حدیث عالمی غلبہ رسالت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث عالمی غلبہ رسالت

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 7 از 8

اس آیت تبلیغ (بلغ ما انزل اليك) کے سیاق و سباق میں اہل کتاب کا ہی ذکر ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ آیت بنیادی طور پر مسلمانوں کے تخاطب میں نہیں۔ اہل کتاب کے تخاطب میں ہے اور وہی حضورﷺ کے خلاف سب سے بڑی طاقت تھے۔ اس وقت مشرکین اور مجوسی اور دہریہ کوئی بڑی طاقت نہ رہے تھے۔ اس سلسلہ آیات میں شیعہ کے اس دعویٰ میں کوئی جان نہیں کہ یہ آیت تبلیغ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی خلافت قائم کرنے کے لیے تھی۔

ان 23 سالہ مختلف مراحل وحی میں حضورﷺ کا اس طرح ان کے مکر سے نکل جانا اور مدینہ میں آپ کا جس عقیدت اور گرمجوشی سے استقبال کیا گیا وہ عبدالمطلب کے اس یتیم پوتے کی آسمانی نصرت کا ایک ایسا ڈنکا تھا کہ اس کے پیچھے کسی دنیوی سبب اور حیلے کا کوئی تصور تک نہیں کیا جا سکتا پہلے پیغمبروں میں سے کسی کے ساتھ اس حیرت ناک پیرائے میں سچائی کے پھول کھلتے نہیں دیکھے گئے یہ ایک قیامت تک رہنے والی نبوت کی شان تھی جس سے اس دور وحی کا آغاز ہوا۔ یہ سب حالات کو آپ سے پردے میں تھے لیکن اس دوران آپ کبھی کسی پریشانی میں نہیں دیکھے گئے غار میں حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ تو بہت پریشان اور فکر مند تھے لیکن آپ کا دست شفقت اس یقین و الفت سے آپ کو تھپکی دے رہا تھا کہ گویا آپ کے سامنے آپ کی رسالت کا مستقبل ایک کھلی کتاب کی طرح روشن ہے اور آپ کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی اس یقین سے نہیں نکلے کہ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو اپنی رسالت کے ساتھ سب ادیان و نظریات پر غالب کریں گے اور یہ پیشگوئی لیظهره علی الدین کلہ ہر صورت میں آپ پر پوری ہو کر رہے گی۔

یہ وہم نہ کیا جائے کہ حضورﷺ آخر میں اپنے اس موضوع میں ناکام ہو گئے تھے جیسا کہ ایرانی سربراہ خمینی نے گمان کیا ہے کیونکہ اس آیت سے پہلی آیت جس میں اللّٰہ تعالیٰ نے خود آپکے اس مشن (اظہارِ رسالت) کو کامیاب کرنے کا بڑے زور دار لفظوں میں اعلان کیا ہوا ہے:

يُرِيدُونَ أَنْ تُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الكَفِرُونَ (پارہ 28، الصف 8)

ترجمہ:

( بے انصاف) لوگ چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللّٰہ کی روشنی اپنی افواہوں سے اور اللّٹ کو پوری کرنی ہے اپنی روشنی اور پڑے برا مانیں منکر ۔

اس پر حضرت شیخ الاسلام رحمہ اللّٰہ علیہ لکھتے ہیں:

یعنی منکر پڑے برا مانا کریں اللّٰہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا۔ مشیت الٰہی کے خلاف کوئی کوشش کرنا ایسا ہے جیسے کوئی احمق نور آفتاب کو منہ سے پھونک مار کر بجھانا چاہے۔ یہی حال محمدﷺ کے مخالفوں کا اور ان کی کوششوں کا ہے۔شاید بافواھھم کے لفظ سے یہاں اس طرف بھی اشارہ کرنا ہو کہ بشارات کے انکار و اخفاء کے لئے جو جھوٹی باتیں بناتے ہیں وہ کامیاب ہونے والی نہیں۔ ہزار کوشش کریں کہ فارقلیط آپ نہیں ہیں لیکن اللہ منوا کر چھوڑے گا کہ اس کا مصداق آپ کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا ۔ ( تفسیر عثمانی ص 732 طبع سعودی عرب) اس کا حاصل یہی ہے کہ آپ کی تئیس سالہ کامیاب تبلیغ میں کسی شک کو کوئی راہ نہیں دی سکتی۔ مکہ سے نکلنے سے پہلے آپ کو اپنے پھر مکہ آنے کا اس قدر یقین تھا کہ اللّٰہ کے حضور دعا کرتے آپ کی زبان مبارک سے پھر سے مکہ آنے کے الفاظ پہلے نکلے اور نکلنے کے الفاظ بعد میں صادر ہوئے۔ اس یقین سے دعا کرنے کے الفاظ اللّٰہ رب العزت ہی نے آپ کے منہ میں ڈالے۔

وَقُلْ رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِن لَّدُنْكَ سُلْطنًا نَّصِيرًا

(پارہ 25 بنی اسرائیل 80)

ترجمہ:

اور کہہ اے رب داخل کر مجھے کو سچا داخل کرنا ( کہ ساتھ صدق ہو) اور نکال مجھ کو سپا نکال ( کہ پھر ساتھ صدق ہو ) اور عطا کر دے مجھ کو اپنے پاس سے حکومت کا والی مدد۔

تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ جب آپ مکہ سے نکلے تو بھی صدیق ساتھ تھے اور جب فتح پا کر مکہ آئے تو بھی صدیق ساتھ تھے۔

قرآن کریم کا آخر کا بیان بھی اس بین الاقوامی غلبے کا ضامن رہا:

قرآن کریم کی کل 114 سورتیں ہیں آخری سورت 114 یہ ہے کہ لوگ فوج در فوج دائرہ اسلام میں آئیں تو آپ جان لیں کہ آپ کا سفر آخرت آپہنچا:

لإِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا

ترجمہ:

جب پہنچ چکے مد اللّٰہ کی اور فتح اور تو دیکھے لوگوں کو فوج در فوج دین میں داخل ہوتے تو پاکی بول اپنے رب کی اور اس سے استغفار کر بیشک وہ معاف کرنے والا ہے۔

اس میں بھی آپ کو بتلایا گیا کہ آپ کا دین سب ادیان و نظریات پر غالب آنے والا ہے اور لوگ ہر طرف سے فوج در فوج اسلام میں آجائیں گے۔

سورۃ توبہ اور سورۃ الفتح کے بعد یہ اسلام کے بین الاقوامی غلبے کی تیسری بشارت ہے۔ علمی اور فکری غلبہ تو رسالت محمدی کو نزول قرآن کے ساتھ ہی مل گیا تھا اور حقیقی اور عملی غلبہ میں بھی اس دین کو اس وقت مل جائے گا۔ جب حضرت عیسیٰ بن مریم شریعت محمدی کی پیروی اور اس کی عالمی اشاعت کے لیے کھلے طور پر نزول فرمائیں گے۔ جہاد کریں گے اور دجال اکبر قتل ہوگا۔ اس پر اللّٰہ کی اپنی گواہی کافی ہے۔ وکفی بالله شهیداً (پارہ26، الفتح 28)

اس پر ہم حدیث عالمی غلبہ رسالت کا موضوع ختم کرتے ہیں اور اپنے قارئین کو بھی اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ حدیث ولایت کے گذشتہ موضوع میں ہم نے جو اس حدیث کی روایتی حیثیت پر کلام کیا ہے۔

اس پر ایک دفعہ پھر نظر کر لیں۔

ایک ضروری نوٹ:

صفحہ 7 از 8