سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نزدیک عمل ہی معیار برتری تھا
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں عمل ہی لوگوں میں برتری کا پیمانہ تھا، چنانچہ ایک مرتبہ جب آپؓ کے پاس قریش کے کئی اکابرین آئے، جن میں پیش پیش سہیل بن عمرو بن حارث اور ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ تھے اور دوسری طرف ماضی میں قریش کی غلامی میں رہ چکے کچھ ایسے لوگ بھی آئے جنہوں نے اسلام لانے میں سبقت کی تھی، جیسے صہیب اور بلال رضی اللہ عنہما وغیرہ۔
آپؓ نے ملاقات کی اجازت دینے میں ان محتاج غلاموں کو اولیت دی، اور قریش کے اکابرین اور ان بزرگوں کو بعد میں اجازت دی تو اکابرین قریش یہ عمل دیکھ کر بہت غصہ ہوئے، ابو سفیانؓ اپنے بعض ساتھیوں سے کہنے لگے: میں نے آج کی طرح ہوتے کبھی نہیں دیکھا تھا، حضرت عمر فاروقؓ نے ان غلاموں کو ملاقات کی اجازت دے دی، اور ہمیں دروازے پر کھڑا رکھا؟ حضرت سہیل رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں بھی آپ لوگوں کی ناراضی کو سمجھتا ہوں، اگر آپ لوگوں کو بہت غصہ آتا ہے تو اپنے اوپر غصہ کرو، وہ لوگ اسلام کی طرف بلائے گئے اور تمہیں بھی بلایا گیا، لیکن انہوں نے جلدی کی اور تم نے تاخیر کی، بتاؤ! قیامت کے دن کیا کرو گے جبوہ پہلے بلا لیے جائیں گے اور تم پیچھے رہ جاؤ گے۔
(مناقب عمر: صفحہ 129، فن الحکم: صفحہ 367)