Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فاروقی تمنا

  علی محمد الصلابی

ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: آپ لوگ اپنی اپنی تمنا بیان کیجیے۔ کسی نے کہا: میری تمنا ہے کہ اگر یہ گھر سونے سے بھرا ہوتا تو میں اسے اللہ کے راستہ میں صدقہ کر دیتا۔ ایک نے کہا: اگر یہ گھر ہیرے جواہرات سے بھرا ہوتا تو میں اسے اللہ کے راستے میں صدقہ کر دیتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اور بھی تمنا کرو۔ انہوں نے کہا: ہم اور کیا تمنا کریں، ہم نہیں جانتے۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: میری آرزو اور تمنا یہ ہے کہ یہ گھر ابو عبیدہ بن جراح، معاذ بن جبل، ابو حذیفہ کے غلام سالم، اور حذیفہ بن یمان رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے لوگوں سے بھر جاتا (مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 266۔ امام ذہبیؒ نے اس کی تصحیح کی ہے۔ أصحاب الرسول صلی اللّٰه علیہ وسلم: جلد 1 صفحہ 174) اور میں انہیں اللہ کی راہ میں استعمال کرتا۔ 

(تہذیب الکمال: المزی: جلد 5 صفحہ 505، حذیفۃ بن یمان، إبراہیم محمد العلی: صفحہ 862)

یہ لوگ آپؓ کے اسلامی بھائی تھے، حضرت عمر فاروقؓ نے سچے دوستوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا: راست گو بھائیوں کی صحبت اختیار کرو اور ان کے زیرِ سایہ زندگی گزارو، وہ لوگ خوش حالی میں سامان، زینت، اور مصیبت کے وقت زادِ راہ ہیں اور اپنے بھائی کے معاملے کو بحسن و خوبی نمٹاؤ، تاکہ اس سے تمہیں کوئی پریشانی نہ لاحق ہو۔ اپنے دشمن سے دور رہو۔ اور اپنے دوستوں سے ہوشیار رہو مگر یہ کہ وہ امین ہو اور امین وہی ہو سکتا ہے جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو فاجر کی صحبت نہ اختیار کرو کہ اس کے فجور کو تم بھی سیکھ لو، نہ اسے اپنے بھید سے خبردار کرو، اور اپنے معاملہ میں اس آدمی سے مشورہ لو جو اللہ سے ڈرتا ہو۔ 

(مختصر منہاج القاصدین: صفحہ 100، فرائد الکلام: صفحہ 139 )

سیدنا عمرؓ ایک مرتبہ اپنے کسی اسلامی بھائی کو رات کے وقت اس طرح یاد کر رہے تھے: ہائے رات کی لمبائی، تو کب ختم ہوگی جب صبح کی نماز پڑھی تو ان کے پاس گئے، اور ملاقات ہوئی تو ان سے چمٹ گئے اور گلے لگا لیا۔ 

(أخبار عمر: صفحہ 321 )

آپؓ کہتے تھے: اگر میں اللہ کے راستہ میں نہ چلوں، اللہ کی اطاعت میں اپنی پیشانی خاک آلود نہ کروں، یا ان لوگوں کی مجلس میں شرکت نہ کروں جو بھلی اور حکمت کی باتوں کو ایسے ہی لے لیتے ہیں جیسے کہ پھل چنا جاتا ہے، تو میں یہ پسند کروں گا کہ کاش میں مر گیا ہوتا۔

(الشیخان أبی بکر وعمر: بروایت بلاذری: صفحہ 225)