حدیث مدینہ العلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث مدینہ العلم

  مولانا ثناء اللہ شجاع آبادی

صفحہ 1 از 3

حدیث مدینہ العلم

 عن علي قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم  أنا دار الحكمة و على بابها . (رواه الترمذی)

ترجمہ: حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول الله  نے ارشاد فرمایا میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں"۔ (جامع ترمذی)

اس حدیث کی استنادی بحث سے قبل برصغیر کے ممتاز عالم مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللہ علیہ کی  تشریح ملاحظہ فرمائیے:

معلوم رہے کہ حضرت علیؓ صغر سنی ہی میں رسول اللہﷺ کی دعوت پر اسلام لائے  اور اس کے بعد برابر آپﷺ کی تربیت اور صحبت میں رہے اس لئے آپ کی تعلیم سے استفادہ میں ان کو ایک درجہ خصوصیت حاصل ہے۔ اسی بناءپر حضورﷺ کا ان کے بارے میں یہ ارشاد فرمانا بظاہر درست معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اس سے یہ سمجھنا اور یہ نتیجہ نکالنا کہ بس حضرت علیؓ ہی حضورﷺ کے ذریعے آئے ہوئے علم و حکمت کے حامل و وارث تھے اور ان ہی کے ذریعہ اس کو حاصل کیا جاسکتا ہے اور ان کے سوا کسی دوسرے سے حضورﷺ  کے لائے ہوئے علم و حکمت کو حاصل نہیں کیا جا سکتا، انتہائی درجہ کی نافہمی ہے، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ الله تعالی نے رسول اللہﷺ کو اُمیّین میں اپنا رسول بنا کر بھیجا جو ان کو الله تعالی کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں اور کتاب الله اور حکمت کی ان تعلیم دیتے ہیں۔ قرآن مجید کی یہ آیتیں بتلاتی ہیں کہ رسول اللہﷺ سے کتاب وحکمت کی تعلیم اپنے اپنے ظرف اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق تمام صحابہ کرامؓ نے پائی، لہذا یہ سبھی حضور  کے ذریعہ آئے ہوئے علم و حکمت کا ذریعہ اور دروازہ ہیں۔ 

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آنحضرتﷺ کی دعوت پر حضرت علی رضی الله تعالی عنہ جب اسلام لائے تو جیسا کہ لکھا جا چکا ہے کہ وہ صغیرالسن تھے ان کی عمر مشہور ان روایات کے مطابق صرف آٹھ یا دس سال یا اس سے کچھ زیادہ تھی اور آنحضرتﷺ تعلیم سے استفادہ کی وہی استعداد اور صلاحیت اس وقت ان کو حاصل تھی جو فطری طور پر اس عمر میں ہونا چاہیے لیکن صدیق اکبرؓ نے اسی دن جب حضور کی دعوت پر اسلام قبول کیا تو ان کی عمر چالیس سال کی ہو چکی تھی اور فطری طور پر ان کو استفاده  کی وہ کامل  استعداد اور صلاحیت حاصل تھی  جواس عمر میں ہونی چاہیے۔ اس لئے رسول اللہﷺ کے ذریعے سے آئے ہوئے علم وحکمت میں ان کا حصہ دوسرے تمام صحابه کرامؓ سے مجموعی طور پر زیادہ تھا۔

رسول اللہﷺ نے اپنے مرض وفات میں ان کو اپنی جگہ نماز کا امام مقرر فرمایا یہ بھی حضور اکرمﷺ کی طرف سے حضرت صدیق اکبرؓ  کے اعلم  بالکتاب والحکمت ہونے کی سند تھی پھر صحابہ کرام نے بالاتفاق ان کو آنخضرتﷺ کا خلیفہ اور امت کا امام تسلیم کر کے عملی طور پر اس کا اعتراف کیا اور گویا اس حقیقت کی شہادت دی۔

نیز یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ مختلف صحابہ کرام کے بارے میں رسول اللهﷺ نے علم دین کے مختلف شعبوں میں ان کے تخصص اور امتیاز کا ذکر فرمایا ہے، جیسا کہ مناقب کے سلسلہ میں متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔

پھر اس واقعی حقیقت میں کس کو شک وشبہ کی گنجائش ہوسکتی ہے کہ حضرات تابعین ؒ نے مختلف صحابہ کرامؓ سے حضورکا لایا ہوا علم حاصل کیا، جس کو اللہ تعالی نے محدثین  کے ذریعہ حدیث کی کتابوں میں محفوظ کرا دیا اور اسی سے قیامت تک امت کو رہنمائی ملتی  رہے گی۔ ذلك تقدير العزيز العليم

 1-حدیث ہذا کی استنادی حیثیت

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ابن الجوزی اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ وغیرہ ناقد محدثین نے زیر تشریح اس حدیث’’انا دار الحكمة۔۔۔ الخ‘‘ کو موضوع قرار دیا ہے، خود امام ترمذی نے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے:"هذا حديث غريب منکر“۔ بہر حال یہ حدیث غریب اور منکر ہے، یعنی محدثین کے نزدیک غیرمقبول اور نا قابل استناد ہے۔ (معارف الحدیث، حصہ ہشتم، 250)

?محدثین کرام کی ایک بہت بڑی تعداد نے اس روایت کو موضوع (من گھڑت قرار دیا ہے)، جبکہ اس کو  صحیح قرار دینے والے صرف ابو عبداللہ الحاکم ہیں جنہوں نے ان "المستدرک علی الصحیحین" میں اس کو صحیح قرار دیا۔

?حاشیہ: (مستدرک امام حاکم کی تصحیحات کو محدثین نے قبول نہیں کیا انکا شمار شدید متساہل  محدثین میں کیا گیا ہے حتیٰ کہ ان کو ابن حبان سے زیادہ متساہل قرار دیا گیا ہے اور ان پر "مقارب في التساہل" کا حکم لگایا گیا ہے۔ (تقریب النووی مع مصطلع الزاوی ص5) علامہ ذہبی نے مستدرک حاکم کی تلخیص کی ہے اور بہت ساری احادیث پر ضعف‘ کا حکم لگایا ہے اور ایک جزو میں وہ احادیث جمع کی ہیں جو مستدرک حاکم میں مذکور ہیں لیکن وہ موضوع ہیں اور ان کی تعداد سو کے لگ بھگ ہے۔(تفہیم الراوی شرح تقریب النووی ص53)امام ذہبی نے حاکم پر اس حوالہ سے شدید تنقید کی ہے کہ بہت ساری ساقط احادیث کی مستدرک میں انہوں نے تصحیح کی ہے اور کہا ہے کہ میں نہیں جانتا کہ کیسے اس پر یہ روایات محفی رہ گئیں حالانکہ وہ ان سے بے خبر رہنے والے نہیں تھے، اگر ایسا جان بوجھ کر کیا ہے تو یہ ان کی عظیم خیانت ہے۔ (میزان الاعتدال: 216/6) علامہ ذہبی نے ایک اور مقام پر ان پر یوں تبصرہ کیا ہے"حاکم کو اللہ سے شرم  نہیں آتی کہ وہ اس جیسی (باطل) روایات کو صحیح قرار دیتا ہے۔ (میزان الاعتدال 264/7) امام حاکم نے ایک روایت کی سند کے متعلق مستدرک میں کہا" یہ سند صحیح ہے اس پر کوئی غبار نہیں" اس پر علامہ ذہبی   کہتے ہیں  یہ تو سراسر اندھیر ہے اس پر کوئی نور نہیں“۔ (میزان الاعتدال 52/7) بہر حال امام حاکم کا تساہل اس حوالہ سے انتہائی معروف ہے، محدثین ان کی"تصحیح" روایت کو قبول نہیں کرتے۔ ان کے تساہل کے اسباب و وجوہات پر حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب نے (درس ترمذی 6/1۔74) میں بہت خوب وضاحت فرمادی ہے۔اصحاب ذوق رجوع فرمائیں۔)

وہ علماء جنہوں نے اس کو حسن کہا:

ا۔ حافظ العلائی نے اپنی کتاب "النقدا الصحيح لما اعترض علیہ من  احادیث المصابیح“(ص55) میں اس روایت کو حسن کہا ہے۔

صفحہ 1 از 3