حدیث عالمی غلبہ رسالت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث عالمی غلبہ رسالت

  علامہ ڈاکٹر خالد محمود رحمہ اللہ

صفحہ 8 از 8

اہل سنت اور شیعہ میں اب تک جو احادیث عام زیر بحث رہی ہیں۔ ان میں حدیث عالمی غلب رسالت آپ نے کہیں دیکھی نہ ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پہلی زیر بحث احادیث میں تو شیعہ علماء کو کسی نہ کسی راہ سے بحث کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ گو انہیں اس کا جواب بھی پورا مل جاتا ہے لیکن عالمی غلبہ رسالت کی حدیث گو شیعہ علماء پر ایک نہایت سنگ گراں ہے گو وہ اس کے انکار پر سر عام آنے کی بھی کبھی ہمت اور جرات نہیں رکھتے۔ ہم اہل سنت حدیث عالمی غلبہ رسالت کو اپنے لیے وہ بقعہ نور سچ کا ظہور اور دل کا سرور سجھتے ہیں کہ اب تک اس کے سہارے پورے عالم اسلام خصوصاً حرمین شریفین میں ہم ہی اسلام کی سب سے بڑی قوت سمجھے جاتے ہیں یہاں تک کہ شیعہ علاء بھی جب کبھی اہل سنت کی بات کرتے ہیں تو انہیں اپنا بڑا بھائی کہہ کر ان کا ذکر کرتے ہیں۔

اس صورت حال میں راقم الحروف نے دوازدہ احادیث کی اس علمی دستاویز میں اس حدیث کو درمیان میں رکھا ہے۔ یہ حدیث اس پورے عہد میں ہار کے درمیانے موتی کی سی ہے جس کی جتنی بھی قدر اور

شہرت کی جائے کم ہے۔ اس عالمی غلبہ رسالت کی تائید میں اللّٰہ تعالیٰ نے حضور اکرمﷺ کو ایک خواب دکھایا اور ظاہر ہے کہ انبیاء کا خواب بھی وحی ہوتا ہے اور نیند کی حالت میں ان کا دل جاگتا اور وہ اپنے قریب ہوئی باتوں کو سنتے ہیں ۔ حضورﷺ کا وہ خواب کیا تھا اسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کی روایت سے صحیح بخاری میں دیکھیں ۔ آپﷺ نے فرمایا:

بينما أنا قائم رأيتني أتيت بمفاتيح خزائن الارض فوضعت فى يدى( صحیح بخاری ج 2، ص1080)

ترجمہ

میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو نیند کی حالت میں دیکھا کہ مجھے پوری دنیا کے خزائن کی چابیاں دی گئی ہیں اور میں نے انہیں اپنے دونوں ہاتھوں میں محسوس پایا۔

اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ آپ مالی یکم نیند کی حالت میں بھی اپنے قریب ہونے والی باتوں کو سنتے ہیں اور یہ بات کتنی غلط ہوگی کہ آپ اپنے روضہ انور کے پاس عرض کئے گئے درود و سلام کو نہ سن سکیں۔ یہ حدیث صحیح بخاری کی ہے اور اس میں کوئی راوی مجروح نہیں۔ حضور علی ایام کو یہ عالمی غلیل کر رہے گا اور حضورﷺ کو بتلایا گیا کہ آپ لوگوں کو جوق در جوق اللّٰہ کے دین میں فوجی پیرائے میں (عالمی غلبہ میں ) داخل ہوتا پائیں گے:

وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا

جب آپ یہ صورت حال دیکھ پائیں تو سمجھ لیں کہ آپ کا آخری وقت آن لگا ہے اور اب تسبیح و تحمید میں لگ جائیں۔ اس سے زیادہ آپﷺ کے عالمی غلبہ رسالت کی بشارت اور کیا ہو سکتی ہے۔ اللّٰہ کا فیصلہ ہے کہ اس کے رسول غالب آکر رہتے ہیں:

كتب الله لا غُلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ

ترجمہ:

اللّٰہ لکھ چکا کہ میں غالب ہوں گا اور میرے رسول، بے شک اللّٰہ زور آور ہے زبر دست - (پ 28، المجادله 21)

اس پر ہم عالمی غلبہ رسالت کی بحث ختم کرتے ہیں۔

یتقبل الله منا ومنكم


صفحہ 8 از 8