Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حدیث مدینہ العلم

  مولانا ثناء اللہ شجاع آبادی

حدیث مدینہ العلم

 عن علي قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم  أنا دار الحكمة و على بابها . (رواه الترمذی)

ترجمہ: حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول الله  نے ارشاد فرمایا میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں"۔ (جامع ترمذی)

اس حدیث کی استنادی بحث سے قبل برصغیر کے ممتاز عالم مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللہ علیہ کی  تشریح ملاحظہ فرمائیے:

معلوم رہے کہ حضرت علیؓ صغر سنی ہی میں رسول اللہﷺ کی دعوت پر اسلام لائے  اور اس کے بعد برابر آپﷺ کی تربیت اور صحبت میں رہے اس لئے آپ کی تعلیم سے استفادہ میں ان کو ایک درجہ خصوصیت حاصل ہے۔ اسی بناءپر حضورﷺ کا ان کے بارے میں یہ ارشاد فرمانا بظاہر درست معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اس سے یہ سمجھنا اور یہ نتیجہ نکالنا کہ بس حضرت علیؓ ہی حضورﷺ کے ذریعے آئے ہوئے علم و حکمت کے حامل و وارث تھے اور ان ہی کے ذریعہ اس کو حاصل کیا جاسکتا ہے اور ان کے سوا کسی دوسرے سے حضورﷺ  کے لائے ہوئے علم و حکمت کو حاصل نہیں کیا جا سکتا، انتہائی درجہ کی نافہمی ہے، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ الله تعالی نے رسول اللہﷺ کو اُمیّین میں اپنا رسول بنا کر بھیجا جو ان کو الله تعالی کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں اور کتاب الله اور حکمت کی ان تعلیم دیتے ہیں۔ قرآن مجید کی یہ آیتیں بتلاتی ہیں کہ رسول اللہﷺ سے کتاب وحکمت کی تعلیم اپنے اپنے ظرف اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق تمام صحابہ کرامؓ نے پائی، لہذا یہ سبھی حضور  کے ذریعہ آئے ہوئے علم و حکمت کا ذریعہ اور دروازہ ہیں۔ 

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آنحضرتﷺ کی دعوت پر حضرت علی رضی الله تعالی عنہ جب اسلام لائے تو جیسا کہ لکھا جا چکا ہے کہ وہ صغیرالسن تھے ان کی عمر مشہور ان روایات کے مطابق صرف آٹھ یا دس سال یا اس سے کچھ زیادہ تھی اور آنحضرتﷺ تعلیم سے استفادہ کی وہی استعداد اور صلاحیت اس وقت ان کو حاصل تھی جو فطری طور پر اس عمر میں ہونا چاہیے لیکن صدیق اکبرؓ نے اسی دن جب حضور کی دعوت پر اسلام قبول کیا تو ان کی عمر چالیس سال کی ہو چکی تھی اور فطری طور پر ان کو استفاده  کی وہ کامل  استعداد اور صلاحیت حاصل تھی  جواس عمر میں ہونی چاہیے۔ اس لئے رسول اللہﷺ کے ذریعے سے آئے ہوئے علم وحکمت میں ان کا حصہ دوسرے تمام صحابه کرامؓ سے مجموعی طور پر زیادہ تھا۔

رسول اللہﷺ نے اپنے مرض وفات میں ان کو اپنی جگہ نماز کا امام مقرر فرمایا یہ بھی حضور اکرمﷺ کی طرف سے حضرت صدیق اکبرؓ  کے اعلم  بالکتاب والحکمت ہونے کی سند تھی پھر صحابہ کرام نے بالاتفاق ان کو آنخضرتﷺ کا خلیفہ اور امت کا امام تسلیم کر کے عملی طور پر اس کا اعتراف کیا اور گویا اس حقیقت کی شہادت دی۔

نیز یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ مختلف صحابہ کرام کے بارے میں رسول اللهﷺ نے علم دین کے مختلف شعبوں میں ان کے تخصص اور امتیاز کا ذکر فرمایا ہے، جیسا کہ مناقب کے سلسلہ میں متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔

پھر اس واقعی حقیقت میں کس کو شک وشبہ کی گنجائش ہوسکتی ہے کہ حضرات تابعین ؒ نے مختلف صحابہ کرامؓ سے حضورکا لایا ہوا علم حاصل کیا، جس کو اللہ تعالی نے محدثین  کے ذریعہ حدیث کی کتابوں میں محفوظ کرا دیا اور اسی سے قیامت تک امت کو رہنمائی ملتی  رہے گی۔ ذلك تقدير العزيز العليم

