حدیث مدینہ العلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث مدینہ العلم

  مولانا ثناء اللہ شجاع آبادی

صفحہ 2 از 3

حاشیہ: ("حسن اس حدیث کو کہتے ہیں جس کا کوئی راوی "ضعيف الضبط" ہو( یعنی  اس کی یادداشت ناقص ہو اور صحیح لذاتہ کی سب شرطیں اس میں موجود ہوں (یعنی تمام راوی عادل ہوں اور حدیث کی روایت بغیر شذوذ اورعلت  کے متصلاً ہوئی ہوتو وہ حدیث حسن ہوگی (نخبۃ الفكر /قاموس اصطلاحات حدیث) یہاں اس مقام پر جن بعض علماء نے اس  روایت کوحسن قرار دیا ہے اس کی وجہ فقط  اس روایت کے طرق کا کثیر ہونا ہے حالانکہ کسی  روایت کے حسن ہونے کی یہ کوئی وجہ  نہیں قرار دی جاسکتی۔یہ  ان علماء کا تساہل  ہے کیونکہ اس روایت میں "شذوذ" اور "علتیں" موجود ہیں)

2۔ ابن حجر عسقلانی نے ایک سوال کے جواب میں اس کو حسن کہا۔ سیوطی کہتے ہیں کہ شیخ الاسلام ابوالفضل ابن حجر سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: اس حدیث کو حاکم نے مستدرک میں ذکر کیا ہے اور اس کو  صحیح قرار دیا، ابوالفرج ابن الجوزی نے اس کو موضوعات میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ یہ روایت جھوٹی ہے، لیکن درست بات یہ ہے کہ ان دونوں کی بات درست نہیں۔

یہ روایت حسن کی قسم سے ہے جو حجت کونہیں کہ پہنچتی اور نہ اس درجہ کی کہ جھوٹی قرار دی جائے۔ (الآ لی المصنوعة 334/1) اور "اجوبۃ علی احادیث المصابیح" جو کہ شیخ البانی کی تحقیق کے ساتھ "مشکوۃ الصابیح‘‘ کے آخر میں طبع کی گئی ہے اس میں ابن حجر کا قول نقل کیا گیا ہے کہ حدیث ضعیف ہے اور جائز ہے کہ اس پر”حسن“ کا اطلاق کیا جائے اور لسان المیزان (123/2) میں کہا کہ اس حدیث کے طرق بہت زیادہ ہیں مستدرک حاکم میں، کم از کم ان کی کوئی نہ کوئی اصل ضرور ہوگی ، اس لئے اس پر وضع کا حکم لگانا مناسب نہیں۔ ( حالانکہ مستدرک کے طرق انتہائی واہی ہیں)۔

حاشیہ: (ان حضرات کا اس روایت کو حسن قرار دینا درست نہیں ہے ان کا تساہل ہے علامہ ابن حجر تو اس حوالہ سے خاصی شہرت رکھتے ہیں کہ وہ خود اپنے ہی بیان کردہ اصولوں کے خلاف احادیث کی تصحیح و تحسین کر جاتے ہیں اور یہی حال اس مقام پر بھی ہے کہ خود علامہ ابن حجر نے شرح نحبۃ الفکر میں بیان کیا کہ وہ حدیث جس کا راوی متہم بالکذب ہو اور وہ اس کے علاوہ کسی اور سند سے مروی ہولیکن شاذ نہ ہو تو وہ ہمارے نزدیک حسن ہوگی یعنی امام ابن حجر کے نزدیک روایت کے حسن ہونے کے لیے"کثرت طرق" اور "شاذ‘‘ نہ ہونا ضروری ہے جبکہ زیر  بحث روایت کے تمام طرق میں متہم بالکذب راوی موجود ہیں اور یہ بات علامہ ابن حجر کے قاعدہ کے خلاف ہے کیونکہ انہوں نے کہا کہ متہم بالکذب کے علاوہ دوسری سند سے مروی ہو یعنی دوسری سند میں غیر متہم بالکذب رواۃ ہوں لہذا یہ شرط بھی زیر نظر روایت میں موجو نہیں لیکن دوسری شرط کہ وہ شاذ نہ ہو اور شذوز تو  اس روایت میں  پھر بھی ہے تو ان سے صرف نظر کر کے علامہ ابن حجر نے کیسے اس کو حسن قرار دیا؟ ایسی ہی وجوہات ہیں کہ علامہ ابن حجر و"متساہل‘‘ قرار دیا گیا ہے لہذا ان کی تصحیح و تحسین محل نظر ہوتی ہے۔)

