Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ایک مجاہد جس نے اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کیا

  علی محمد الصلابی

شام سے مجاہدین کی ایک جماعت آئی، وہ یمن جا رہی تھی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ پلیٹیں تھیں کہ صبح کی نماز پڑھتے تو انہیں دستر خوان پر لگا دیتے، حسبِ عادت آپؓ نے دستر خوان لگایا اتنے میں مجاہدین میں سے ایک شخص آیا اور بیٹھ کر کھانے لگا، وہ بائیں ہاتھ سے کھا رہا تھا، سیدنا عمرؓ کھانے کے وقت لوگوں پر نگاہ رکھتے تھے، آپؓ نے اسے دیکھ کر فرمایا: داہنے ہاتھ سے کھاؤ لیکن اس نے بات نہ مانی۔ آپؓ نے اس سے دوبارہ کہا، تو اس نے کہا: اے امیر المؤمنین میرا ہاتھ مشغول ہے۔ جب وہ شخص کھانے سے فارغ ہوا تو آپؓ نے اسے بلایا اور کہا: تمہارے داہنے ہاتھ کو کیا مشغولیت تھی، اس نے اپنا ہاتھ نکالا، وہ ہاتھ کٹا ہوا تھا۔ آپؓ نے پوچھا: یہ کیا؟ اس نے کہا: جنگِ یرموک کے موقع پر میرا ہاتھ شہید ہو گیا تھا۔ آپؓ نے پوچھا: پھر تمہیں وضو کون کراتا ہے۔ اس نے کہا: میں اپنے بائیں ہاتھ سے وضو کر لیتا ہوں اور اللہ میرا ساتھ دیتا ہے۔ آپؓ نے پوچھا: کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہو؟ اس نے کہا: یمن، اپنی ماں کے دیدار کے لیے جا رہا ہوں۔ میں نے ان کو ایک زمانے سے نہیں دیکھا ہے ان کے ساتھ حسن سلوک اور نیکیاں کر لوں۔ آپؓ نے اسے ایک خادم اور صدقہ کے پانچ اونٹ دینے کا حکم دیا، اور اس کے ساتھ انہیں روانہ کر دیا۔ 

(الشیخان أبوبکر و عمر رضی اللّٰه عنہما: بروایت بلاذری: صفحہ 174، 175)