 1-حدیث ہذا کی استنادی حیثیت

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ابن الجوزی اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ وغیرہ ناقد محدثین نے زیر تشریح اس حدیث’’انا دار الحكمة۔۔۔ الخ‘‘ کو موضوع قرار دیا ہے، خود امام ترمذی نے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے:"هذا حديث غريب منکر“۔ بہر حال یہ حدیث غریب اور منکر ہے، یعنی محدثین کے نزدیک غیرمقبول اور نا قابل استناد ہے۔ (معارف الحدیث، حصہ ہشتم، 250)

?محدثین کرام کی ایک بہت بڑی تعداد نے اس روایت کو موضوع (من گھڑت قرار دیا ہے)، جبکہ اس کو  صحیح قرار دینے والے صرف ابو عبداللہ الحاکم ہیں جنہوں نے ان "المستدرک علی الصحیحین" میں اس کو صحیح قرار دیا۔

?حاشیہ: (مستدرک امام حاکم کی تصحیحات کو محدثین نے قبول نہیں کیا انکا شمار شدید متساہل  محدثین میں کیا گیا ہے حتیٰ کہ ان کو ابن حبان سے زیادہ متساہل قرار دیا گیا ہے اور ان پر "مقارب في التساہل" کا حکم لگایا گیا ہے۔ (تقریب النووی مع مصطلع الزاوی ص5) علامہ ذہبی نے مستدرک حاکم کی تلخیص کی ہے اور بہت ساری احادیث پر ضعف‘ کا حکم لگایا ہے اور ایک جزو میں وہ احادیث جمع کی ہیں جو مستدرک حاکم میں مذکور ہیں لیکن وہ موضوع ہیں اور ان کی تعداد سو کے لگ بھگ ہے۔(تفہیم الراوی شرح تقریب النووی ص53)امام ذہبی نے حاکم پر اس حوالہ سے شدید تنقید کی ہے کہ بہت ساری ساقط احادیث کی مستدرک میں انہوں نے تصحیح کی ہے اور کہا ہے کہ میں نہیں جانتا کہ کیسے اس پر یہ روایات محفی رہ گئیں حالانکہ وہ ان سے بے خبر رہنے والے نہیں تھے، اگر ایسا جان بوجھ کر کیا ہے تو یہ ان کی عظیم خیانت ہے۔ (میزان الاعتدال: 216/6) علامہ ذہبی نے ایک اور مقام پر ان پر یوں تبصرہ کیا ہے"حاکم کو اللہ سے شرم  نہیں آتی کہ وہ اس جیسی (باطل) روایات کو صحیح قرار دیتا ہے۔ (میزان الاعتدال 264/7) امام حاکم نے ایک روایت کی سند کے متعلق مستدرک میں کہا" یہ سند صحیح ہے اس پر کوئی غبار نہیں" اس پر علامہ ذہبی   کہتے ہیں  یہ تو سراسر اندھیر ہے اس پر کوئی نور نہیں“۔ (میزان الاعتدال 52/7) بہر حال امام حاکم کا تساہل اس حوالہ سے انتہائی معروف ہے، محدثین ان کی"تصحیح" روایت کو قبول نہیں کرتے۔ ان کے تساہل کے اسباب و وجوہات پر حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب نے (درس ترمذی 6/1۔74) میں بہت خوب وضاحت فرمادی ہے۔اصحاب ذوق رجوع فرمائیں۔)

وہ علماء جنہوں نے اس کو حسن کہا:

ا۔ حافظ العلائی نے اپنی کتاب "النقدا الصحيح لما اعترض علیہ من  احادیث المصابیح“(ص55) میں اس روایت کو حسن کہا ہے۔

حاشیہ: ("حسن اس حدیث کو کہتے ہیں جس کا کوئی راوی "ضعيف الضبط" ہو( یعنی  اس کی یادداشت ناقص ہو اور صحیح لذاتہ کی سب شرطیں اس میں موجود ہوں (یعنی تمام راوی عادل ہوں اور حدیث کی روایت بغیر شذوذ اورعلت  کے متصلاً ہوئی ہوتو وہ حدیث حسن ہوگی (نخبۃ الفكر /قاموس اصطلاحات حدیث) یہاں اس مقام پر جن بعض علماء نے اس  روایت کوحسن قرار دیا ہے اس کی وجہ فقط  اس روایت کے طرق کا کثیر ہونا ہے حالانکہ کسی  روایت کے حسن ہونے کی یہ کوئی وجہ  نہیں قرار دی جاسکتی۔یہ  ان علماء کا تساہل  ہے کیونکہ اس روایت میں "شذوذ" اور "علتیں" موجود ہیں)

