حدیث مدینہ العلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حدیث مدینہ العلم

  مولانا ثناء اللہ شجاع آبادی

صفحہ 3 از 3

"حدیث انا مدينة العلم وعلى بابها انتہائی ضعیف اور انتہائی "واہی"  ہے لیے اس کو من گھڑت احادیث میں شمار کیا جاتا ہے اگر چہ اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔ (اور کہا ہے کہ یہ روایت غریب منکر ہے ) ابن الجوزی نے اس کے سارے طرق کو ذکر کیا اور واضح کیا کہ یہ روایت موضوع ہے اور جھوٹ تو نفس متن سے پہچانا جا رہا ہے۔ اس لئے کہ اگر آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کوعلم کا شہر مان لیا جائے اور سوائے ایک دروازے کے اور کوئی دروازه تسلیم نہ کیا جائے تو علم سوائے ایک کے اور کسی سے نہیں پہنچ سکتا۔ اگر اس بات کو تسلیم کرلیا جائے تو اسلام کی بنیاد فاسد ہو جاتی ہے۔ اس لیے کہ اس بات پر تمام مسلمین کا اتفاق ہے کہ علم کو اپنا فقط ایک فردسے نہ ہو بلکہ لازمی ہے کہ بہت سارے مبلغ ہوں کہ ان پر تواتر صادق آئے تا کہ غائب کے لئے خبر سے علم یقینی حاصل ہو اور خبر واحد تو علم کا فائدہ نہیں دیتی مگر قرائن کے ساتھ ۔ اس صورت میں تو علم مثفی ہوجائے گا اکثر لوگوں سے اور ان کو قرآن اور سنت متواتره کاعلم حاصل نہ ہو سکے گا۔

سوال: جب ’’ایک معصوم‘‘ ہو (یعنی خبر واحد معصوم سے ہو) تو اس کی خبر سے  علم حاصل ہو جاتا ہے؟

جواب: پھر سب سے پہلے علم کے ذریعہ اس کی عصمت ثابت کرنی ہوگی اور عصمت مجرد خبر سے ثابت نہیں کی جاسکتی، اس کی عصمت کے علم سے پہلے اس طرح تو دور لازم آئے گا جو کہ باطل ہے) اور نہ ہی عصمت اجماع سے ثابت ہے اس لئے کہ اس میں اجماع ہے ہی نہیں یعنی انبیاء کے علاوہ میں عصمت پراجماع نہیں ہے) ۔

اور" امامیہ" کے نزدیک اجماع حجت ہوتا ہے اس صورت میں کہ اس میں امام معصوم ہواور یہاں ایسی کوئی صورت نہیں پائی گئی لیکن بات پھر لوٹ آئی اسی جانب کہ عصمت کا اثبات فقط دعوے کی  بنیاد پر نہیں ہوسکتا پس معلوم ہوگیا کہ عصمت اگر ثابت ہوتی تو لازمی اس کی تعلیم خبر کے علاوہ کسی اور طریق پر ہوتی، پس اگر شہر علم کا درواز ہ سوائے ان کے کوئی نہ ہو تو نہ یہ ثابت ہوا نہ عصمت، اور نہ اسی طرح کوئی امور دین میں سے کوئی امر ثابت ہوسکتا ہے۔

پس معلوم ہوا کہ اس روایت کو کسی زندیق نے گھڑا ہے جو انتہائی جاہل ہے کہ اس نے اس کو حضرت علیؓ کی مدح خیال کیا جبکہ یہ زنادقہ کی راہ ہے دین اسلام کی قدح کی طرف۔ کہ اسلام فقط ایک ہی شخص (یعنی حضرت علیؓ  )سے پہنچا ہے۔

پھر یہ تواتر کے اصول کے خلاف بھی ہے، اس لئے کہ تمام شہروں میں اسلام پہنچا ہے علی رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ رسول اللهﷺ  سے، مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کا معاملہ تو ظاہر ہے اسی طرح شام اور بصرہ میں بھی اس لئے کہ صحابہ کرام سوائے چند روایات کے باقی سب تو دیگر سے روایت کرتے ہیں اور علم کا غالب حصہ تو کوفہ میں تھا اور کوفہ والے قرآن و سنت کے عالم تھے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت سے بھی پہلے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ تو ان کے بعد آ ئے۔

اور فقہاء مدینہ خلافت عمر ؓمیں دین کی تعلیم دیتے تھے اور معاذ (بن جبل) اہل یمن کوعلم سکھاتے تھے اور وہ ان میں حضرت علی رضی الله تعالی عنہ سے زیادہ رہے اسی وجہ سے اکثر اہل یمن حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرنے والے کم ہیں اور شریح وغیرہ اکابر تابعین نے حضرت معاذ رضی الله تعالی عنہ سے فقہ حاصل کی۔ جب وہ آئے تو شریح اس وقت وہاں کے قاضی تھے اور وہ اورعبیدۃ السلیمانی دیگر تو پڑھاتے بھی تھے۔ تو علم اسلام شہروں میں ان (حضرت علیؓ) کے کوفہ آنے سے پہلے پھیل چکا تھا۔“ (منهاج السنۃ 6/7۔515)

ان دلائل کی بنا ء پرواضح طور پر یہ بات روشن ہوئی کہ یہ روایت (مدينة العلم) سنداً‘‘اور متناً‘‘ صحیح نہیں بلکہ انتہائی ”منکر“ ہے۔


صفحہ 3 از 3