3۔ علامہ سخاوی نے ’المقاصد الحسنہ“ میں اس کو حسن کہا ہے۔ (رقم 193)

4۔ علامہ شوکانی نے ”الفوائد المجموعہ" میں اس کو حسن کہا ہے۔(ص 349)

وہ کثیر علماء جنہوں نے اس روایت کو ضعیف یا موضوع قرار دیا

1۔ امام احمد نے اس روایت کو ”منکر“ قرار دیا۔ (العلل ومعرفة الرجال رقم 308/1، المنتخب من العلل لخلال ، رقم 13، تاریخ بغداد، 49/11)

2۔  امام بخاری نے بھی اس کو ”منکر“ کہا۔ (العلل الكبیر للترمذی (942/2)

مزید کہا کہ اس کی کوئی سندنہیں۔ (المقاصدالحسنہ للسخاوی رقم 189) 

3۔ یحییٰ بن معین نے کہا یہ روایت جھوٹ ہے اس کی کوئی اصل نہیں۔ (سوالات ابن الجنید رقم 51 )۔

4۔  امام ترمذی نے اس کو غریب منکر“ کہا۔ (جامع الترمذی 596/5)

5- امام عقیلی نے کہا کہ اس متن کی کوئی بھی روایت صحیح نہیں۔ (الضعفاء: 150/3)

6- ابن حبان نے کہایہ ایسی شئی ہے جس کی ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی احادیث میں کوئی اصل نہیں اور نہ ہی مجاہد سے اس کی کوئی اصل ثابت ہے۔ اسی طرح اعمش سے بھی اس کی کوئی اصل نہیں، اور نہ ابو معاویہ نے اسے کبھی بیان کیا(یہ ابن حبان کا اجتہاد ہے وگرنہ ابو معاویہ پہلے پہل اس کو اعمش سے بیان کرتے تھے بعد میں اس سے رک گئے اس کی تفصیل آگے آئے گی ۔شائد ابن حبان اس پر مطلع نہ ہو سکے ہوں) اور جتنی بھی روایت نقل کی گئی ہے اس متن کی یہ  سارے کا سارا ابی الصلت سے سرقہ شدہ ہے اگر چہ اس کی اسناد میں الٹ پلٹ کیا گیا ہے۔ (المجر وجین 94/2، 152/2) مزید کہا کہ اس روایت کی آپ رضی اللہ تعالی عنہ سے کوئی اصل نہیں۔ (المجروحین: 94/2) ۔

7. ابوافتح الازدی نے کہا کہ اس باب میں کوئی شئی صحیح نہیں۔(البدایہ والنہایہ 96/11)

8- دارقطنی نے کہایہ روایت مضطرب ہے اور ثابت نہیں ۔ (العلل: 248/3) ۔

9۔ علامہ ابن الجوزی نے اس پر وضع‘‘ کا حکم لگایا ہے۔ (الموضوعات: 533/1)

10۔ اسی طرح علامہ ذہبی نے بھی اس کو موضوع کہا ہے۔ (میزان الاعتدال: 415/1،  668/3 ، تلخیص المستدرک: 126/3 ۔ اور تذکرة الحفاظ: 1231/4 میں کہا کہ یہ حدیث  صحیح نہیں) -

11۔ نجم الدین محمد بن محمد الغزی الدمشقی نے کہا کہ اس روایت کے تمام طرق ضعیف اور وائی ہیں۔ (اتقان مایحسن من الاخبار الدائرہ علی الالسن: 126/1)

12۔ علامہ عبدالرحمان المعلمی نے بھی اس پر وضع کا حکم لگایا ہے۔ (حاشیہ فوائد المجموعہ للشوکانی ص 349) ۔

13۔ اسی طرح شیح ناصرالدین البانی نے بھی اس کو موضوع قرار دیا ہے (ضعیف الجامع الصغیر: رقم 1322)

روایت مدینتہ العلم کی تحقیق پرایک عرب عالم ابو عبد العزيز خلیفہ بن ارحمه بن جہام  کے مفصل مقالےکا اردو ترجمہ سید فاروق حسین کے نام سے مشرق للنشر والتوزیع اردو بازار  لاہور نے شائع کیا ہے۔ زیر نظر مضمون میں اس سے بھی  استفادہ کیا گیا ہے۔ 

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ کی مفصل جرح

شیخ السلام علامه ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے منہاج السنۃ میں اس حدیث پر مفصل بحث کی ہے، آپ فرماتے ہیں: ۔

صفحہ 2 از 3