2۔ ابن حجر عسقلانی نے ایک سوال کے جواب میں اس کو حسن کہا۔ سیوطی کہتے ہیں کہ شیخ الاسلام ابوالفضل ابن حجر سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: اس حدیث کو حاکم نے مستدرک میں ذکر کیا ہے اور اس کو  صحیح قرار دیا، ابوالفرج ابن الجوزی نے اس کو موضوعات میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ یہ روایت جھوٹی ہے، لیکن درست بات یہ ہے کہ ان دونوں کی بات درست نہیں۔

یہ روایت حسن کی قسم سے ہے جو حجت کونہیں کہ پہنچتی اور نہ اس درجہ کی کہ جھوٹی قرار دی جائے۔ (الآ لی المصنوعة 334/1) اور "اجوبۃ علی احادیث المصابیح" جو کہ شیخ البانی کی تحقیق کے ساتھ "مشکوۃ الصابیح‘‘ کے آخر میں طبع کی گئی ہے اس میں ابن حجر کا قول نقل کیا گیا ہے کہ حدیث ضعیف ہے اور جائز ہے کہ اس پر”حسن“ کا اطلاق کیا جائے اور لسان المیزان (123/2) میں کہا کہ اس حدیث کے طرق بہت زیادہ ہیں مستدرک حاکم میں، کم از کم ان کی کوئی نہ کوئی اصل ضرور ہوگی ، اس لئے اس پر وضع کا حکم لگانا مناسب نہیں۔ ( حالانکہ مستدرک کے طرق انتہائی واہی ہیں)۔

حاشیہ: (ان حضرات کا اس روایت کو حسن قرار دینا درست نہیں ہے ان کا تساہل ہے علامہ ابن حجر تو اس حوالہ سے خاصی شہرت رکھتے ہیں کہ وہ خود اپنے ہی بیان کردہ اصولوں کے خلاف احادیث کی تصحیح و تحسین کر جاتے ہیں اور یہی حال اس مقام پر بھی ہے کہ خود علامہ ابن حجر نے شرح نحبۃ الفکر میں بیان کیا کہ وہ حدیث جس کا راوی متہم بالکذب ہو اور وہ اس کے علاوہ کسی اور سند سے مروی ہولیکن شاذ نہ ہو تو وہ ہمارے نزدیک حسن ہوگی یعنی امام ابن حجر کے نزدیک روایت کے حسن ہونے کے لیے"کثرت طرق" اور "شاذ‘‘ نہ ہونا ضروری ہے جبکہ زیر  بحث روایت کے تمام طرق میں متہم بالکذب راوی موجود ہیں اور یہ بات علامہ ابن حجر کے قاعدہ کے خلاف ہے کیونکہ انہوں نے کہا کہ متہم بالکذب کے علاوہ دوسری سند سے مروی ہو یعنی دوسری سند میں غیر متہم بالکذب رواۃ ہوں لہذا یہ شرط بھی زیر نظر روایت میں موجو نہیں لیکن دوسری شرط کہ وہ شاذ نہ ہو اور شذوز تو  اس روایت میں  پھر بھی ہے تو ان سے صرف نظر کر کے علامہ ابن حجر نے کیسے اس کو حسن قرار دیا؟ ایسی ہی وجوہات ہیں کہ علامہ ابن حجر و"متساہل‘‘ قرار دیا گیا ہے لہذا ان کی تصحیح و تحسین محل نظر ہوتی ہے۔)

3۔ علامہ سخاوی نے ’المقاصد الحسنہ“ میں اس کو حسن کہا ہے۔ (رقم 193)

4۔ علامہ شوکانی نے ”الفوائد المجموعہ" میں اس کو حسن کہا ہے۔(ص 349)

وہ کثیر علماء جنہوں نے اس روایت کو ضعیف یا موضوع قرار دیا

1۔ امام احمد نے اس روایت کو ”منکر“ قرار دیا۔ (العلل ومعرفة الرجال رقم 308/1، المنتخب من العلل لخلال ، رقم 13، تاریخ بغداد، 49/11)

2۔  امام بخاری نے بھی اس کو ”منکر“ کہا۔ (العلل الكبیر للترمذی (942/2)

