیغ ادا کرنے میں انسان چند وجوہ سے مقصر رہتا ہے۔

1_ یا تو اسے اپنے فرض کی اہمیت کا کافی احساس اور شغف نہ ہو۔

2_ یا لوگوں کی عام مخالفت سے نقصان شدید پہنچنے یا کم از کم بعض فوائد کے فوت ہونے کا خوف ہو۔

3_ یا مخاطبین کے عام تمر دو طغیان کو دیکھتے ہوئے جیسا کہ پچھلی اور اگلی آیات میں اہل کتاب کی نسبت بتلایا گیا ہے کہ تبلیغ کے مشمر اور منتج ہونے سے مایوسی ہو۔

پہلی وجہ کا جواب يا أيها الرسول سے فما بلغت رسالته تک دوسرى كا والله يعصمك من الناس میں اور تیسری کا ان الله لا يهدى القوم الکافرین دے دیا گیا۔ یعنی تم اپنا فرض ادا کیے جاؤ اللّٰہ تعالیٰ آپ کی جان اور عزت و آبرو کی حفاظت فرمانے والا ہے وہ تمام روئے زمین کے دشمنوں کو بھی آپ کے مقابلہ پر کامیابی کی راہ نہ دکھلائے گا باقی ہدایت و ضلالت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ ایسی قوم جس نے کفر و انکار پر ہی کمر باندھ لی ہے اگر راہ راست پر نہ آئی تو تم غم نہ کرو اور نہ مایوس ہو کر اپنے فرض کو چھوڑو ۔ نبی کریمﷺ نے اس ہدایت ربانی اور آئین آسمانی کے موافق امت کو ہر چھوٹی بڑی چیز کی تبلیغ کی۔ نوع انسانی کے عوام و خواص میں جو بات جس طبقہ کے لائق اور جس کی استعداد کے مطابق تھی۔ آپ نے بلا کم و کاست اور بے خوف و خطر پہنچا کر خدا کی حجت بندوں پر تمام کر دی ۔ (ص 158طبع سعودی عرب)

اس کے بعد آپﷺ لکھتے ہیں جس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ یہ آیت حجتہ الوداع سے پہلے کسی وقت نازل ہوئی تھی۔ حج سے واپسی پر بمقام غدیر خم نہیں۔ غدیر خم میں کوئی آیت نہیں اتری۔ آپ لکھتے ہیں:

وفات سے دو ڈھائی مہینہ پہلے حجتہ الوداع کے موقعہ پر جہاں چالیس ہزار سے زائد خادمان اسلام اور عاشقان تبلیغ کا اجتماع تھا آپ نے علی رؤس الا شہاد اعلان فرما دیا کہ:

اے خدا تو گواہ رہ میں تیری امانت پہنچا چکا

صفحہ 6 از 8