مزید کہا کہ اس کی کوئی سندنہیں۔ (المقاصدالحسنہ للسخاوی رقم 189) 

3۔ یحییٰ بن معین نے کہا یہ روایت جھوٹ ہے اس کی کوئی اصل نہیں۔ (سوالات ابن الجنید رقم 51 )۔

4۔  امام ترمذی نے اس کو غریب منکر“ کہا۔ (جامع الترمذی 596/5)

5- امام عقیلی نے کہا کہ اس متن کی کوئی بھی روایت صحیح نہیں۔ (الضعفاء: 150/3)

6- ابن حبان نے کہایہ ایسی شئی ہے جس کی ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی احادیث میں کوئی اصل نہیں اور نہ ہی مجاہد سے اس کی کوئی اصل ثابت ہے۔ اسی طرح اعمش سے بھی اس کی کوئی اصل نہیں، اور نہ ابو معاویہ نے اسے کبھی بیان کیا(یہ ابن حبان کا اجتہاد ہے وگرنہ ابو معاویہ پہلے پہل اس کو اعمش سے بیان کرتے تھے بعد میں اس سے رک گئے اس کی تفصیل آگے آئے گی ۔شائد ابن حبان اس پر مطلع نہ ہو سکے ہوں) اور جتنی بھی روایت نقل کی گئی ہے اس متن کی یہ  سارے کا سارا ابی الصلت سے سرقہ شدہ ہے اگر چہ اس کی اسناد میں الٹ پلٹ کیا گیا ہے۔ (المجر وجین 94/2، 152/2) مزید کہا کہ اس روایت کی آپ رضی اللہ تعالی عنہ سے کوئی اصل نہیں۔ (المجروحین: 94/2) ۔

7. ابوافتح الازدی نے کہا کہ اس باب میں کوئی شئی صحیح نہیں۔(البدایہ والنہایہ 96/11)

8- دارقطنی نے کہایہ روایت مضطرب ہے اور ثابت نہیں ۔ (العلل: 248/3) ۔

9۔ علامہ ابن الجوزی نے اس پر وضع‘‘ کا حکم لگایا ہے۔ (الموضوعات: 533/1)

10۔ اسی طرح علامہ ذہبی نے بھی اس کو موضوع کہا ہے۔ (میزان الاعتدال: 415/1،  668/3 ، تلخیص المستدرک: 126/3 ۔ اور تذکرة الحفاظ: 1231/4 میں کہا کہ یہ حدیث  صحیح نہیں) -

11۔ نجم الدین محمد بن محمد الغزی الدمشقی نے کہا کہ اس روایت کے تمام طرق ضعیف اور وائی ہیں۔ (اتقان مایحسن من الاخبار الدائرہ علی الالسن: 126/1)

12۔ علامہ عبدالرحمان المعلمی نے بھی اس پر وضع کا حکم لگایا ہے۔ (حاشیہ فوائد المجموعہ للشوکانی ص 349) ۔

13۔ اسی طرح شیح ناصرالدین البانی نے بھی اس کو موضوع قرار دیا ہے (ضعیف الجامع الصغیر: رقم 1322)

روایت مدینتہ العلم کی تحقیق پرایک عرب عالم ابو عبد العزيز خلیفہ بن ارحمه بن جہام  کے مفصل مقالےکا اردو ترجمہ سید فاروق حسین کے نام سے مشرق للنشر والتوزیع اردو بازار  لاہور نے شائع کیا ہے۔ زیر نظر مضمون میں اس سے بھی  استفادہ کیا گیا ہے۔ 

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ کی مفصل جرح

شیخ السلام علامه ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے منہاج السنۃ میں اس حدیث پر مفصل بحث کی ہے، آپ فرماتے ہیں: ۔

"حدیث انا مدينة العلم وعلى بابها انتہائی ضعیف اور انتہائی "واہی"  ہے لیے اس کو من گھڑت احادیث میں شمار کیا جاتا ہے اگر چہ اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔ (اور کہا ہے کہ یہ روایت غریب منکر ہے ) ابن الجوزی نے اس کے سارے طرق کو ذکر کیا اور واضح کیا کہ یہ روایت موضوع ہے اور جھوٹ تو نفس متن سے پہچانا جا رہا ہے۔ اس لئے کہ اگر آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کوعلم کا شہر مان لیا جائے اور سوائے ایک دروازے کے اور کوئی دروازه تسلیم نہ کیا جائے تو علم سوائے ایک کے اور کسی سے نہیں پہنچ سکتا۔ اگر اس بات کو تسلیم کرلیا جائے تو اسلام کی بنیاد فاسد ہو جاتی ہے۔ اس لیے کہ اس بات پر تمام مسلمین کا اتفاق ہے کہ علم کو اپنا فقط ایک فردسے نہ ہو بلکہ لازمی ہے کہ بہت سارے مبلغ ہوں کہ ان پر تواتر صادق آئے تا کہ غائب کے لئے خبر سے علم یقینی حاصل ہو اور خبر واحد تو علم کا فائدہ نہیں دیتی مگر قرائن کے ساتھ ۔ اس صورت میں تو علم مثفی ہوجائے گا اکثر لوگوں سے اور ان کو قرآن اور سنت متواتره کاعلم حاصل نہ ہو سکے گا۔

سوال: جب ’’ایک معصوم‘‘ ہو (یعنی خبر واحد معصوم سے ہو) تو اس کی خبر سے  علم حاصل ہو جاتا ہے؟

جواب: پھر سب سے پہلے علم کے ذریعہ اس کی عصمت ثابت کرنی ہوگی اور عصمت مجرد خبر سے ثابت نہیں کی جاسکتی، اس کی عصمت کے علم سے پہلے اس طرح تو دور لازم آئے گا جو کہ باطل ہے) اور نہ ہی عصمت اجماع سے ثابت ہے اس لئے کہ اس میں اجماع ہے ہی نہیں یعنی انبیاء کے علاوہ میں عصمت پراجماع نہیں ہے) ۔

اور" امامیہ" کے نزدیک اجماع حجت ہوتا ہے اس صورت میں کہ اس میں امام معصوم ہواور یہاں ایسی کوئی صورت نہیں پائی گئی لیکن بات پھر لوٹ آئی اسی جانب کہ عصمت کا اثبات فقط دعوے کی  بنیاد پر نہیں ہوسکتا پس معلوم ہوگیا کہ عصمت اگر ثابت ہوتی تو لازمی اس کی تعلیم خبر کے علاوہ کسی اور طریق پر ہوتی، پس اگر شہر علم کا درواز ہ سوائے ان کے کوئی نہ ہو تو نہ یہ ثابت ہوا نہ عصمت، اور نہ اسی طرح کوئی امور دین میں سے کوئی امر ثابت ہوسکتا ہے۔

پس معلوم ہوا کہ اس روایت کو کسی زندیق نے گھڑا ہے جو انتہائی جاہل ہے کہ اس نے اس کو حضرت علیؓ کی مدح خیال کیا جبکہ یہ زنادقہ کی راہ ہے دین اسلام کی قدح کی طرف۔ کہ اسلام فقط ایک ہی شخص (یعنی حضرت علیؓ  )سے پہنچا ہے۔

پھر یہ تواتر کے اصول کے خلاف بھی ہے، اس لئے کہ تمام شہروں میں اسلام پہنچا ہے علی رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ رسول اللهﷺ  سے، مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کا معاملہ تو ظاہر ہے اسی طرح شام اور بصرہ میں بھی اس لئے کہ صحابہ کرام سوائے چند روایات کے باقی سب تو دیگر سے روایت کرتے ہیں اور علم کا غالب حصہ تو کوفہ میں تھا اور کوفہ والے قرآن و سنت کے عالم تھے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت سے بھی پہلے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ تو ان کے بعد آ ئے۔

اور فقہاء مدینہ خلافت عمر ؓمیں دین کی تعلیم دیتے تھے اور معاذ (بن جبل) اہل یمن کوعلم سکھاتے تھے اور وہ ان میں حضرت علی رضی الله تعالی عنہ سے زیادہ رہے اسی وجہ سے اکثر اہل یمن حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرنے والے کم ہیں اور شریح وغیرہ اکابر تابعین نے حضرت معاذ رضی الله تعالی عنہ سے فقہ حاصل کی۔ جب وہ آئے تو شریح اس وقت وہاں کے قاضی تھے اور وہ اورعبیدۃ السلیمانی دیگر تو پڑھاتے بھی تھے۔ تو علم اسلام شہروں میں ان (حضرت علیؓ) کے کوفہ آنے سے پہلے پھیل چکا تھا۔“ (منهاج السنۃ 6/7۔515)

ان دلائل کی بنا ء پرواضح طور پر یہ بات روشن ہوئی کہ یہ روایت (مدينة العلم) سنداً‘‘اور متناً‘‘ صحیح نہیں بلکہ انتہائی ”منکر“ ہے۔